ایک مکالمہ

آج کا الیکشن کا موسم ہے اس لئے عوامی حقوق کا بخار بھی 104 ڈگرءہر پہنچا ہوا ہے۔ ساتھ ساتھ پاکستان اور عذاب کشمیر کے زعماء میں دو سیاسی جماعتوں کی وجہ سے آئے روز تلخ مگر محبت بھرے جملوں کا تبادلہ اہل برصغیر کو سننے کا موقع ملتا ہی رہتا ہے۔ ایسے میں وائسرائے کشمیر برجیس طاہر کا گزشتہ دنوں فخر لاڑکانہ کے مجاور سے یک۔۔۔۔۔ جہتی۔۔۔۔ کے روز ملاقات میں اسمبلی میں منہ لٹکائے نظر آئے۔ اس پر ایک طنزیہ خاکہ آپ سب کے حس مزاح کی نذر کرتا ہوں۔
٭٭٭٭
پاکستانی وزراءاپنے ادھ کھلے سر آقا کے ساتھ کشمیر کی اسمبلی میں داخل ہوئے۔ ہر وزیر باتدبیر کی یہی خواہش تھی کہ شہنشاہ اسلام سے قرب حاصل ہو مگر وہ کہاں عام نشستوں پر براجمان ہونے والے تھے۔ ان کے لیے مخصوص نشتسیں تھیں۔
پہلا وزیر: ہم حضور کی اس عزت افزائی پر کہ وہ دارالسکون سے یہاں تشریف لائے نہایت ہی شکر گزار ہیں۔
دوسرا وزیر: ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جناب شریف صاحب نے انتہائی شفقت اور شر اور آفت (معذرت شرافت) کا مظاہرہ کر کے اپنے شریف ہونے کا ثبوت پیش کیا اور کشمیری عوام کے ساتھ گزشتہ 70 سال سے جو یکجہتی اور سیاسی سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے اس کے شکر گزار ہیں۔
٭٭٭
سپیکر اسمبلی نے اللہ دین کی طرح حکم سناتے ہوئے کہا “اب ہم فخر لاڑکانہ کے مجاور کو اپنے خیالات کا اظہار کرنے کے لئے بلاتےہیں”
انہوں نے ایک نظر سپیکر کی طرف دیکھا پھر برجیس طاہر کی ادھ کٹی مونچھوں کو دیکھا کہ حالات کا تقاضا یہی تھا کہ پہلے برجیس کو مدعو کیا جائے۔ برجیس طاہر اٹھ کھڑے ہوئے
برجیس: میں پہاڑی بکروں کا صرف گوشت کھانے کا قائل ہوں ، ان کی میں میں سننے کا نہیں۔
مجاور: جناب وزیر اعظم، ہمیں آپ انتہائی عزیز ہیں اور ہم پاکستان سے محبت کرتے ہیں، مگر یہ ہماری عزت اور کشمیر کی قومی غیرت کا سوال ہے۔
نواز شریف نے بولنے کے لئے منہ کھولا ہی تھا کہ برجیس طاہر ٹپک پڑے
برجیس طاہر: وزیر اعظم صاحب میں نے پہلے ہی منع کیا تھا آپ مجھے پھر بھی گھسیٹ لائے میں اپنی گاڑی سے واپس جا رہا ہون مجھے بکروں کی میں میں بالکل پسند نہیں
مجاور: حضور ہم سے کوئی غلطی نہیں ہوئی ہم تو آقا کے نمک خوار ہیں اور نمک حلالی ہماری پشتوں سے چلی آ رہی ہے۔ہم نہیں چاہتے کہ ہمیں نمک حرامی پر مجبور کیا جائے۔
برجیس طاہر: بکرا اوہ نہیں بکری ، بکری کے بچے بھی ہوتے ہیں ان کے بچے بھی ہیں۔ بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی تم بکرے ہو اور اب چھرے چلنے والی ہے اس لئے اتنے سٹپٹا رہے ہو۔
نواز شریف ، شریفوں کی طرح منہ بسور رہے تھے
مجاور: جناب صدر یہ کشمیر ہے پاکستان نہیں یہ ہمارے آباء نے آزاد کروایا تھا اپنا خون بہا کر ہم کسی کے غلام نہیں۔
(ہلکی ہلکی سرگوشیاں)
برجیس طاہر: ارے وہ تو ہمارے قبائلی تھے ان کا احسان مانو اور تمہارے آباء نے اپنا نہیں دوسروں کا خون بہایا تھا۔ بغاوت کر کے۔۔ مان لو کہ تم پنجرے میں قید چڑیا ہو جو پر نہیں مار سکتی۔
مجاور: ہمارے پاس اسمبلی ہے، میں منتخب تین کروڑ لوگوں کا وزیر اعظم ہوں , اپنے وزراء کے زبان کو لگا دیں ہم کسی کی غلامی پسند نہیں کریں گے۔
(اسپیکر اسمبلی گنتے لگتے ہیں کہ تین کروڑ میں کتنے صفر آتے ہیں اور پھر اپنی مجموعی دولت کو کروڑوں میں انگلیوں پر گنتے ہیں اور ہلکے سے مسکرا دیتے ہیں)
برجیس طاہر: مان لو کہ تم پر ہمارا حکم چلتا ہے۔ تم خود کچھ نہیں کر سکتے
مجاور : مگر جناب وزیراعظم صاحب۔۔۔ ہم۔۔۔ہم۔۔ ہم۔م م م م م تو آزاد ہیں۔
(اسمبلی قہقوں سے گونج اٹھی)

Author: جواد احمد پارس

جواداحمدپارس کا تعلق پاکستانی زیر انتظام کشمیر سے ہے. آپ اقتصادیات کے طالب علم ہیں شاعر ، افسانہ نگار اور کالم نگار ہیں. کشمیری سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں

تبصرہ جات بذریعہ فیس بک

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply