کراچی میں کشمیر

(قسط اول)
جواداحمدپارس
اگست کی وہ تپتی دوپہریں جب وطن عزیر کی ٹھنڈی ٹھندی چھاﺅں اور ہلکی پھلکی صباءاپنی آغوش میں لوری دیا کرتی تھی مجھے کبھی نہیں بھول سکیں گی۔ جب میں نے دیار غیر کا فیصلہ کیا تھا۔ مظفرآباد سے نکلتے وقت اتنی بارش ہو رہی تھی کہ محسوس ہوتا تھاآج بادل آخری مرتبہ برس رہے ہوں اور معلوم نہیں کب منہ دکھائیں گے۔ لاہور تک کا سفر کسی طور بھی خوشگوار نہیں تھا ، عمران خان اور طاہر القادری نئے پاکستان کا خواب سجائے اور عصائے انقلاب اٹھائے اسلام آباد کی جانب پیش قدمی کر رہے تھے جیسے مسلم افواج اہلیان صلیب سے آخری معرکہ کرنے جا رہی ہوں۔ لاہور مجھے راس نہیں آیا جیسے کہ سب کہتے تھے لاہور لاہور ہے۔ بادشاہی مسجد مجھے مغلوں اور مسلمانوں کی عظمت رفتہ کی طرف لے گئی تو مینار پاکستان نے بے ساختہ زاہد حسن صاحب کی یاد دلا دی۔ جو ہمیں بارہویں جماعت میں مطالعہ پاکستان پڑھایا کرتے تھے (قصہ قابل بیان نہیں ہے البتہ میرے دوست جو اس کلاس میں موجود تھے یقینا یاد کر کے ہنسے ہوں گے) ۔ چند دن لاہوریوں کے مہمان رہے مگر چاول نہیں ملے ، کشمیری اور چاول نہ کھائے ، نا ممکن ہے۔ وہ کشمیر ی جو ایسے ممالک میں کیسے زندگی گزارتے ہوں گے جہاں چاول کو چاول کے طور پر نہیں کھایا جاتا (ابال کر)۔ شہر لاہور اپنی مثال آپ ہے اگر آپ لاہور سے ناواقف ہیں تو اہلیان پنجاب لا ‘ ہور (مزید دو) کے امریکن فارمولے یعنی(Do more)پر تن من دہن سے عمل کرتے ہیں۔ لاہور بس اڈے سے اگر آپ کو کلمہ چوک جانا ہوتو بیس سے تیس روپے کافی ہوں گے ، اگر انہیں تیس روپے کی جگہ ساڑھے سات سو روپے دینے پڑھ جائیں اور وہی سفر واپسی پر صرف بیس روپے میں میٹرو کے ذریعے ہو جائے تو ہے نا کمال، جی ہاں یہی کمال میرے ساتھ بھی ہوا۔ انٹرویو کامیاب رہا مگر روزانہ دو گھنٹے کا فاصلہ طے کرنا کافی مشکل کام ہے ۔ لاہور سے چند دنوں میں ہی تھک گیا اور کراچی کے لیے نیت باندھ لی۔
لاہور سے کراچی کے لیے رخت سفر باندھا جو ایک عدد بیگ ، کشمیریات کی چند کتابیں دو جوڑے کپڑوں پر مشتمل تھا ۔ شام چھے بجے کراچی کا پرگرام بنا۔ اور صبح چھ بجے ہم لاہوار کو اللہ حافظ کہہ رہے تھے۔ سٹیشن پر ایک سٹال پر مستنصر حسین تارڑ کی ”رتی گلی“ نظر آئی تو بے ساختہ وہ ٹھنڈی ہواﺅں کی سرسراہت کانوں کو سنائی دینے لگی مگر فوراََ ہی ہوش آ گئے کہ میاں تم دریائے نیلم کے کنارے نہیں بلکہ لاہور ریلوے سٹیشن پر کھڑے ہو۔ بہتراََ کوشش کی ”رتی گلی“ دستیاب ہو جائے مگر اس سٹال کے مالک کو دل ہی دل میں دو چار دعائیں دینے کے بعد اور کچھ نہ کہہ سکے جو اس وقت یقیناََ لمبی تان کر سو رہا ہوا ہو گا۔لاہور سے ملتان تک سوئے رہے ملتان سٹیشن سے پانی کی بوتل لی چند گھونت پیے اور ساتھ ہی رکھ دی کہ مزید پیاس کے وقت کام آئے گی مگر بھلا ہو اس برے آدمی کا جو ہمیں سوتا سمجھ کر ہماری ساری بوتل غٹ کر گیا اور ہمیں کانوں کان خبر بھی نہ ہونے دی۔ ہم نے آنکھ کھولی تو وہ ہماری پانی کی بوتل پی کر ہونٹوں پر زبان پھیر رہا تھا۔ اخلاقی ضروریات کی وجہ سے ہم کچھ نہ بول سکے اس لیے جیسے آنکھیں کھولی تھیں دوبارہ بند کر لیں اور ٹرین کی آواز کو سروں میں شمار کرنے لگے۔ تھوڑا آگے کوئی اور سٹیشن آیا ہم نے پھر پانی کی بوتل لی۔ اب کی بار ہم بیٹھے رہے تاکہ ہماری بوتل کوئی اٹھا نہ لے۔ مگر وہی صاحب دوبارہ ہم سے پوچھے بغیر ہماری بوتل غٹ کر گئے ہمیں غصہ تو بہت آیا کہ کہہ دیں ”میاں کشمیر آﺅ جتنا مرضی پی لینا ، ابھی ہم تمہارے علاقے میں ہیں ہمارا پانی مت پیو، اور اوپر سے میسر بھی نہیں ہے“ مگر خاموشی میں ہی عافیت جانی۔ اس سٹیشن سے ایک موصوفہ جو کہ خدوخال سے کافی بہتر تھیں مگر صحرا کی گرمی نے ان کے رنگ پر کافی اثر ڈالا تھا ، ہم مجنوں ہوتے تو کچھ سوچتے مگر ہم کشمیر سے ہیں وہاں آج تک کسی نے ایسی مجنوانہ حرکتیں نہیں کی ، موصوفہ ہمیں دیکھ کر مسکرائیں، ہماری چہرہ بھی کھل اٹھا کیونکہ فی الحال ہمارے والے ڈبے میں صاف ستھرے اصلی کشمیری رنگ میں ہم ہی دستیاب تھے۔ ان کی اس حرکت کی وجہ سے ہم بھی سیدھے ہو کر بیٹھ گئے۔ مگر ان کی اگلی حرکت کی وجہ سے جو اکثر خواتین شروع شروع میں کرتی ہیں ہم کو واپس اپنی حالت میں آنے پر مجبور کر دیا اور ہم ٹرین کی غیر مہذب کھڑکی سے باہر جھانکنے لگے ، غیر مہذب اس لیے کہ نہایت ہی چھوٹی تھی۔ سامنے دوسری سیٹ پر براجمان حضرت بھی انہی کوششوں میں مصروف تھے۔ جبکہ ٹرین کسی پردے کی طرح ہر منظر کو تبدیل کر رہی تھی۔ وہاں سے اکتا کر (دور دور تک فقط صحرا ہی تھا) ہم نے کشمیریات کی کتاب نکال لی۔ سامنے کی سیٹ پر بیٹھے ہوئے صاحب نے ہماری طرف غور سے دیکھا اور پہلی بار ان کے ہونٹ کھلے ، ” بیٹا کہاں سے ہو۔۔۔ ؟“ دل میں آئی کہ بول دوں ۔”یہی تم پانی پینے سے پہلے نہیں بول سکتے تھے؟“ مگر اس کی عمر کا لحاظ کیا جو کہ میرے نانا کی عمر سے قطعا کچھ زیادہ ہی رہی ہو گی۔ ”کشمیر سے ۔“ میں نے دو لفظوں میں مفہوم و معانی سے بھر پور جواب دیا۔۔۔ اس کے اگلے سوال نے مجھے چکرا دیا
”کون سے کشمیر سے۔۔۔۔ پاکستان والے سے یا۔۔۔ ہندوستان والے سے۔۔۔“چند لمحے میں نے سوچا کشمیر تو ایک ہی ہی یعنی ”کشمیر والا“ ۔۔۔ یہ پاکستان اور ہندوستان والا کہاں سے آ گئے ہیں ۔ میرا تخیل مجھے فوراََ ہی ”کشمیر ۔۔ شہ رگ۔۔۔ اور ا۔۔۔ اٹوٹ انگ“ تک لے گیا۔۔۔ اس بوڑھے آدمی کو یقینا میں نہیں سمجھا سکتا تھا اور میں بحث کے موڈ میں بھی نہیں تھا۔۔ ”پاکستان والے سے“ میں نے پھر جواب دیا۔۔
”اچھا اچھا۔۔۔۔ کراچی کیوں جا رہے ہو۔۔۔؟؟ ان کا اگلا سوال تھا۔۔ ”ہم نے غم جاناں اور غم روزگار کے قصیدے تو بہرحال نہیں سنائے۔۔ مگر صاف کہ دیا” ہمیںپڑھنا ہے“ اس کے بعد کافی دیر تک کوئی بات نہیں ہوئی۔۔
سامنے سنگل سیٹ پر بیٹھی کالی حسینہ ایک مرتبہ پھر ہماری طرف دیکھ کر مسکرائیں۔۔۔ ان کی مسکراہٹ یقینا ریگستان کا حسین شاہکار تھی۔۔ مونا لیزا نے جیسے یکدم مسکرایا ہو۔۔۔
ہم نے اس کی مسکراہٹ کو نظر انداز کر دیا اور بیرونی نظاروں کا مزا لینے لگے۔۔ باہر ایک گندے پانی کی نہر لیٹی ہوئی تھی۔ لیٹی اس لیے کہ دیکھنے سے معلوم نہیں پڑتا تھا کہ بہہ رہی ہے یا رکی ہوئی ہے۔۔ ایک طرف بوڑھی اماں ایک بڑا سا ڈنڈا لیے اپنے باہر کو نکلے ہوئے دانتوں کی جھاڑا پونچھی کر رہی تھیں چند گز کے فاصلے پر چند نوجوان عورتیں اپنے بچوں کی چڈیاں اور باقی کپڑے دھو رہی تھیں اور ساتھ ہی ان کے بچے اسی نہر میں خود کو مزید گندا کرنے میں مصروف عمل تھے(چونکہ پانی پہلے ہی سے گندا تھا تو وہ کسی چیز کو دھونے کا مستعمل ہو ہی نہیں سکتا تھا)اور ساتھ ہی چند بھینسیں بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہی تھیںبلکہ جسم پر پونچھا لگانے میںمصروف تھیں۔
میرے ساتھ مزید چار لوگ موجود تھے ان میں سے ایک سندھی تھا اور باقی تین ۔۔۔ مجھے بعد میں پتا چلا کہ ہندوستانی تھے اور پاکستان میں اپنے رشتہ داروں سے ملنے آئے تھے جو کہ کراچی میں مقیم تھے۔ ۔۔۔ سندھی شکل اور حلیے سے بڑا شاطر معلوم ہوتا تھا ۔۔۔ کابل سے لے کر تاﺅ بٹ اور مقبوضہ کشمیر تک کے قصے سنا رہا تھا ۔۔۔ مجھے یہ جان کر شدید حیرت ہوئی کہ وہ کشمیر کے حالات اور واقعات سے پوری طرح واقف تھا اس کے خیال میں بھی مسئلہ کشمیر کا واحد حل خود مختار کشمیر ہی تھا۔ ۔۔ گرچہ وہ لمبی لمبی ہانک رہا تھا مگر اس کی چند باتوں میں سچائی موجود تھی ۔۔۔
سٹیشن قریب آ چکا تھا (معلوم نہیں کون سا تھا) اور صحرائی حسینہ ایک مرتبہ پھر میری طرف غور سے دیکھ رہی تھی میں نے اس کی طرف دیکھا تو بے ساختہ مسکرانے لگی ۔مجنوں صحرا کا باشندہ تھا اس لیے اسے صحرائی حسینہ لیلا سے پیار ہوا۔ میں ہمالیائی آدمی ٹھہرا جہاں برف پڑتی ہے بڑی بڑی آبشاریں بہتی تھی اور موسم ہمیشہ خوشگوار رہتا ہے۔۔ (اس کا اندازہ کشمیر سے نکل کر ہوتا ہے )۔۔۔ اب کی بار میں اس کی طرف دیکھ کر مسکرایا نہیں کیونکہ مجھے محسوس ہوا اس کا مسکراہٹ طنزیہ ہے نہ کہ محبت بھری۔۔۔ اس سٹیشن پر وہ اتر گئی۔
سہہ پہر کے تین چار بج رہے تھے گاڑی شاید سندھ میں داخل ہو چکی تھی چونکہ میں راستوں سے ناواقف تھا ۔۔۔ گزشتہ شب کا لاہور کا روٹی اور چنوں کا کھایا ہوا اب ختم ہو چکا تھا اور معدہ لگا تار آہ و فغاں میں مصروف تھا ۔ میں نے ٹرین میں بسکٹ بیچنے والوں سے بسکٹ لیے اور ساتھ ہی ٹھنڈا مشروب بھی ۔۔ مہدے کو تھوڑا سکون دیا۔ ۔۔
مجھے اپنا چہرہ بھاری معلوم ہو رہا تھا اس لیے سوچا کہیں پانی اور شیشے کا انتظام ہو جائے تو اچھا رہے گا۔ ساتھ والے تایا جی کہیں جا کر کپڑے اور شیو بنوا یا بنا کر آ گئے تھے میں نے ان سے غسل خانے کا پتہ دریافت کیا تو وہ مجھے اپنے ساتھ لے گئے اور غسل خانے تک چھوڑ کر آئے۔۔ پہلی نظر شیشے مین دیکھنے کے بعد میری چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی ۔۔ کیونکہ وہاں تو کوئی اور کھڑا تھا ۔۔ میں نے اپنے پیچھے اور دائیں بائیں دیکھا کوئی نہیں تھا ۔۔ خود کو اکیلا پا کر مین نے اپنے چہرے پر ہلکی سی چٹکی کاٹی تو اپنے ہونے کا احساس ہوا مجھے یکمشت صحرائی حسینہ یاد آ گئی جو مجھے دیکھ کر مسکرا رہی تھی دراصل میرے چہرے پر پنجاب اور سندھ کے ریگستانوں کی اتنی مٹی جمع ہو چکی تھی کہ مٹی کا کھلونا لگنے لگا تھا اور اوپر سے پسینے نے رہتی کسر بھی پوری کر دی تھی ۔ یہی وجہ تھی کہ صحرائی حسینہ مجھے دیکھ کر مسکرا رہی تھی ۔
صابن وہاں دستیاب نہیں تھا۔۔ ٹرین کے کھارے پانی سے منہ کو خوب رگڑا ، منہ پر چکناہٹ عجیب لگ رہی تھی اور بالوں میں پانی ڈال کر تھوڑا جمانے کی کوشش کی ۔ چہرے کے علاوہ باقی حالات جوں کے توں رہے۔۔ ہم واپس ڈبے میں آ گئے۔ سو سو کر پہلے ہی تھک چکا تھا اس لیے اب میں نے سوچا کہ باہر کا نظارہ کر لیا جائے شام کے سائے لمبے ہوتے جا رہے تھے۔۔ سورج کہیں روپوش ہونے کی کوشش میں مصروف تھا مگر سہہ پہر کو میں نے اسے جہاں دیکھا تھا ابھی تک وہیں انگڑائیان لے رہا تھا البتہ چہرہ معدوم ہو چکا تھا جس سے لگ رہا تھا سورج میاں دن بھر روشنی دینے کے بعد اب سونے کے موڈ میں ہیں۔ دور دور تک پھیلے سندھ کے کھیت ، کھجور اور دیگر پھلوں کے درخت جن سے میں غیر مانوس تھا ہر طرف پھیلے ہوئے تھے۔ جہاں تک نظر جاتی تھی صحرا ہی صحرا تھا اور کھیت ہی کھیت تھے کہیں ہریالی تھی اور کہیں صرف خشک اڑتی ہوئی ریت۔
شام تک مین اپنے سا تھ موجود تمام لوگوں سے مانوس ہو چکا تھا انہوں نے اپنے ساتھ لائے ہوئے ہندوستانی بھنے ہوئے چنے پیش کیے جو کہ نہایت ہی لذیذ تھے ۔ اب ہلکی پھلکی گپ شپ شروع ہو چکی تھی ہندوستان کی باتیں ، پاکستان کی باتیں ، پنجاب ، سندھ، یوپی ، بہار اور ریگستانوں کی باتیں، یہ سب ٹرین کے سفر کا یقینا حصہ ہوتا ہے۔ سیاست سے لے کر معاشرت اور مہنگائی سے لے کر پڑوسیوں کے لڑکے کے ولیمے کی باتیں، اور سب بے کار کی باتیں۔اس کے باوجود یہاں کئی تہذیبوں کا حسین سنگم دیکھنے کو مل رہا تھا ۔ ہندوستان سے آئے ہوئے لوگ خوش تھے کہ وہ اپنے برسوں سے بچھڑے ہوئے رشتہ داروں بہنوں اور بھائیوں کو مل رہے ہیں جو ان کا کراچی سٹیشن پر انتظار کر رہے تھے ۔ میں پریشان تھا کہ میں کب اپنے برسوں کے بچھڑے رشتہ داروں سے ملوں گا جو کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں ہیںجن سے ملنے کی حسرت لیے ہماری دو نسلیں پہلے ہی داعی اجل کو لبیک کہہ چکی ہیں اور میں اس کا اظہار بھی کر رہا تھا۔ایک صاحب نے مجھے بھی دعوت دی وہ میری کشمیر پر فصیح و بلیغ تقریر سے کافی متاثر ہو چکے تھے اور بار بار مجھے میرے معقول علم کی داد بھی دے رہے تھے نے مجھے رات ان کے پاس ٹھہرنے کی پیشکش کی مگر دوسری طرف میرے چچا میرا انتظار کر رہے تھے ۔ میں نے ان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ وہ کراچی سے کچھ پہلے یا غالبا کراچی میں آ کر کہیں اتر گئے ۔ رات بارہ بجے کراچی کے کینٹ سٹیشن پر یہ سفر اختتام پذیر ہوا۔

Author: جواد احمد پارس

جواداحمدپارس کا تعلق پاکستانی زیر انتظام کشمیر سے ہے. آپ اقتصادیات کے طالب علم ہیں شاعر ، افسانہ نگار اور کالم نگار ہیں. کشمیری سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں

تبصرہ جات بذریعہ فیس بک

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply