مقتول خواجہ یاسر. قاتل ساری قوم (ثمینہ راجہ جموں کشمیر )

یہ ایک فرد کا قتل نہیں ہے، ہمارے سماج کی بچی کھُچی انسانیت، شرافت اور قانون کا قتل ہے ۔
یہ قتل ہمارے سماج کے منہ پر ایک طمانچہ ہے ۔ ہماری تہذیبی اقدار اور سماجی مقام کا قتل ہے ۔
اس قتل کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے بھائی ظفر الحق (ضلع حویلی) لکھتے ہیں :

31 مارچ 2016 کو رات کے وقت مقتول کے موبائل پر فون کر کے کسی نے مقتول کو گھر سے باہر بلایا …

مگر پھر یہ مقتول کبھی لوٹ کر گھر واپس نہ آیا ۔ اور 8 اپریل کو مقتول کی تشدد زدہ نعش  ایک مقامی نالے سے برآمد ہوئی ۔
مقتول کو انتہائی غیر انسانی تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کیا گیا ۔ نازک اعضا ء کو کاٹ دیا گیا، جسم کو
جگہ جگہ سے گرم سلاخوں کے ساتھ داغا گیا، ایک آنکھ نکال دی گئی اور نہ جانے کیا کیا حشر کیا گیا ۔ اپنے ساتھ ہونے والی اس درندگی کی تفصیلات بتانے کے لیئے مقتول اب اس دنیا میں موجود نہیں ۔
پولیس کی چابکدستی اور فرض شناسی کا یہ عالم ہے کہ اس سارے عرصے میں پولیس اس بات کا پتہ نہ چلا سکی کہ مقتول کو فون کر کے گھر سے باہر کس نے بلایا تھا، اور جب پولیس اس فون کال کا پتہ چلانے میں کامیاب ہوئی تو مقتول اس دنیا میں موجود نہ تھا ۔

بھائی ظفر راٹھور مزید لکھتے ہیں کہ ایسی ہی ایک واردات کے ذریعے اس سے قبل دو بھائیوں کو قتل کیا جا چکا ہے ۔ ان بھائیوں کو بھی اسی انداز میں قتل کیا گیا تھا ۰۰۰۰

مقتول خواجہ یاسر کی طرح ان بھائیوں کے قتل کا بھی کوئی چشم دید گواہ موجود نہ تھا چنانچہ ناکافی ثبوتوں اور گواہوں کی عدم دستیابی کے باعث ہمارے ملک کا اندھا قانون لمبی تان کر سو گیا ۔

بھائی ظفر الحق کے مطابق ان بھائیوں کے قتل کے بعد قاتلوں نے ورثاء کو دیت دے کر معاملہ رفع دفع کر دیا تھا ۔

دیت کا یہ قانون اسلامی کم اور ضیائی زیادہ ہے، اس قانون کے باعث  معاشرے کے اہلِ ثروت افراد قتل جیسا جرم کرنے کے بعد بھی معاشرے میں دندناتے پھرتے ہیں ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلام کے نام پر قاتلوں کی پشت پناہی کے اس قانون میں موجود سقم کو دور کیا جائے اور قانون کو عین اسلام کی منشاء کے مطابق بنایا جائے ۔

آج کا موضوع کچھ اور ہے، دیت کے قانون پر بعد میں کبھی بات کروں گی ۔

خواجہ یاسر کا قتل اور پولیس کی نااہلی ہمارے موجودہ سیاسی اور حکومتی نظام  کی ناکامی کی انتہا ہے ۔ جب حویلی میں مقتول یاسر کی طرح دو بھائیوں کو قتل کیا گیا تھا تو اگر قاتلوں کو کیفرِکردار تک پہنچا دیا جاتا تو شاید خواجہ یاسر آج زندہ ہوتا ۔ مگر میں بھی غلط بات کر رہی ہوں؛ خواجہ یاسر آج کیسے زندہ ہوتا، اس کی تو زندگی ہی اتنی تھی ۔ اور زندگی اور موت کے فیصلے تو اللّہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں ۰۰۰۰

اس طرح کے فلسفے پڑھا پڑھا کر مولویوں نے ہمارے سماج کا بیڑا غرق کر دیا ہے ۔ کیا خواجہ یاسر کا قتل اللّہ تعالیٰ کی مرضی اور منشاء کے مطابق ہوا ہے؟ اور یہ اس کا نصیب تھا؟ یا اس قتل کا ذمہ دار ہمارے ملک کا قانون اور بالواسطہ طور پر ہم سب خود ہیں؟

بات پھر مسئلہ جبر و قدر کی طرف جا رہی ہے اور میرا آج کا موضوع یہ بھی نہیں ہے ۔

میں کہہ رہی تھی کہ خواجہ یاسرکا قتل ہمارے  مُردہ سیاسی اور انتظامی نظام کے باعث ہوا ہے ۔ اس قتل کا ذمہ دار ہمارا سارا سماج ہے ۔اور اس طرح کے واقعات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ کہیں ہم سے ماضی میں بہت بڑی غلطی ہوئی ہے جس کا ہم خمیازہ بھگت رہے ہیں ۔

ہماری غلطی اس نظام کی تشکیل اور پشت پناہی ہے جس میں ہم زندہ ہیں ۔ 1947 میں ہمیں اسلام کے نام پر تقسیم کر دیا گیا تھا، ہمیں بتایا گیا تھا کہ ہم ظالم اور جابر ہندو ڈوگرہ حکمران سے آزادی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں اور اسی لیئے ہمارے آزاد کردہ ملک کا نام بھی آزاد جموں و کشمیر رکھ دیا گیا تھا، لیکن کیا ہم واقعی آزاد ہوئے یا ہم نے غلامی کو خوبصورت غلاف میں لپیٹ کر اپنے گلے میں ڈال لیا؟ کیا ہم 1947 سے پہلے آزاد تھے یا اب آزاد ہیں؟  ۰۰۰۰

موضوع پھر دوسری طرف نکل رہا ہے ۔

مجھے ایک واقعہ یاد آ رہا ہے ۔ یہ واقعہ کرنل عدالت خان نے خود بیان کیا تھا اور جن لوگوں کے سامنے یہ واقعہ کرنل عدالت خان نے بیان کیا تھا وہ اس واقعے کی تصدیق کرنے کے لیئے ابھی زندہ ہیں  ۔

کرنل عدالت خان کا تعلق میرپور سے تھا اور آپ مہاراجہ ہری سنگھ کے اے ڈی سی  تھے۔ کرنل صاحب بتاتے ہیں کہ ایک دفعہ مہاراجہ کا دربار لگا ہوا تھا اور میں بھی دربار میں موجود تھا، اتنی دیر میں کسی مشیر نے آ کر مہاراجہ کے کان میں کوئی سرگوشی کی ۔ بات سنتے ہی مہاراجہ  ہری سنگھ کھڑا ہو گیا ۔ دربار میں موجود تمام لوگ رواج کے مطابق کھڑے ہو گئے ۔  کچھ لمحات کھڑے رہنے کے بعد مہاراجہ اپنے تخت کے بجائے زمین پر بیٹھ گیا، سارے دربار پر سکوت چھا گیا اور رواج کے مطابق دربار میں موجود تمام لوگ بھی زمین پر بیٹھ گئے ۔ مہاراجہ نے اس گہری خاموشی کو خود توڑا اور لوگوں کو بتایا کہ آج میری ریاست میں ایک شخص کو قتل کر دیا گیا ہے، اور میں زمین پر اس لیئے بیٹھا ہوں کہ ان حالات میں مجھے تخت پر بیٹھنا زیب نہیں دیتا ۔

یہ واقعہ ہماری ریاستی تاریخ کا ایک گُم گُشتہ باب ہے ۔ جن لوگوں نے ڈوگرہ دور دیکھا ہے (اور ابھی بہت سے ایسے لوگ زندہ ہیں جنہوں نے ڈوگرہ دور کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہوا ہے) وہ اس بات کی تائید کریں گے کہ ڈوگرہ حکمران جیسا تیسا بھی تھا، مسلمان نہیں تھا اور جمہوری طرزِ حکومت بھی نہیں تھا مگر اس دور میں قانون کی حکمرانی تھی، قانون سب کے لیئے برابر تھا اور انصاف ہوتا تھا ۔ کسی کو قانون توڑنے کی اجازت نہ تھی اور کوئی قانون سے مستثنیٰ نہیں تھا ۔ یہی وجہ تھی کہ اس دور میں ملک میں امن و امان تھا ۔

ابھی چالیس پچاس سال پہلے کی بات ہے (اور میری اس بات کی تائید بہت سے لوگ اپنے ذاتی تجربات اور مشاہدات کی بنیاد پر کریں گے) کہ ہمارے ملک میں بسوں میں قصے کہانیاں سنانے والے آیا کرتے تھے اور قصے سنایا کرتے تھے کہ پنجاب میں اس اس طرح کسی نے کسی کو قتل کر دیا ۔ ہمارے لوگ ایسے قصے بڑے تعجب کے ساتھ سنتے تھے کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی کو مار دیا ۔ پسِ منظر یہ ہے کہ ہمارے ملک میں قتل جیسے واقعے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا اور لوگ ایسی باتیں الف لیلائی کہانیوں کی طرح سنتے تھے ۔

مگر ہمیں آزادی کیا ملی کہ ہم ہر طرح کی تہذیب، انسانی اقدار اور اپنی اخلاقی اساس سے ہی آزاد ہو گئے ۔آج عالم یہ ہے کہ انسان کو اس طرح مسل دیا جاتا ہے جیسے کسی سڑک پر چلتی گاڑی کے نیچے آ کر ایک چیونٹی مسلی جاتی ہے ۔

ایسا کیوں ہے؟

یہ سوال میں سارے معاشرے سے پوچھتی ہوں اور اس کا جواب سب کو اپنے اپنے ذاتی تجربات اور مقامی حالات کی روشنی میں تلاش کرنا ہو گا ۔

ہمارے حکمران آج عوام کے جان و مال کی پرواہ کرنے کے بجائے ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ کر اپنی تجوریاں بھرنے کے چکر میں ہیں ۔

آج سیاست ایک کاروبار بن کر رہ گئی ہے ۔ لوگ الیکشن اس لیئے لڑتے ہیں کہ وہ کامیاب ہو کر زیادہ سے زیادہ دولت اکھٹی کر سکیں گے ۔

قانون معاشرے کے بااثر افراد کے گھر کی لونڈی بن کر رہ گیا ہے ۔

لوگوں کے جان و مال کے رکھوالے لوگوں کے جان و مال کا سودا کرتے ہیں ۔

اور ہم سب خاموش تماشائی بنے بے حس بیٹھے رہتے ہیں ۔ معاشرے میں جو کچھ ہو رہا ہوتا ہے، ہم یہ سمجھ کر اپنے آپ کو تسلی دیتے رہتے ہیں کہ ایسا ہمارے ساتھ نہیں ہو سکتا ۔

کیا ہمارے سماج کا ہر فرد اس لیئے اس نظام کے خلاف بغاوت نہیں کرتا کہ وہ اس انتظار میں ہے کہ اس کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہو ۔

اگر یہ بات ہے تو پھر زیادہ دیر نہیں ہو گی ۔ بہت جلد سماج کا ہر فرد ایسا سب کچھ اپنے ساتھ ہوتے ہوئے بھی دیکھے گا ۔

خدا را ۔ اب بھی وقت ہے، سلجھ جاؤ ۔
آؤ مل جل کر عہد کریں کہ ہم اس نظام کے رکھوالوں کو اپنے ووٹ کی طاقت سے جہنم واصل کریں گے ۔ آئیے آج عہد کریں کہ ہم جب تک زندہ ہیں کبھی کسی غلط بات، کسی غلط شخص یا کسی غلط سوچ کا ساتھ نہیں دیں گے ۔ خواہ ایسی باتیں ہمارے اپنے، ہماری برادری کے لوگ، ہمارے گھر کے افراد یا ہمارے دوست ہی کیوں نہ کریں ۔

image

ہم آج کے بعد ان کا ساتھ نہیں دیں گے ۔

اگر ہم یہ تہیہ کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو پھر سمجھ لیجیئے کہ خواجہ یاسر کا خون رائیگاں نہیں گیا ۔ لیکن اگر ہم ایسا نہیں کرتے تو پھر اور بہت سے ایسے لاشے اٹھانے کے لیئے تیار رہیئے ۔

فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے ۔
اب یا کبھی نہیں ۔

Author: Naseer Chohan

تبصرہ جات بذریعہ فیس بک

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply