میں کون۔۔۔

میں کون۔۔۔
کافی دن سے کچھ نئے بننے والے فیس بکی دوست میرے بارہ میں جاننے کے لئے انباکس میسج کرتے رہتے ہیں کہ آپ ہیں کون، کہاں سے ہیں کیا کرتے ہیں۔ تو سوچا کیوں نہ کچھ اپنے بارے میں بھی جاننے کی کوشش کی جائے۔
یہ اس دور کی بات ہے جب جب تاریخ پیدائش تو دور کی بات پیدائش کی بھی کوئی خاص اہمیت نہ تھی۔ سرکاری کاغذات میں پیدائش کی تاریخ 16 اکتوبر 1982 درج ہے لیکن والدہ کا اصرار ہے کہ یہ اسی سال کے ماہِ رمضان کا تیسرا دن تھا جب ہم اس دنیا میں مولود بر مقام برنگ بن، ضلع حویلی آزادکشمیر، ہوئے۔ نام راجہ محمد ظفرالحق راٹھور رکھا گیا، اتنا لمبا نام رکھنے کی وجہ تا حال معلوم نہ ہوسکی ۔ لغوی اعتبار سے تو مطلب حق کی فتح ہے لیکن مطمع نظر کیا تھا اس پہ بھی آج تک پردہ ہی ہے۔
ہائی سکول سولی کے ابتدائی دنوں سے انتہائی دنوں تک کبھی یہ سمجھ نہ آ سکی کہ یہ پڑھایا کیا جا رہا ہے اور کیوں پڑھایا جا رہا ہے۔اور نہ پڑھنے پہ اتنا تشدد کرنا لازمی کیوں ہے۔ استاتذہ کرام اگر چہ محنتی تھے لیکن اپنی طبیعت مائل بہ سستی ہی رہی تاوقتیکہ میٹرک میں سو کے لگ بھگ نمبرات لےکے زندگی کی پہلی بڑی ناکامی کے سہرا اپنے سر سجایا۔کچھ ایسا ہی حال 35 دیگر ہم مکتبین کا بھی تھا۔ ناکامی کی سمجھ اتنی تو نہ تھی لیکن کلاس میں واحد کامیاب ہونے والی شخصیت کے رنگ روپ دیکھ کے محسوس ہوا کہ کامیابی کچھ الگ چیز ضرور ہے۔ اگر چہ گھر جاکے منہ بسور کے بھرپور کوشش کی کہ ناکامی پہ شدید شرمندگی ہے اور گھر والوں کو یقین بھی کامیابی سے دلا لیا۔ فرمانِ پدری یوں جاری ہوا کہ کل سے دوبارہ اسی سکول میں تشریف لے جائی جائے اور حصولِ علم کی جدوجہد میں اضافہ کیا جائے۔ لیکن دل اس بات پہ قائل نہ ہوا کہ کل کے بچوں کو اپنا ہم مکتب بنانے کا اعزاز بخشا جائے۔
اس سکول کے پرتشدد اور غیر علمی ماحول سے جان چھڑانے کی وجوہات سے زندگی کا پہلاعقلی فیصلہ سرزد ہوا کہ وہاں کی بجائے مظفرآباد کے مقام پہ اگلی تعلیم کا سلسلہ شروع کیا جائے۔ سو اس خیال کو عملی جامہ پہنانے کے لئے والد صاحب سے بات کرنا ضروری تھی، اور ان کا رعب و دبدبہ آڑے تھا۔ اور پیغام رسانی سے اس لئے دور رہے کہ مبادہ کہیں قاصد اپنے خیالات شامل نہ کر دے۔ اس کا حل یہ نکالا کہ ایک قلمی نسخہ تیار کیا اور والد صاحب کے سونے کا انتظار کیا، جب یقینِ محکم ہو گیا کہ چھوٹی موٹی سسراہٹ سے نیند میں خلل نہیں پڑھنے والا تو اپنا پیغامِ تعلیم ان کی نسوار کی پڑی میں ربڑ کے ساتھ بڑی چابک دستی سے منطبق کر کے رفو چکر ہو گئے۔
خیر نامہ بر اتنا کارگر ثابت ہوا کہ والد صاحب کو رائے بہت پسند آئی اور فوری فیصلہ جارہی ہوا کہ مظفرآباد ہماری تعلیمی سرگرمیوں کے جاری رکھنے کا بہترین مقام ہے۔ اور یوں ہم جناح سکول مظفرآباد میں ریگولر بنیادوں پہ داخل ہو گئے۔ جہاں پہ پرنسپل مخترم راجہ سلیم صاحب کو ہماری کچھ ایسی خفیہ صلاحیتوں کا اندازہ ہو جن کا آج تک ہمیں نہ ہو سکا۔ اور ہمیں قابل ترین طلبہ کے گروپ میں شامل کر کےاتنی توجہ دی گئی کہ میری زندگی کے تبدیلی کا نقطہ آغاز ثابت ہوا۔ ہر لمحہ ان کے لئے بے شمار دعائیں نکلتی ہیں۔ اگر وہ استاد مجھے میسر نہ ہوتے تو حویلی کے کسی کونے کھدرے میں سیاسی نعرے لگا کے اپنے آپ کو ملک کی اعلی قیادت تصور کر رہے ہوتے۔
اپنی انا اور خاندانی جاہ پہ پہلا وار ایک استاد محترم نے کیا۔ پہلے دن مجھ سے تعارف پوچھا، جو ہم نے نام ہی کافی ہے تک محدود رکھا۔ مزید سوال ہوا کہ کہاں سے ہو تو ترنت جواب تھا سولی سے۔ ان کے بلا جانے یہ سولی کیا ہے، لیکن ہماری نظر میں تو ہم نمبردار صاحب کے فرزند ہیں اور استادِ محترم کو شجرہ بھی معلوم ہونا چاہیےاس سے آگے نہ بڑھ سکے۔ بھلا ہو ایک قریبی عزیز کا جو کے کلاس فیلو بھی تھا، جس نے ضلع باغ تحصیل حویلی کا سابقہ لاحقہ لگا کے منکر نکیر کے مرحلہ سے آزادی بخشوائی، لیکن سوال یہ کھڑا ہو گیا کہ ادھر ہماری حیثیت چیلنج ہو چکی ہے۔ اس کو منوانے کے لئے باقی لوگوں کے اطوار پہ غور کرنا شروع کیا تو وہ صرف قابلیت کے بل بوتے پہ تھی۔ سو ہم نے بھی ٹھان لی کہ یہی اطوار اپنانے میں عافیت ہے۔ الحمدللہ یہ مرحلہ خوش اسلوبی سے طے پا گیااور ہم کالج سدھار گئے۔
کالج کے دو سالوں میں سے صرف 22 دن خاضر ہونے کا اتفاق ہو سکا، وجہ یہ تھی کہ نیشنلسٹ طلبہ تنظیمیں اور مقامی سیاسی تنظیمیں کالج میں آ کے لڑنا فرضِ عین سمجھتی تھیں اور اور ہمیں جانِ عزیز کچھ زیادہ عزیز بھی تھی اور گھر والوں کی سیاسی معاملات سے پرہیز کی نصیحت بھی پلے باندھی تھی۔ لیکن مظفرآباد میں قابل پروفیسر زپرائیوٹ طور پہ دستیاب تھے تو سلسہ اچھا چلتا رہا۔ اور ہم ایف ایس سی بھی قدرے بہتر انداز میں کرنے میں کامیاب ہو ہی گئے۔
کالج کے دنوں میں ہی عارف بخاری صاحب سے پڑھنے یونیورسٹی کے فزکس ڈیپارٹمنٹ جائے کرتے تھے، ان کا تعلق اپنے آبائی علاقہ سے تھا اس لئے شفقت زیادہ بھی کرتے تھے۔ ان کے آفس کے ساتھ ایک کمرہ ہمہ وقت ائرکنڈیشنڈ ، مکمل کارپٹیڈ ہوتا تھا، اور اس میں جو بھی جاتا جوتے اتار کے اور بڑے عزت و احترام سے داخل ہوتا۔ ہم سمجھے پیر لوگ ہیں شاید کوئی چِلہ کوٹھی بھی بنوائی ہے۔ لیکن بہت بعد میں پتہ چلا کہ ادھر کمپیوٹر نامی کوئی شے ہےجس کی اتنی عزت افزائی ہوتی ہے۔ خیر دور سے درشن کے اتفاقات ہو جاتے تھے۔ اور اس کے قربت کے حصول کے لئے اگلا قدم ہم نے کمپیوٹر سائنسز میں ہی ڈالا اور مظفرآباد یونیورسٹی کی کمپیوٹر سائنس کی پہلی کلاس کے طالب علم ہونے کا شرف حاصل کیا۔
یہاں پہ کیا کیا گزری ایک لمبی داستان ہے، لیکن زندگی کے یادگار دن بہرحال وہی تھے۔ وہ موج مستی ، وہ آزادی، وہ بہترین اور بے لوث دوستوں کا گروپ تعلیمی دنیا میں پھر دستیاب نہ آیا۔
کچھ چھوٹے موٹے دیگر امتحانات سے گزر کے ہم بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی سے ماسٹرز کی ڈگری کے حصول میں بھی کامیاب ہو گئے۔ اسی دوران 2005 کے زلزلہ نے ذہنی طور پہ کافی دھچکہ دیا، لیکن مر جی کے ماسٹرز کر ہی گئے۔اور عملی زندگی کے لئے سوشل سیکٹر کا انتخاب کیا۔ پاکستان پاورٹی ایلیوایشن فنڈ میں پہلی انٹرن شپ کی، جو کہ پورے پاکستان سے صرف بارہ لوگ چنے جاتے تھے اور ہمیں باوجود مختلف سیکٹر کی ڈگری ہونے کے یہ اعزاز حاصل رہا کہ پاکستان اور کچھ دیناکے بہترین سوشل ورکرزسے دیکھنے کو بہت کچھ ملا۔ اسی دوران سندھ کے ریگستانوں میں غربت کو بہت قریب سے دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ سافکو کے چیف سلیمان جی ابڑو جیسی شخصیت کے قرب اور خصوصی توجہ نے بہت کچھ سیکھایا۔کیس سٹڈی لکھنے کا جنوبی ایشیا کا مقابلہ جیتنا اس دوران کا اہم اعزاز تھا۔ سندھ کی روایات، لوگوں کا پیار، اور غربت کی انتہا کی وجوہات اور تدارک کو جاننا یقیننا بڑےسرمایہ سے کم نہیں۔
27 مارچ 2007 کو اسلامک ریلف کہوٹہ میں خدمات کا موقع ملا۔ بہترین لوگوں کے ساتھ تقریبا 6 سال گزارنے کا جہاں اتفاق ہوا وہیں اپنے لوگوں کو پڑھنے سمجھنے کا موقع بھی ملا اور موقع پرستوں کا جاننے کا اتفاق بھی۔ غربت کی وجوہات بھی سمجھ آئیں اور جہالت کے انداز بھی دیکھے۔ بڑے بڑے نام والوں کی چھوٹی خرکات بھی دیکھیں اور عام لوگوں کا اعلی ظرف بھی۔ دریں اثنا ادارہ کے ذمہ داران کو ہم زیادہ پسند نہ رہے ، اس سیکٹر کے اندر کچھ سیاہ چہروں نے کافی دل برداشتہ کیا۔ سازشوں کے وسیع جال نے بہت کچھ سکھایا، تو استعفی دے کے نئی دنیا میں چل نکلے۔
واپس راولپنڈی کو اپنا ٹھکانہ بنایا، اپنے یونیورسٹی کے دوستوں سے رابطہ کیا کہ ہم بھی آئی ٹی کی دنیا میں جھک مارنا چاہتے ہیں، لیکن ہر کسی نے مشورہ دیا کہ عمر عزیز کا اصل حصہ ضائع کر آئے ہیں، اس لئے ادھر اب کچھ کر سکنے کے قابل نہیں۔ اسی بات ہو مہمیز بنایا اور الحمدللہ اتنا ڈٹ کے کام کیا کہ اخباب کے کہے ناممکن کو ممکن بھی بنایا اور برطانیہ، امریکہ اور کنیڈا کی بڑی اور پروفیشنل کمپنیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع بھی ملا اور گھر بیٹھ کے (فری لانسنگ کے ذریعہ)بڑی بڑی ٹیموں کو منیج کرنے کا موقع بھی ملا، اور بلاشبہ یہ سیکھنے کا نادر موقع تھا۔ پچاس ڈالر فی گھنٹہ کی کنسلٹنسی سروسز گھر بیٹھ کے مہیا کرنا اسی سخت محنت کی وجہ سے ممکن ہوا۔
ادبی ذوق بچپن سے ہی والد صاحب نے اخبارات زبردستی پڑھا کے اجاگر کیا تھا اور میٹرک فیل ہونے تک الحمدللہ ارد و ادب پارے ازبر تھے،تاریخِ اسلام، مارکس ازم، سوشل ازم، روخانیت پہ بھی اچھا خاصا دماغ کھپایا،لیکن شاعری کی طرف طبیعت مائل نہ ہوئی۔دل کے قریب تخاریروتقریر و قرب جناب استادِ محترم پروفیسر احمد رفیق اختر کی لگیں، اور کافی حد تک واصف علی واصف کی۔اکثریت کو داستان گو پایا۔
دریں اثنا دماغی سائنس پہ تحقیق کا بہت موقع ملا، اور مسلسل کوشش جاری ہے۔ ڈاکٹر معیز جیسے اساتذہ کا قرب کسی سرمایہ سے کم نہیں ہے۔
یہ سب کچھ کرنے کے بعد اس بات کا احساس شدت سے ہے کہ اس سیکھنے کے عمل کو اپنے علاقے اور اپنے لوگوں تک بھی پہنچایا جائے، کوشش میں ہوں کہ کوئی ایسا طریقہ وضع کرنے میں کامیاب ہو سکوں کہ ان لوگوں تک بھی یہ تجربات، مشاہدات اور روشنی پہنچا سکوں جس کے لئے عمر کا ایک بڑا حصہ محتص رہا ہے۔کوئی ایسا طریقہ جو سیاست، لالچ، غرض سےمکمل پاک بھی ہو اور باقاعدہ سسٹم کی شکل میں چل بھی سکے۔

تبصرہ جات بذریعہ فیس بک

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply