کیا ہم موجودہ بجٹ میں ترقی کر سکتے ہیں..!

آزاد کشمیر کا ترقیاتی بجٹ  تیره ارب روپے کا ہے.آئیں ہم اپنے طور پر اس تیره ارب کے ترقیاتی منصوبے بناتے ہیں اور دیکهتے ہیں کہ  اگر ہم اس تیره ارب روپے کا درست استعمال کریں تو  ہماری تقدیر بدلنے میں کتنا عرصہ لگے گا. آزاد کشمیر میں  ایک کلو میٹر  پکی روڈ کا تخمینہ اگر  ایک کروڑ روپے  لگائیں تو  تین ارب روپے میں ہم سالانہ تین سو کلومیٹر  اور پانچ سالوں  پندرہ سو کلومیٹر سڑکیں پکی بنا  سکتے ہیں. ایک ارب روپے  کی لنک روڈز اور سولنگ  وغیرہ سے ہم تقریبا  اگر ہم ایک کلومیٹر  کچی روڈ کا تخمینہ  تین لاکھ  لگائیں تو ہم ایک کروڑ روپے میں تیس کلومیٹر کچی سڑکیں بنا سکتے ہیں. اور پچیس کروڑ میں  750 کلومیٹر کچی سڑکیں بنا سکتے ہیں. اور پانچ سال میں 3750 کلومیٹر کچی سڑکیں بنا سکتے ہیں   اور ایک کلومیٹر میٹر سولنگ کا تخمینہ پانچ لاکھ روپے لگائیں تو ایک کروڑ روپے میں   بیس کلومیٹر اور 75 کروڑ میں  1500 کلومیٹر  سولنگ کرا سکتے ہیں.  اور پانچ سالوں میں 7500 کلومیٹر  سڑکوں کی سولنگ ہو سکتی ہے. 
اب اگر آزاد کشمیر کی 19 تحصیلوں کے تحصیل ہیڈ کوارٹرز  ہسپتالوں کو اگر ہم ایک ارب روپے سالانہ  دیتے ہیں جو فی تحصیل کے حساب سے تقریباً 5 کروڑ پچیس لاکھ روپے  آئے گا.اس سے ہم ہر تحصیل ہیڈ کوارٹر  اسپتال کو اپگریڈ کریں اور اس طرح ایک تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال کو پابچ سالوں میں 26 کروڑ روپے میں  بہترین  اور معیاری اسپتال بنا سکتے ہیں. اور اسی طرح  دس ڈسٹرکٹ اسپتالوں پر سالانہ ایک ارب روپے خرچ کریں تو فی  ڈسٹرکٹ  دس کروڑ سالانہ  اور پانچ سال میں  فی  ڈسٹرکٹ اسپتال پر پچاس کروڑ روپے خرچ کر کے  صحت کی بہترین سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں. ایک ارب روپے سالانہ بنیادی مرکز صحت  پر خرچ کریں تو 182 یونین کونسلوں میں فی یونین کونسل  55 لاکھ سالانہ بنیادی مرکز صحت پر خرچ کر کے  ہر یونین کونسل میں  بنیادی صحت کی سہولتیں فراہم کر سکتے ہیں. اور یوں پانچ سالوں میں  فی یونین کونسل 2 کروڑ 75 لاکھ روپے خرچ کر کے  لوگوں کو صحت کی بنیادی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کر سکتے ہیں. 
اب اگر  ہم تعلیمی اداروں کے لیے  ریاست کی 182 یونین کونسلوں کے لیے ایک ارب روپے  رکهیں. اگر ہر یونین کونسل میں  8 پرائمری سکولز 4 میڈل سکولز  دو گرلز اور دو بوائز  دو ہائی  سکولز  گرلز اور بوائز  ایک انٹر کالج  کے لیے  فی یونین کونسل  ایک کروڑ روپے  سالانہ خرچ کریں. 182 یونین کونسلوں میں  1 ارب 82 کروڑ   روپے بنتے ہیں
ایک ارب روپے  کالجز اور یونیورسٹیوں کے  لیے رکھ دیں. ایک ارب روپے  برقیات  پولیس  مال  اور  زراعت کے لیے رکهیں.  پچاس کروڑ  روپے سالانہ  فری ادویات کے لیے  رکهیں تو غریبوں کو  علاج معالجے کی  بہترین سہولتیں فراہم کی جا سکتی ہیں. اور پچاس کروڑ روپے  کے ہینڈز پمپ  فراہم کیے جائیں تو  اگر ایک ہیڈ پمپ پر  ایک لاکھ روپے رکهے جائیں تو  ایک یونین کونسل کو سالانہ 27 ہینڈز پمپس فراہم کیے جا سکتے ہیں اور پانچ سالوں میں ایک یونین کونسل کو  135 ہینڈز پمپس فراہم کیے جا سکتے ہیں. ریاست کی تمام یونین کونسلز میں 4914  سالانہ اور پانچ سالوں میں 24570 ہینڈز پمپس دیے جا سکتے ہیں. جس سے ریاست  میں  پانی کے مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے. اور  اگر ایک ارب روپے سالانہ ہم انتہائی غریب لوگوں کو  دو کمروں کیچن + باتھ روم  پر مشتمل گهر بنا کر دیں.  تو ایک گهر کا تخمینہ پانچ لاکھ روپے لگائیں تو بهی آپ ہر یونین کونسل میں  سالانہ گیارہ  افراد کی مدد کر سکتے ہیں .اور پوری ریاست میں 2 ہزار 2 گهر سالانہ  پانچ سالوں میں  ایک یونین کونسل میں 55 گهر اور پوری ریاست میں  10010 غریب لوگوں کو  چهت فراہم کی جا سکتی ہے.
آئیے ہم آپ کو پانچ سالوں میں  15 سو کلومیٹر پکی سڑکیں  7500 کلو میٹر سولنگ  3750 کلومیٹر  کچی سڑکیں  ہر یونین کونسل میں معیاری  بنیادی مرکز صحت  8 پرائمری سکولز  4 مڈل سکولز  دو ہائی سکولز  اور ایک انٹر کالج کی سہولت  فراہم کرتے ہیں.  24570 ہینڈز پمپس بے گهر افراد کو 10010 گهر فراہم کرتے ہیں.  ہر تحصیل میں  امن و امان کے لیے  معیاری پولیس سنٹر ہر تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال میں 26 کروڑ روپے کی لاگت سے  مفت معیاری  علاج ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال  50 کروڑ روپے  میں  بہترین طبی سہولیات  فراہم کرتے ہیں. ہم نے آپ کو ایک پانچ سالہ دور حکومت کی  کارکردگی بتا دی ہے اب یہ ذمہداری آپ کی ہے کہ آپ زیادہ نہیں تو گزشتہ  تیس سالوں  میں  قائم ہونے والی حکومتوں سے  یہ ضرور پوچهیں کے  حضور آپ کی کارکردگی  رپورٹ کیا ہے.  اور آپ نے کیا کیا ہے.
ورنہ  نعرے اور برادریوں کی سیاست میں  لگے رہیں. شکریہ. تحریر  محمد نصیر اینڈ افتخار بانیاں (نوٹ یہ ایک رف جائزہ ہے جس میں مال بنانے والے  تکنیکی  خرابی نکالیں گے )

image

Author: Naseer Chohan

تبصرہ جات بذریعہ فیس بک

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply