معائده کراچی 28 اپریل 1949 (ثمینہ راجہ جموں کشمیر )

معاہدہ کراچی 28 اپریل 1949
ریاست جموں و کشمیر کے بارے میں پاکستانی عزائم کا ڈراپ سین
تحریر ۔ ثمینہ راجہ ۔ جموں و کشمیر ۔
ریاست جموں و کشمیر اپنے بیش بہا قدرتی وسائل کے باعث روزِ اول سے ہی پاکستان اور بھارت کی خاص توجہ کا مرکز رہی ہے ۔ ریاست ایسے قدرتی وسائل سے مالامال ہے جو پاکستان اور بھارت دونوں کی معاشی ترقی اور اقتصادی خوشحالی کے لیئے ناگزیر ہیں ۔ پھر ریاست کا جغرافیائی موقع محل ایسا ہے کہ عالمی اقتصادی انتظام و انصرام میں اسے نہایت اہم مقام حاصل ہو جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں ممالک ہر صورت میں ریاست جموں و کشمیر کو اپنے مکمل کنٹرول میں رکھنے کے خواہاں ہیں ۔ یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ اگر ریاست جموں و کشمیر پاکستان یا بھارت کے انتظامی اثر سے آزاد ہو جائے تو ان ممالک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ جاتی ہے ۔
انہی حقائق کے پیشِ نظر 1947 میں پاکستان نے اپنی فوج کی قیادت میں ریاست جموں و کشمیر پر زبردستی قبضہ کرنے کی نیت سے قبائلی حملہ کیا ۔ مگر ریاستی حکمران مہاراجہ ہری سنگھ کے ردِعمل کے باعث پاکستان اپنے عزائم میں مکمل طور پر کامیاب نہ ہو سکا ۔
مہاراجہ ہری سنگھ کی ایماء پر بھارت نے اپنی افواج کو ریاست جموں و کشمیر میں پاکستانی افواج کا مقابلہ کرنے کے لیئے بھیج دیا ۔ یوں پاکستان کی توقعات اور خواہشات کے برعکس ریاست کے اندر پاکستان اور بھارت کا فوجی ٹکراو شروع ہو گیا ۔ جس کے باعث اپنے مقامی ایجنٹوں کی ساز باز کے باوجود پاکستان ریاست کے دارالحکومت یا کشمیر وادی پر قبضہ نہ کر سکا اور ڈوبتی کشتی کی ریوڑیوں کے مصداق ریاست کے ایک حصے کو اپنی گرفت میں لے لیا ۔
پاکستان نے عالمی دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکی تھی کہ وہ ریاست کے اندر کسی قسم کی کاروائی میں ملوث نہیں ہے ۔ اور یہ محض ریاستی عوام ہیں جو اپنے حکمران کے خلاف بغاوت کر رہے ہیں ۔ مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ ریاست کے اندر مہاراجہ حکومت کے خلاف کسی قسم کی کوئی بغاوت موجود ہی نہیں تھی اور پاکستان نے اپنے حملے کے ذریعے ایسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کی جنہیں بغاوت ظاہر کیا جا سکے مگر پاکستان محض مذہبی بنیادوں پر تعصب اور منافرت ہی پیدا کر سکا اور عملی طور پر مقامی آبادی نے اپنی حکومت کے خلاف کوئی بغاوت نہ کی ۔
ان حالات میں جب پاکستان ساری ریاست پر قبضہ کرنے میں ناکام ہو گیا تو اس نے ریاست کی تقسیم میں ہی عافیت سمجھی اور جن علاقوں میں پاکستان نے مقامی سیاسی رہنماوں کو مختلف حربے استعمال کر کے خرید لیا تھا وہاں ایک کٹھ پتلی حکومت قائم کر دی ۔ اس حکومت کو مہاراجہ ہری سنگھ کی جانشین انقلابی اور جمہوری حکومت قرار دیا گیا مگر اس حکومت کے قیام کے بعد بھی ریاست جموں و کشمیر کے اندر جب پاکستان کے حق میں کوئی تحریک نہ پنپ پائی اور بھارت نے اپنے زیرِ انتظام ریاستی علاقوں پر اپنی گرفت مضبوط کرنا شروع کر دی تو پاکستان نے بھی اپنا اصل چہرہ ننگا کر کے ریاست کے بارے میں اپنے منصوبے کو عملی شکل دینا شروع کر دی ۔
پہلے دن سے ہی پاکستان کا مقصد ریاست کے وسائل پر اپنا تسلط قائم کرنا تھا ۔ پاکستان کو نہ تو ریاستی عوام سے کوئی سروکار رہا ہے اور نہ ہی ریاست کی آزادی سے کوئی مطلب ۔ ریاست کے مستقبل اور ریاستی عوام کے معیار زندگی کے حوالے سے پاکستان نے اپنی نیت کراچی معاہدے کی شکل میں کھل کر ظاہر کر دی ۔
پاکستان ریاستی حکومت اور عوام کو کیا درجہ دیتا ہے اس کا اظہار پاکستان نے اس وقت کی ریاستی قیادت کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیئے اپنے سرکاری نمائندے کے چناؤ سے بھی کیا ۔ ریاست جموں کشمیر کی نام نہاد انقلابی حکومت کے صدر سردار ابراہیم خان اور ریاست کے اس پار کی مسلمان عوام کی واحد نمائندہ سیاسی جماعت کے صدر چوہدری غلام عباس دونوں نے معائدے پر دستخط کیئے جب کہ پاکستان کی طرف سے ایک بے محکمہ وزیر مشتاق گورمانی نے دستخط کیئے ۔ یوں اس امر کا اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان کے نزدیک ریاستی حکومت کا درجہ ایک میونسپل کارپوریشن کا رہا ہے اور معائدہ کراچی طے کر کے پاکستان نے عملی طور پر اپنے زیرِ قبضہ ریاست کو ایک میونسپل کارپوریشن بنا ڈالا ۔
اگر بھارت اور پاکستان کے ریاست جموں و کشمیر کے حوالے سے رویئے کا تجزیہ کیا جائے تو یہ امر کھل کر سامنے آتا ہے کہ بھارت کا رویہ ریاستی عوام اور ریاستی حکومت کے ساتھ پاکستان کی نسبت بہت بہتر اور عزت افزاء رہا ہے ۔
پاکستان نے 28 اپریل 1949 کو کراچی معائدے کے
ذریعے جو شرائط طے کیں ان کی تفصیل کچھ یوں ہے –
(الف) پاکستان کی حکومت کے کنٹرول میں دئیے گئے معاملات:
1. دفاع
2. آزاد کشمیر کی خارجہ پالیسی
3. اقومِ متحدہ کے کمیشن برائے بھارت و پاکستان کے ساتھ مذاکرات
4. پاکستان اور بیرونی دنیا میں نشر و اشاعت
5. مہاجرین کی آبادکاری اور بحالی کے معاملات کا انتظام و انصرام
6. رائے شماری کے ضمن میں نشر و اشاعت کا انتظام و انصرام
7. پاکستان کے اندر تمام ریاستی معاملات مثلاً مہاجرین کے کیمپوں کے لیئے خوراک، ادویات و علاج معالجے اور دیگر اشیائے ضرورت کی فراہمی کا انتظام و انصرام
8. گلگت اور لداخ کے تمام انتظامی معاملات پر پولیٹیکل ایجنٹ کا مکمل کنٹرول
(ب) حکومتِ آزادکشمیر کے انتظام میں دئیے گئے معاملات:
1. آزادکشمیر کے علاقے کی انتظامی پالیسی
2. آزادکشمیر کے علاقے میں انتظامی معاملات کی عمومی دیکھ بھال
3. آزادکشمیر حکومت اور انتظامیہ کے معاملات کی نشر و اشاعت
4. اقومِ متحدہ کے کمیشن برائے بھارت و پاکستان کے لیئے موصوف وزیرِ بے محکمہ کو صلاح مشورہ
5. آزادکشمیر کے خطے کے لیئے معاشی وسائل کی ترقی
(ج) مسلم کانفرنس کےِ انتظام میں دئیے گئے معاملات:
1. آزادکشمیر کے خطے میں رائے شماری کے حوالے سے نشر و اشاعت
2. بھارتی زیر قبضہ علاقے میں نشر و اشاعت اور زمینی سرگرمیاں
3. آزادکشمیر کے خطے اور بھارتی مقبوضہ ریاستی علاقے میں سیاسی سرگرمیوں کی تنظیم
4. رائے شماری کے ضمن میں عبوری اقدامات
5. رائے شماری میں شرکت کے لیئے تنظیم
6. پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کے اندر نشر و اشاعت اور سیاسی سرگرمیاں
7. اقومِ متحدہ کے کمیشن برائے بھارت و پاکستان کے لیئے موصوف وزیرِ بے محکمہ کو صلاح مشورہ ۔
قارئینِ کرام بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ سردار ابراہیم خان اور چوہدری غلام عباس نے پاکستان کے ساتھ کراچی معائدہ کر کے ریاست جموں کشمیر کی آزاد اور انقلابی حکومت کو ایک میونسپل کارپوریشن کا درجہ دے دیا اور گلگت بلتستان کے علاقوں کو پاکستان کی تحویل میں دینے کے علاوہ آزادکشمیر کے تمام اہم اختیارات و معاملات کو بھی پاکستان کے تصرف میں دے دیا ۔ اور اس کے باوجود پروپیگنڈا یہ کیا جاتا ہے کہ ڈوگرہ حکومت کے خلاف بغاوت کر کے ریاست جموں و کشمیر کو آزادی دلوائی گئی ۔ درحقیقت 1947 کی ساری سرگرمیاں ریاست جموں و کشمیر کو ڈوگرہ حکومت کے اثر سے نکال کر پاکستان کی تحویل میں دینے کے لیئے تھیں ۔ بعد ازاں مسلم کانفرنس اور سردار ابراہیم نے ایکٹ 74 کا نفاذ کر کے آزادکشمیر کے تمام کے تمام انتظامی معاملات کو بھی پاکستان کے سپرد کر دیا ۔
دوسری جانب اگر بھارت کا سلوک دیکھا جائے تو بھارت نے پاکستان کی نسبت ہمیشہ ریاست جموں و کشمیر کے عوام کو زیادہ آزادی، انتظامی اختیارات اور مقام و مرتبہ دیا ۔ بھارتی آئین کا آرٹیکل 370 اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت نے اپنے زیرِ قبضہ ریاستی علاقے کے عوام کو مکمل داخلی خودمختاری دی ۔ اور وہاں ریاستی اسمبلی کی منشاء کے بغیر کسی قسم کی قانون سازی ممکن نہیں – اور آزادکشمیر کے برعکس ریاست کے تمام داخلی معاملات پر ریاستی عوام کا کنٹرول ہے –
یہاں یہ امر بھی عیاں ہوتا ہے کہ مہاراجہ ہری سنگھ ریاستی عوام کو اپنے تمام معاملات کا اختیار دینا چاہتا تھا حتی’ کہ اس بات کا ثبوت بھارت کے ساتھ ہونے والے ریاستی انتظام و انصرام کی تفصیل سے بھی ملتا ہے ۔ اس کے برعکس جن علاقوں کو پاکستان نے اپنے قبضے میں لیا وہاں کی سیاسی قیادت نے ریاستی معاملات کو مکمل طور پر پاکستان کو سونپ دیا ۔ اور ریاستی عوام کی تمام سیاسی، انتظامی اور آئینی آزادیوں کو پاکستان کی جھولی میں ڈال دیا –
یوں اگر یہ کہا جائے کہ 28 اپریل 1949 کا معائدہ دراصل ریاست جموں و کشمیر کو پاکستان کے ہاتھ فروخت کرنے کی دستاویز ہے تو کچھ غلط نہ ہو گا ۔
آزادکشمیر حکومت کی سرگرمیوں اور بھارتی زیرِ انتظام ریاست کی آئینی حیثیت کا جائزہ لے کر قارئینِ کرام ریاست کے مختلف خِطوں کی سیاسی قیادت کے عملی کردار کا تجزیہ بھی کر سکتے ہیں ۔ صورتحال کا غیر جانبدارانہ تجزیہ کرنے سے یہ بات بھی عیاں ہوتی ہے کہ ریاست جموں و کشمیر پر بیرونی قبضہ کرانے اور ریاستی عوام کو مصائب و مسائل کی چکی میں پیسنے کی تمام ذمہ داری نام نہاد آزادکشمیر حکومت پر ہی عائد ہوتی ہے ۔
تحریر ثمینہ راجہ ۔ جموں و کشمیر ۔

image

تبصرہ جات بذریعہ فیس بک

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply