اپریل فول کی حقیقت

سولہویں اور سترہویں صدی مسلمانوں کے جہاں عالم سے زوال کی صدیاں تھیں۔ مسلمان سیاست کے ساتھ ساتھ معاشی ، معاشرتی ، اصلاحی ، تحقیقی اور تعلیمی کمتری کا بھی شکارہونے لگے ۔ مقدس جنگوں کے لیے سارا یورپ ایشیائی ممالک کے خلاف متحد ہو گیا یوں آہستہ آہستہ مسلم ممالک سکڑتے چلے گئے ۔ سولہویں صدی کے آخر میں اندلس عملا فرڈینینڈ کی دسترس میں تھا اوروہاں کلیسا کی عملداری تھی۔ اس کے بعد انگریز ہندوستان تک بھی پہنچ آئے اور انیسویں صدی میں انگریزوں نے ہندوستان سے بھی مسلم حکومت کا قلع قمع کر دیا ۔ تاریخ شاہد ہے کہ حاکم قوم کی تہذیب و کلچر کو محکوم قومیں اپنا لیتی ہیں اور آہستہ آہستہ وہ بھی انہی رنگوں میں رچ بس جاتی ہیں جن میں حاکم قومیں موجود ہوتی ہیں۔ انگریزوں کے خلاف جو نفرت تھی وہ عوام الناس میں یوں رچ بس گئی کہ ان کے تہواروں اور نظریوں کے متعلق ایسی ایسی روایات گھڑ لی گئیں جوکبھی کبھار عقل کے لیے بھی ناقابل قبول ہو جاتیں ۔ یوں نہ صرف ان تہوراوں خواہ وہ مذہبی تھے یا تہذیبی ان کے خلاف عامتہ الناس میں نفرت پیدا کر نے کی ایک کوشش کی گئی ۔ مسلمان سیاسی زوال کے ساتھ ہی علمی اور تحقیقی مقام پر بھی پستی کا شکار ہو گئے ۔ برصغیر میں اپریل فول کے حوالے سے مخلف قوم کی روایات چلی آ رہی ہیں جس پر ہمارے معاشرے کے بہت سے پرھے لکھے لوگ بھی بغیر تحقیق کے دھڑا دھڑ لکھتے رہتے ہیں تو مجھے ضرورت محسوس ہوئی کیوں کہ اپریل فول کی تاریخ چھانی جائے تاکہ معلوم پڑ سکے کہ اصل حقیقت کیا ہے ۔
ہمارے ہاں تو اس کی بنیاد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ مسلمانوں کو اہل کلیسا نے ایک جہاذ میں بٹھایا اور سمندر برد کر دیا اور پھر وہ اس دن کی یاد میں یعنی مسلمانوں کو بے وقوف بنانے کے سلسلے میں یہ دن منانے لگے ۔
اپریل فول ہر سال یکم اپریل کو دنیا بھر میں منایا جاتا ہے جس میں جھوٹ بول کر کسی دوسرے کو تنگ کیا جاتا ہے ۔ اپریل فول کو کچھ لوگ قدیم تہذیبوں یعنی ہندو تہذیب اور رومن تہذیب سے بھی منسلک کرتے ہیں کیوں کہ ہندوؤں کی ہولی اور رومی نئے سال کے تہوار انہی دنوں میں ہوتے تھے یہ دراصل بہار کی آمد کی خوشی میں منائے جاتے تھے ۔اپریل فول کے حوالے سے بہت سے محققین اور تاریخ دانوں کی مختلف جگہوں پر سوئیاں اٹکی ہوئی ہیں تاہم جو سب سے اہم اور عقل سے تسلیم کرنے والی کہانی ہے وہ کچھ یوں ہے کہ پوپ نے جولین کیلنڈر کو تبدیل کر کے اس کے بدلے جارجین کیلنڈر کا اجراء کیا جس کے تحت اب نیا سال یکم اپریل کے بجائے یکم جنوری سے نیا سال شروع ہوا کرے گا اس کے کچھ عرصہ بعد ہی فرانس نے یعنی 1582ء میں ہی اپنا کیلنڈر تبدیل کیا اور یکم جنوری سے نئے سال کا آغاز کر دیا جبکہ انگلینڈ میں اسے ڈیڑھ صدی بعد اختیار کیا گیا ۔ تحقیقات کے مطابق قدامت پسندوں نے نئے کیلنڈر کو یا تو ماننے سے انکار کر دیا یا پھر ان تک یہ معلومات دیر سے پہنچیں جن کی بنا پر وہ جولین کیلنڈر کے مطابق ہی نیا سال یعنی یکم اپریل کو مناتے رہے جبکہ ترقی پسند اور جدت پسند لوگ اب یکم جنوری پر منتقل ہو چکے تھے غرض انہوں نے روایتی لوگوں کا مذاق اڑانا شروع کر دیا اور یوں اپریل فول کی بنیاد پڑی۔ ایک دوسری تحقیق میں آتا ہے کہ چونکہ اپریل کے شروع تک فرانس اور یورپ کے اکثر علاقوں میں مچھلیوں کے انڈوں سے بچے نکل آتے ہیں اور ان کو کسی چیز سے دھوکہ دے کر پکڑنا مچھلی کے نسبت آسان ہوتا ہے اس لیے اسے ایک تہوار کے طور پر منایا جانے لگا جبکہ ابھی تک کچھ علاقون میں بچے اپنے اوپر مصنوعی کاغذ کے بنے مچھلی کے خول پہن کر چہکتے ہیں ۔
جوزف بوسکن ، بوسٹن یونیورسٹی میں تاریخ کے پروفیسر رہے ہیں ان کے خیال کے مطابق یہ رسم اصل میں رومن دور سے شروع ہوئی ہے جب قسطنطنیہ کے دور میں ایک مرتبہ کچھ لوگ شہنشاہ کے پاس آئے اور کہا کہ وہ مملکت کا نظام اس سے بہتر طریقے سے چلا سکتے ہیں یہ لوگ دراصل چال باز اور جوکر تھے شہنشاہ نے ان میں سے ایک کو جس کا نام کگل تھا ایک دن کے لیے بادشاہت دے دی اس وقت کے جوکر بھی بہت عقل مند لوگ ہوا کرتے تھے اس نے مملکت کا نظام ایک دن کے لیے نہایت خوش اصلوبی سے چلایا اور یہ دن یکم جولائی ہی تھی جس کی یاد مین پھر یہ تہوار منایا جانے لگا۔ واضح رہے کہ اپریل فول کے تہوار کا ذکرسولہویں صدی کے مشہور مصنف شیکسپئر نے نہیں کیا ہے جبکہ اس کے بعد آنے والی صدی یعنی سترہویں صدی میں مصنف چارلس ڈکن نے ضرور کیا ہے ۔ جبکہ ایک اور رویت میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مارچ کا مہینہ 32 دن کا ہو گیا تھا جو کہ بعد میں فروری میں ایک کا بڑھایا گیا یعنی لیپ کا سال۔
کہتے ہیں کہ ایک دفعہ لیورائن کے ڈیوک اور اس کی بیوی کو قید کی سزا دی گئی ، یہ سزا کسی بڑے جرم کی وجہ سے دی گئی تھی وہاں پر کڑی سیکورٹی دی گئی تھی ایک دن وہ آرام سے اٹھے اور گیٹ سے نکل گئے وہان موجود کسی شخص نے چوکیدار کو بتایا کہ ڈیوک اور اس کی بیوی بھاگ گئے ہیں تو اس نے کہا کہ اتنے کڑے پہرے میں وہ کیسے بھاگ سکتے ہیں اس نے سوچا کہ وہ اسے فول بنا رہا ہے یوں اپریل فول کی بنیاد پڑی۔
اپریل فول کے تہوارکی بنیاد کے بارے میں چار ممالک دعوی کرتے ہیں کہ دراصل یہ تہوار ان کا ہے ان ممالک میں نیدرلینڈ، جرمنی ، برطانیہ اور فرانس شامل ہیں فرانس کی کیلنڈر والی کہانی اوپر بیان کی جا چکی ہے جبکہ برطانیہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ برطانیہ میں ایک قصبہ ہوا کرتا تھا جس کا نام گوتھم تھا قصبے کے لوگ اپنی بے وقوفانہ حرکتوں کی وجہ سے مشہور تھے۔ تیرہویں صدی میں یہ روایت چلی تھی کہ کوئی بھی سڑک جس پر بادشاہ کے پاؤں پڑ جاتے تھے عوامی ملکیت یعنی حکومت کی ہو جاتی تھی ایک دفعہ بادشاہ کو خیال ہوا کہ کیوں کہ گوتھم قصبے کی سیر کی جائے جب وہاں کے لوگوں کو علم ہوا تو انہوں نے بادشاہ کو اس طرف آنے سے منع کر دیا وہ اپنی سڑک کو کسی صورت کھونا نہیں چاہتے تھے بادشاہ کو جب معلوم ہوا تو وہ سیخ پا ہو گیا اور اس نے اپنی فوجیں بھیجیں جب فوجیں قصبے کے لوگوں سے لڑنے قصبے میں پہنچیں تو کیا دیکھتی ہیں کہ وہاں کے لوگ ایسے پنجروں میں چڑیوں کو پکڑ رہے ہیں جن کی چھتیں ہی نہیں ہیں اور ان سے لڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں فوجیوں نے ان کا مذاق اڑایا یوں اس تہوار کی بنیاد پڑی۔
جرمنی کے بارے میں کہا جاتا کہ 1530میں یکم اپریل کو جرمنی کے شہر اوکزبرگ میں ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں اقتصادی معاملات پر بات کرنا مقصود تھی مگر کچھ وجوہات کی بناء پر یہ تقریب نہ ہو سکی اور جن لوگوں نے شرطیں بدی تھیں ان نے اپنے پیسے ضائع کر دیے ۔ جبکہ نیدر لینڈ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یکم اپریل 1572 میں ڈچ باغیوں نے سپین سے چھین لیا اور اپنی فوجیں شہر میں داخل کر دیں اس طرح سپین سے نیدر لینڈ کی آزدی ممکن ہو سکی جو کہ دراصل کسی اور دو ممالک کی وجہ سے ممکن ہوا یوں نیدرلینڈ یکم اپریل کو اپنی آزادی کا دن مناتا ہے جبکہ دیگر اسے ایک بے وقوفوں کے تہوار کے طور پر منانے لگے ۔
کہانی کوئی بھی سہی مگر اپریل فول کی اصل کہانی ان من گھڑت روایات سے کوسوں دور ہے جو ہمارے ہاں سینہ بہ سینہ منتقل ہوتی رہتی ہیں۔
تحقیق و تحریر: جواداحمدپارس

Author: جواد احمد پارس

جواداحمدپارس کا تعلق پاکستانی زیر انتظام کشمیر سے ہے. آپ اقتصادیات کے طالب علم ہیں شاعر ، افسانہ نگار اور کالم نگار ہیں. کشمیری سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں

تبصرہ جات بذریعہ فیس بک

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply