معاہدہ امرِتسر ۔۔۔۔۔۔ خرید یا تاوان؟

تحریر: سائرس خلیل
کشمیر کی تاریح چھ ہزار سال سے زائد سالوں پر محیط ہے۔پہلی بار کشمیر مذہبی تعصب کی نظر 1586 میں ہوا اور غیر ریاستی افراد نے اکبر کی شکل میں کشمیر پر قبضہ کیا۔اُس کے بعد کشمیر 15مارچ 1846 تک غیر ریاستی افراد کے تسلط میں رہا۔ اِن دوسو ساٹھ سالوں میں غیر ریاستی افراد نے بے انتہا کشمیر کو لوٹا۔ ظلم ، قہر ، ناانصافیاں کشمیر کا مقدر بنی رہیں۔ اِسی دوران انگریز حکومت نے پنجاب حکومت کو شکست دی اورسکھ سلطنت پر ایک کروڑ پچاس لاکھ نانک شاہی(سکہ رائجُ الوقت) تاوان عائد کیا۔ جس کو سکھ سلطنت ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتی تھی۔ سکھ سلطنت نے 75لاکھ نانک شاہی ادا کر کہ کچھ علاقوں پر اپنی حکومت بحال کر دی اور باقی 75لاکھ نانک شاہی سکہ مہاراجہ گلاب سنگھ نے اپنی جیب سے ادا کر کے غیر ریاستی افراد کے تسلط سے کشمیر کو 260سال بعد آزاد کروایا۔ 16مارچ 1846 کو انگریز حکومت اور وارثِ کشمیر گلاب سنگھ کے درمیاں ایک معاہدہ امرتسر کے مقام پر تہہ پایا جِسے تاریح میں “معاہدہ امرتسر” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ معاہدہ دس دفعات پر مشتمل تھا۔ جو گلاب سنگھ اور اِیسٹ انڈیا کمپنی کے درمیان طہ پایا گیا تھا۔ اس معاہدے کے بعد 101 سال تک کشمیر ایک نِیم ریاست کر طور پر اِس زمین کے ٹکڑے پر رہا۔ پر 1947 میں ریاست جموں کشمیر کی شناخت کو کچلنے کی کوشش کی گئی۔اور اِس کے سینے پر ایک خونی لکیر کھینچ دی گئی جو آج تک نہ سلجھ پائی۔
خیر یہ ایک الگ بحث ہے۔ اِس کو پھر کبھی قلم تلے لیں گئے۔
یہاں ہم کشمیر کے متعلق تاواں اور خرید و فروحت پر نظر ڈالتے ہیں۔ اگر ایک بچہ اغوا ہو جائے اور ڈاکوں اُس کی رہائی کی قیمت طلب کرئں، بچے کے والدیں(وارث) اُس کی قیمت ادا کر کے اُس کو ڈاکوں کے چنگل سے چھوڑا لیں۔ تو کیا والدیں(وارث) اس کو خرید رہے ہیں؟ یا ڈاکوں اُس کو بیچ رہے ہیں؟ نہیں۔۔ نہیں بلکل ایسا نہیں ہو گا۔ بلکہ ایسے حالات میں ایک مخصوص ٹرم کا استعمال کیا جاتا ہے۔ جو کہ تاوان کہلاتی ہے۔ ھماری قوم کے سامنے تاریح کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔ کشمیر کے حوالے سے تاریح میں خرید و فروحت جیسا کوئی واقع نہیں ملتا۔ بلکہ تاوان کو غلط رُخ دے کر پیش کیا جاتا ہے۔ جو کہ تاریحِ کشمیر کے ساتھ اور آنے والی نسلوں کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔جس کی ہم پُرزور مذمت کرتے ہیں اور حکومتی سطح پر تاریحِ کشمیر کے حوالے سے مثبت اقدامات اٹھانے کی اپیل کرتے ہیں۔ اور اہلِ قلم سے گزارش ہے وہ تاریحِ کشمیر کے حوالے سے زیادہ سے زیادہ مواد قوم کے سامنے لانے کی کوشش کرئیں۔

تبصرہ جات بذریعہ فیس بک

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply