بے ……حس ……کیمپ

بے ……حس ……کیمپ

اب تو یہ حال ہو گیا ہے کہ ؂’’یہ کس کا لہو ہو یہاں کون مر ا‘‘ کے مصداق اہل آزاد کشمیر اہل بھارتی مقبوضہ کشمیر کو پہچان ہی نہیں رہے ہیں۔ ہندواڑہ واقعے کے روز سے اب تک وادی ماتم کناں ہے مگر اسی روز آزادکشمیر کے وزیر اعظم صاحب اپنے بڑے بھائی اور ہمارے اخلاقی حمایتی کے بارے میں یہ پریس کانفرنس کر رہے تھے وہ اپنی گزشتہ کی اوقات ، یعنی آئی جی اور پھر برجیس طاہر کے واقعے کو یکسر بھول کر نئی جنگ چھیڑ رہے تھے کہ میں آزاد کشمیر میں پی ٹی وی اگلے اڑتالیس گھنٹوں میں بند کروا دوں گا ۔ پریس کانفرنس میں انہیں کشمیر اور کشمیر کی آزادی تک کا ذکر کرنا گوار ا نہیں گزرا۔ ان کو ہمیشہ اپنے لاڑکانہ کی مجاوری پر فخر رہا ہے ان کے قائد مرحوم ذولفقار علی بھٹو نے کہا تھا کہ ’’ہم کشمیر کی آزادی کی جنگ ایک ہزار سال تک لڑیں گے ‘‘ غالبا اس کا مطلب یہی رہا ہو گا کہ ایک ہزار سال تک کشمیریوں کی جنگ لڑنے کے بعد کشمیر کو تقسیم کر لیں گے کیونکہ بھٹو کا یہی فارمولا تھا اور اسی فارمولے کو صرف نظر کرتے ہوئے وہ کشمیر کی آزادی کی پکار کو ایک ہزار سال تک لے کر جاناچاہتے ہیں۔

کشمیر کی آزادی کی جنگ اور الحاق پاکستان کی داعی ’’ریاستی جماعت‘‘ جو ہر سال ’’پانچ فروری‘‘ اور ’’ یوم نیلا بٹ‘‘ پوری آب و تاب اور زور شور سے مناتی ہے اور ہمیشہ سے ان کا ماننا ہے کہ وہ تحریک آزادی کشمیر میں ہر اول دستے میں ہیں اپنی نیم مرحوم لاش پر نوحہ کناں ہے اور آمدہ الیکشن میں انہیں ایک مرتبہ پھر اپنی بدترین شکست بدترین حالات میں نظر آ رہی ہے بھی اپنے سیاسی بیانوں اور قلابازیوں کی وجہ سے کسی درباری مسخرے سے کم نہیں لگ رہی وہ اپنی رہی سہی ساکھ بچانے کے لیے کل جماعتی اتحاد کا احصہ بن رہی تھی اور اس کے قائد کا کیا ہلکے پھلکے کارکن کا ایک عدد یک کالمی بیان بھی کسی اخبار کی زینت نہ بن سکا ۔ جماعت اسلامی جو کشمیر (آزاد کشمیر ) میں ازل سے بے یار و مددگار رہی ہے اپنے ماضی کی طرح کشمیریوں کے خوں کو ایک عام بات سمجھ کر صرف نظر کر گئی اسے بھی سیاسی اتحاد کی پڑی تھی ۔ جماعت اسلامی ہمیشہ اسلام کی بات کر کے کشمیریوں کو ورغلاتی رہی ہے کہ پاکستان کشمیریوں کا آخری حصار ہے اس کے علاوہ آپ کے پاس دنیا میں کوئی جائے پناہ نہیں ہے۔ آئیے اور مل کر اپنے حصار کی حفاظت کرتے ہیں بھی سیاسی کبڈی میں حریف کو ناکوں چنے جبوانے میں مصروف ہے۔ پیپلز پارٹی تو اللہ معاف کرے نام ہی کیوں زبان پر آیا ۔ حکومت اسی کی ہے یہ تو ہر ذمہ داری سے باہر ہے۔ پی ٹی آئی نئی نئی تن من دھن سے آزاد کشمیر میں وارد ہوئی ہے اس کا ماننا ہے کہ جو فیصلہ کشمیری کریں گے وہی فیصلہ کشمیر کا ہو گا غالبا اسی لیے وہ چپ رہے ہیں کہ کشمیری جو کر رہے ہیں کرنے دیں ہم اپنا کام کرتے ہیں ۔

اب ذرا آتے ہیں ہمارے سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایتی کی طرف تو صاحب! ان کے اپنے اتنے دکھڑے ہیں کہ وہ کس کی سنیں اور کس کو سنائیں۔ پاک فوج کے پاس ضرب عضب سے ہی وقت نہیں بچ رہا تھا وہ طالبان سے نبٹیں یا کشمیر پر ایک ٹیوٹ کر کے ذمہ داری سے سبکدوش ہوں اوپر سے اللہ بیڑا غرق کرے چھوٹو گینگ کارہی سہی کسر انہوں نے پوری کر دی نتیجتا ان کو الزام دینا یا کچھ کہنا اس لیے بھی ضروری نہیں کہ وہ بھی ترازو کے اسی پلڑے میں ہیں جس میں۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاں یاد آیا اس سارے منظر کے پیچھے اصل میں یہودی سازش ہے پاناما لیکس نے پاکستانیوں کو اتنا الجھا دیا ہے کہ وہ کشمیر کی قطعا ہمایت کر ہی نہیں سکتے بھئی وہ کریں بھی تو کیا اپنے وزیر اعظم اور اس کے خاندان کا اس مسئلے سے نکالیں ، پاکستان میں امن کے لیے حکومت و فوج کا ساتھ دیں ، جمہوریت کے استحکام کے لیے کوششیں کریں ، معاشی ترقی کے لیے پندرہ پندرہ گھنٹے محنت کریں، لوڈ شیڈنگ سے تنگ آ کر مچھروں سے جنگ کریں ، یا پھر بھارت کی ہار پر خوشیاں منائیں۔ حکمرانوں کو تو بھئی لندن یاترا سے ہی فرصت نہیں ملتی آ ج کل ۔

اب اس سارے منظر نامے مین سب سے بدترین کردار میڈیا کا ہے۔ اگر سری نگر میں پاکستان کا جھنڈا کچھ سر پھرے لہرا دیتے ہیں تو صرف دس سیکنڈ بعد یہ خبر پاکستان کے سینکڑوں نیوز چینل میں سے ہر نیوز چینل پر بریکنک نیوز (پھاڑو خبر) ہوتی ہے ۔ مگر کشمیریوں کے نسل کشی انہیں بالکل بھی نظر نہیں آتی ہر سال مسئلہ کشمیر کی تاریخ جغرافیہ اور مسلی ہوئی تقدیر بیان کرتے ، پانچ فروری ، چوبیس اور ستائین اکتوبر کو اور چھ جولائی کو گلے پھاڑتے ہوئے کوئی اینکر نہیں تھکتا مگر کشمیر یوں کے خون کے بات آئے تو ان کی زبان کنگ ہو جاتی ہے یہ بے حس اور بہرے ہو جاتے ہیں۔ ارے بھائی ان کو کیا الزام دیا جائے اپنے کشمیر کے اخبارات کو چینلز کو دیکھ لو کمال ہے کسی نے ایک خبر بھی چلائی ہو ، کسی اخبار مین سرخی لگی ہوکسی نیوز چینل نے کہا ہو کہ کشمیر یوں کا قتل عام ناحق کیا جا رہا ہے ۔ اگر مارک زکربرگ پیدا نہ ہوا ہوتا تو ہم قطعا یہ بھی نہ جان سکتے تھے کہ کشمیر میں کوئی قتل بھی ہوا ہے یہ سارا کمال سوشل میڈیا کا ہے کہ خبر و بات ہم تک پہنچ پاتی ہے۔ وہ بھی تب تک جب تک کشمیر میں انٹرنیٹ سروس چلتی رہتی ہے۔

کشمیر میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو سیاست سے کنارہ کش ہے اور تحریر و تقریر سے کشمیر کی آزادی کی جنگ لڑ رہا ہے مگر یہ طبقہ بھی اس موقع پر مجرمانہ خاموشی کا شکار رہا ۔ یہ طبقہ اپنے بیانات و کالموں کو تاریخ و جغرافیہ پر ہر وقت اخباروں کی زینت بناتا رہتا ہے مگر اس قتل عام پر یہ طبقہ بھی مکمل خاموش و منجمد رہا ۔ ہندواڑہ واقعہ کے بعد ایک بات تو مجھے صاف لگی ہے کہ وادی کے لوگ بالکل تن تنہا ہیں ۔ عین ممکن ہے یہ نسل کشی جاری رہے اور کچھ عرصہ بعد کشمیر ی نسل مکمل طور پرختم ہو جائے اور جو باقی بچے وہ یا تو غلامی قبول کر لیں یا پھر اپاہج و بے جان ہو کر پڑے رہیں۔ بے حس کیمپ سے انہیں کبھی بھی کسی امداد کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔ باقی لوگ اپنی اپنی دکانیں چمکاتے رہیں گے یہ کشمیر کے نام پر کھاتے اور نام بناتے رہیں گے۔ پاکستان کی اپنی الجھنیں ہیں اسے جب فرصت ملتی ہے تو وہ کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ لگا کر اپنے تئیں فرض ادا کر دیتے ہیں۔ ہندوستانی تو مانتے ہی کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ ہیں وہ مہابھارت کے خواب کو ثمر آور کرنے میں لگے ہوئے ہیں جس کی بنادیں کشمیریوں کے لہو سے کھودی جا رہی ہیں۔ مجھ جیسے لوگ فیس بک پر پوسٹ کر کے ، دل میں چند گالیاں دے کر اور کچھ لمحے کے لیے افسردہ رہ کر ایسے ہی اپنی زندگی گزار لیں گے اور ہر دوسرے دن ان کی زندگی یوں ہوجاتی ہے کہ کچھ ہوا ہی نہیں ہے۔

جواداحمدپارس

Author: جواد احمد پارس

جواداحمدپارس کا تعلق پاکستانی زیر انتظام کشمیر سے ہے. آپ اقتصادیات کے طالب علم ہیں شاعر ، افسانہ نگار اور کالم نگار ہیں. کشمیری سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں

تبصرہ جات بذریعہ فیس بک

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply