ہر شخص سر پہ،کـــــــفن باندھ کے نِکلے۔۔

ہر شخص سر پہ،کـــــــفن باندھ کے نِکلے۔۔
حق کے لیۓ لڑنا،تو بـــغاوت نہیں ہوتی۔۔
جب سے اِس افسوسناک،اندوہناک واقعہ کا عِلم ہوا۔۔تب سے ایک عجیب سی رنج اور الم کی کیفیت میں مبتلا ہوں۔۔میری مقتول یاسر خواجہ سے کوئ خاص جان پہچان نہ تھی مگر۔۔نہ جانے کیوں یاسر بھائ کی موت کا دُکھ اپنے کِسی قریبی دوست یا رِشتہ دار کیے بچھڑنے سےکہیں زیادہ تھا۔۔حالانکہ میرا اُن کے خاندان اور اُن کی جماعت سے کوئ تعلق نہیں پھر بھی انتہائ دُکھ اور تکلیف کی کیفیت میں مُبتلا ہوں۔۔
مُجھے یہ نہیں معلوم کہ یاسر بھائ کو آتھ دِن تک کِس جُرم کی پاداش میں درندگی کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔۔اُن کہ نازک جِسم کو طرح طرح کی اذیتوں سے گُزارا گیا۔۔جِن کے بارے میں سوچ کہ بھی ایک اِنسان کی روح کانپ اُتھے۔۔انسانیت کا لِبادہ اوڑھے ہوۓ بھیڑیۓ۔۔جو کہ اِنسانیت کہ معنی سے بھی ناآشنا تھے۔۔اٰن کے جِسم کو کِسی خونخوار درندے کی طرح نوچتے رہے اور نازک جِسم پہ اپنی درندگی اور نام نہاد مردانگی کے ان مِٹ نشانات ثبت کرتے چلے گۓ۔۔جو کہ میرے مُطابق اُن میں پاۓ جانے والی مردانہ کمزوری کی اعلٰی مِثال ہے۔۔
بِلآخر اُنہیں موت کی گھاٹ اُتار دیا گیا۔۔اور اُن کی نعش ایک نالہ سے برآمد کر لی گئ۔۔
آج اِس سانحہ کو تین دِن بیت چُکے ہیں۔۔مگر مُجھے یہ کِہتے یوۓ شرمندگی مِحسوس ہوتی ہے کہ۔۔ اِہلیانِ حویلی کو اِتنی جرات نہیں ہوئ کہ۔۔وہ اِس معاملہ کو کِسی بھی فورم پر اُتھانے کی ہِمت کر سکیں۔۔کیا تمام اِہلیانِ حویلی ایک درندہ صفت گروہ سے اِتنا سہم چُکے ہیں۔۔کہ وہ آۓ روز لوگوں کی نعشیں گِراتے رہیں۔۔اور ہم اُسے دو افراد کا باہمی مسئلہ قرار دے کر خاموشی اِختیار کر لیں۔۔ہمارے اِسی بُزدِلانہ رویہ۔۔کی وجہ سے ایسے لوگوں کو مزید شہہ۔۔مِل ریئ ہے جِس کا ثبوت پِچھلے پانچ سال میں ہونے والا یہ چوتھا قتل ہے۔۔مگر آفرین ہے ہماری مردانگی اور غیرت پر کہ اِن تمام دِلخراش واقعات کہ بعد بھی ہمارے ضمیر کانپے تک نہیں۔۔۔
بقول شاعر۔۔
ضمیر کانپتے نہیں جہاں۔۔
وہاں زمیں کانپ جاتی ہے۔۔۔
جو لوگ اِس واقعہ کودو افراد کا معاملہ۔۔بتا کر اِس کیس کو بھی سابقہ کیسوں کی طرح دبانے کے بارے میں سوچ رہیں ہیں۔۔خُدارا وہ تمام اذیتیں آپ اپنے ساتھ ہوتی ہوئ مِحسوس کریں۔۔جو چنگیز خان کے جانشین اُس نہتی جان پر کرتے رہے۔۔اب وقت آ چُکا ہے۔ کہ ظالموں کہ خلاف صف آرا ہو کر اُن کا ہر فورم اور ہر محاز پر ڈٹ کر مقابلہ کیا جاۓ۔۔تاکہ مقتولین کے خون کا حِساب لیا جا سکے۔۔
دُنیا میں قتیل آُس سا مُنافِق نہیں کوئی۔۔
جو ظلم تو سہتا ہے بغاوت نہیں کرتا..
‪#‎Justice4Yasir‬

فیصل الطاف
مظفرآباد، کشمیر

تبصرہ جات بذریعہ فیس بک

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply