مسخ شدہ تاریخ اور درستگی

یہ کسی ایک موقف، کسی ایک نقطہ نظر یا کسی ایک سیاسی پارٹی کا معاملہ نہیں ھے –
ایک مخصوص سیاسی پارٹی کے رھنماؤں نے پچھلے دنوں اپنے کارکنان کی سیاسی تربیت کے عمل کے دوران بارھا میرا نام لے کر اپنے کارکنان کو یہ باور کرانے کی کوشش کی ھے کہ مملکتِ جموں و کشمیر  کی تاریخ کے حوالے سے میں جو کچھ لکھ رھی ھوں وہ غلط ھے –

مجھے اس صورتحال کا بہت دکھ ھوا ھے – اس لئیے نہیں کہ کسی نے میرا نام لے کر مجھ پر جھوٹ بولنے کا الزام لگایا ھے بلکہ اس لئیے کہ ھم جس قوم اور ملک کی آزادی اور خودمختاری کے داعی ھیں، ھم جس قوم کے لوگوں کو ایک تابناک مستقبل دینے کے لئیے اس قوم کے ھزاروں نوجوانوں کو خاک و خون میں نہلا چکے ھیں اور ھم جس ملک کے بچوں کو ایک خوبصورت مستقبل دینے کی خاطر انکی ھزاروں ماؤں کی عصمتیں لٹا چکے ھیں ھم اس ملک اور اس قوم کو پھر بھی سچی بات بتانے کی جرأت نہیں رکھتے –

اگر ھم سچ کا سامنا کرنے کی صفت سے محروم ھیں تو پھر ھمیں یقین رکھنا ھو گا کہ وطن کے لوگ ھمارے ساتھ زیادہ دیر تک نہیں چلیں گے – کیونکہ سچ ایک خوشبو ھے جسے دنیا کے کسی پردے میں چھپانا ممکن نہیں ھے – جب سچ اپنے آپ کو ظاھر کر کے اردگرد کی فضاؤں کو معطر کرتا ھے تو جھوٹ کا پرچار کرنے والے نہ صرف یہ کہ اپنی عزت اور اپنا وقار کھو دیتے ھیں بلکہ ان کا نام اور انکی تحاریک تاریخ کے صفحات سے مٹ جاتی ھیں اور ان کا کوئی نام لیوا باقی نہیں بچتا –

اس لئیے ضرورت اس امر کی ھے کہ ھم اپنے وقتی مفاد کی خاطر اپنی قوم اور اپنے ملک کے عوام کو جھوٹ کا سبق نہ پڑھائیں –

میں نے جس سیاسی پارٹی کے تربیتی پروگرام کا ذکر کیا ھے اس کی تربیتی نشست میں دو امور پر خاص کر بات کی گئی ھے –

1 –     کارکنان کو یە بتایا گیا ھے کہ سردار سبز علی خان اور سردار ملھی خان کی گلاب سنگھ نے 1832 میں زندە کھالیں اتار دیں تھیں اور فرمایا گیا ھے کہ وہ درخت جس کے ساتھ لٹکا کر سردار سبز علی اور سردار ملھی خان کی زندە کھالیں اتاری گئی تھیں اس لئیے اب تک موجود ھے کہ اس کی جڑوں میں شھداء کا خون شامل ھے اور اسی لئیے اس درخت سے نئی نئی کونپلیں پھوٹتی رھتی ھیں –

اب یە بات کس حد تک سائینسی طور پر تسلیم کی جا سکتی ھے کہ اگر کسی درخت کے ساتھ کسی بےگناہ کا خون بہہ جائے تو وہ خون اس درخت کی زندگی بڑھا دیتا ھے اور اسکو تر و تازہ رکھتا ھے؟

جنون کا کوئی علاج نہیں ھے – جب کسی فرد کے ساتھ کسی کو اس حد تک عقیدت ھو جائے کہ یہ دعویٰ کرنا شروع کر دیا جائے کہ اس آدمی کے جسم کا لمس کائنات اور فطرت کے طبعی قوانین کو بدل سکتا ھے تو پھر ایسی عقیدت کے خلاف کیا دلیل دی جا سکتی ھے؟ اور ایسے لوگ کسی دلیل کو کب تسلیم کرتے ھیں –

اللہ تعالٰی قرآن پاک میں جگہ جگہ ارشاد فرماتے ھیں کہ میں نے دنیا کے لئیے ایک دستور بنا دیا ھے اور اس میں تبدیلی نہیں ھوتی –

مثلاً:
سنة الله فى الذين خلوا من قبل – و لن تجد لسنة الله تبديلا – (سورة الأحزاب – 62)
أن سے اگلوں میں بھی اللہ کا یہی دستور رھا – اور آپ اللہ کے دستور میں ھر گز رد و بدل نہ پائیں گے –

گویا اللہ تعالٰی نے نص قائم کر دی ھے کہ اللہ تعالٰی نے جو طبعی قوانین بنائے ھیں ان میں ھر گز تبدیلی نہیں ھوتی –
یہ قرآن پاک کا عام حکم ھے اور بہت سی جگہوں پر بیان ھوا ھے – جیسے:
سورة المؤمن – 85، سورة إبراهيم – 11، سورة بنى إسرائيل  – 77، سورة فاطر – 43، سورة الحجر – 20، سورة النحل – 43، سورة طه – 55، سورة الفتح – 23 اور سورة ق – 29 –
ان تمام آیات میں آللہ تعالٰی نے واضح فرما دیا ھے کہ اللہ تعالٰی کا نظام تبدیل نہیں ھوتا –

مگر سردار سبز علی اور سردار ملھی خان کے معاملے میں اب اگر کوئی دعوٰی کرتا ھے کہ کسی درخت کے ساتھ انکا خون گرنے کی وجە سے وہ  درخت دو سو سال سے زیادہ عرصے سے نہ صرف یہ کہ زندە ھے بلکہ نئی نئی کونپلیں بھی پھوٹتی رھتی ھیں تو اس پر میں اب کیا تبصرہ کروں –

سردار سبز علی اور سردار ملھی خان کے بارے میں بارھا ھم تفصیلی بحث کر چکے ھیں –  میں نے ان تمام بھائیوں سے تاریخی ثبوت مانگا ھوا ھے کہ ان دو اصحاب کے تاریخی کردار سے متعلق اگر کسی کے پاس کسی قسم کا کوئی ثبوت ھے تو وہ قوم کے سامنے پیش کرے – مگر آج تک کسی طرف سے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا ھے اور اب ان اصحاب کو مافوق الفطرت داستانوں کے کرداروں کی طرح اگر پیش کیا جاتا ھے تو اس سادگی پر کیا کہا جا سکتا ھے –

2 –     اسی پارٹی کے ایک سیاسی تربیتی پروگرام میں کہا گیا ھے کہ گلاب سنگھ نے ھمیں بہت سستے داموں خریدا تھا –

اور یہ بات کرنے والے بھائی خود صوبہ جموں کے ساتھ تعلق رکھتے ھیں – اب ان سے کوئی پوچھے کہ جموں کے لوگوں کو گلاب سنگھ نے کب خریدا تھا؟

میں بارھا تفصیلی وضاحت کر چکی ھوں کہ مہاراجہ گلاب سنگھ نے انگریزوں کو وہ تاوان جنگ ادا کیا تھا جس کی ادائیگی معائدہ لاھور کے تحت لاھور دربار کو کرنی تھی اور جس کی ادائیگی نہ کر سکنے کے باعث لاھور دربار نے ریاست کشمیر کو انگریزوں کی تحویل میں دے دیا تھا – چنانچە تاریخی حقیقت یہ ھے کہ لاھور دربار نے معائدہ لاھور کے مطابق ریاست کشمیر کا سودا انگریزوں کے ساتھ کر دیا تھا –

اگر مہاراجہ گلاب سنگھ انگریزوں کے ساتھ معائدہ امرتسر کر کے اور انگریزوں کو تاوان جنگ ادا کر کے کشمیر کو انگریزوں کے تسلط سے آزاد نہ کرواتا تو آج وہ تمام کشمیری لیڈر جو اپنے آپ کو بڑے فخر سے کشمیری کہتے ھیں اور اپنی شناخت اور ریاستی حیثیت پر فخر کرتے ھیں مری اور ھزارہ کی طرح  پاکستان کے کسی صوبے کا حصہ ھوتے –

کشمیریوں کو کشمیری مہاراجہ گلاب سنگھ نے بنایا تھا – ورنہ دو قومی نظریے کے تحت تمام کشمیری آج پاکستانی اور پنجابی ھوتے – انکی شناخت، انکا وجود اور انکی دھرتی پاکستان کے اسلامی نظام میں ضم ھو کر اپنا مقام کھو چکی ھوتی –

آج جس طرح مری اور ایبٹ آباد میں پاکستان بھر کے سرمایہ دار اور وڈیرے ھر شئے کے مالک بنے بیٹھے ھیں اس سے کئی گنا زیادہ بری حالت کشمیر کی ھو چکی ھوتی – کشمیری اپنی دھرتی سے بیدخل ھو کر کراچی اور لاھور میں نوکریاں کر رھے ھوتے –

میں ایسے بھائیوں کو کیا جواب دوں جو ان حقائق کو چھپا کر گلاب سنگھ کے پیچھے صرف اس لئیے پڑے ھیں کہ وہ ھندو راجہ تھا اور مسلمان سلطان نہیں تھا –
ایسے مذھبی تعصب کی موجودگی میں تاریخ کا کوئی صفحہ کسی پر کیا اثر کرے گا –

میں ایسے متعصب بھائیوں کے حق میں دعا کرتی ھوں کہ اللہ انکو حق اور سچ سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے –

میں یہاں وضاحت کر دوں کہ مہاراجہ گلاب سنگھ جدید ریاست جموں و کشمیر کا بانی ھے اور کوئی تعصب، کوئی تنگ نظری اور کوئی منافرت اسے اس مقام سے معزول نہیں کر سکتی – اس نے ریاست جموں اور ریاست کشمیر کو ملا کر ایک ملک بنایا – اس ملک نے اس کی اولاد کے دور میں ترقی اور خوشحالی کا سفر طے کیا اور برصغیر کے اندر ریاست جموں و کشمیر کی شکل میں پہلی قومی ریاست تشکیل پائی –

برصغیر کی ھزاروں سال کی تاریخ میں ریاست جموں و کشمیر وہ پہلی ریاست ھے جس میں داخل ھونے کے لئیے اجازت نامہ لینے کا نظام متعارف کروایا گیا – ریاست جموں و کشمیر بر صغیر کی تاریخ کی وہ پہلی قومی ریاست ھے جس کے اندر غیر ریاستی افراد کے لئیے جائیداد خریدنے پر پابندی لگائی گئی اور یہی وہ تاریخ ساز عوامل ھیں جنہوں نے ریاست جموں و کشمیر کے عوام کو ایک شناخت، ایک حیثئت اور ایک وجود دیا – اور یہ کارنامہ گلاب سنگھ اور اسکی اولاد نے سرانجام دیا – مگر بدقسمتی سے گلاب سنگھ اور اسکی اولاد نے کلمہ نہ پڑھا اور یہی وہ گناہ ھے جس کے باعث گلاب سنگھ اور اسکی اولاد کے تمام کارنامے اور تمام خوبیاں خاک میں ملا دی جاتی ھیں –

گلاب سنگھ اور اسکا خاندان مسلمان نہیں تھا، انکا یہی قصور انکو مجرم، ظالم، چور، ڈاکو اور قاتل بناتا ھے –
اسی دینی تعلق اور ملی جذبے کے تحت کشمیری مسلمانوں کے لئیے وہ مسلمان حکمران گلاب سنگھ سے ھزار گنا بہتر ھیں جو انکی عورتوں کو کابل اور مشرق وسطٰی میں لے جا کر فروخت کر دیتے تھے –

میرے بھائیو – مذھب کے اس بند خول سے باھر نکلو –
ریاستیں اور ملک مذھب کے نام پر نہیں بنتے اور نہ قائم رھتے ھیں – یہی وجہ ھے کہ 1947 سے لاکھوں معصوم شہریوں کو اسلام کے نام پر ریاستی وجود پر قربان کرنے کے باوجود ایک انچ زمین بھی حاصل نہیں کی جا سکی –
اگر مذھب ریاستوں کو بناتا اور قائم رکھتا ھوتا تو پاکستان کبھی تقسیم نہ ھوتا –

بھائیو – کیا کبھی آپ نے سوچا ھے کہ بھارت اور پاکستان دونوں 1947 میں قائم ھوئے تھے – پاکستان مذھب کے نام پر اور بھارت سیکولر بنیادوں پر – آپ دونوں ممالک کی حالت دیکھ لیں –

پاکستان 25 سال تک اپنے وجود کو قائم نہیں رکھ سکا – اور مذھب کے نام پر جس دھشت گردی اور قتل و غارتگری کا سامنا پاکستان کو ھے اور جتنے لاکھ معصوم شہری مذھب کے نام پر موت کی نیند سلائے جا چکے ھیں ان کا حساب ھر ذی شعور بندہ کر سکتا ھے –
اسکے برعکس بھارت نے سیکولرازم کی بنیاد پر تعمیر و ترقی کی جو منازل طے کی ھیں وہ بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ھے –

استحکام اور ترقی کے میدان میں اگر بھارت اور پاکستان کا موازنہ کیا جائے تو نتائج کم از کم ایک بار ھر عقلمند آدمی کو سوچنے پر ضرور مجبور کرتے ھیں –

بھائیو – خدا کے لئیے اپنی آنکھوں پر سے مذھب کی پٹی اتار کر غیر جانبداری، دیانتداری اور صاف گوئی کے ساتھ حالات اور تاریخ کا مطالعہ کیجئیے – اور صرف ایک بار ایسا کر کے دیکھئیے –

اللہ ھمیں سچ کا ساتھ دینے کی ھمت اور توفیق عطا فرمائے –
         (ثمینہ راجہ – جموں و کشمیر)

Author: Naseer Chohan

تبصرہ جات بذریعہ فیس بک

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply