فرشتوں سے بہتر ہے انسان ہونا

تاریخ انسان بڑی جدوجہد، مشقت، تخاریک، تجربات، مشاہدات، جنگ و جدل، پیارو مخبت، ظلم و جبر،تخقیق، تصور، علوم ہر لخاظ سے بهرپور ہے. جس پہلو کے نہاں خانوں میں جهانکا جائے ایک سے بڑه کے ایک سبق ملتا ہے.
لیکن تاریخ کا سب سے تلخ سبق پهر بهی یہی ٹهہرا کہ تاریخ سے سبق بهی کوئی نہیں سیکهتا.
وجود آدم کو ہی اگر انسانیت کا آغاز مانا جائے تو انسان شروعات سے ہی غاصب واقع ہوا، قابیل و ہابیل کی ابتدائی جنگ ہی کسی کے حق پہ نظر رکه کے سامراجیت کی بنیاد ڈالتی نظر آتی ہے.
اگرچہ یونان و مصر، بابل و نیوا، قیصروکسری نے تہذیبی پہلووں کو آگے بڑهانے کی کوشش ضرور کی لیکن ایک محدود ریاست یا علاقیت کے اندر ہی انسان اپنے تئیں کسی حد تک مہذب نظر آتے ہیں. لیکن اجتاعیت کا آفای تصور عملیت سے دور ہی نظر آتا ہے.
مذاہب نے افراط و تفریق کے خاتمہ کے لئے بهرپور اور جاندار کوشش کی. لیکن اجارہ داری کے دلدادہ مصر رہے کہ خدا بت خانے میں ہے، کچه کو کلیسا میں نظر آنے لگا، کسی نے درگاہ و خانقاہ کی راہ پکڑی کسی کو مسجد مدرسہ میں قرب دکهنے لگا. لیکن اجتماعت کا تصور بننے کی بجائے مذاہب کے فرقے بنتے گئے، فرقوں کے ذیلی تفکرات و مبالغات تقسیم در تقسیم کے فلسفہ پہ چلتے نظر آئے. جس کا جتنا بس چلا اجتماعیت سے انفرادیت کی طرف چل کے لوگوں کو بمثل ریوڑ ہانکتا رہا اور استخصال کے نت نئے طریقے ایجاد ہوئے. آفاقی تعلیمات والا مذہب اسلام دور فاروقی میں جس عروج کو پہنچا، پهر چشم فلک اس نظارہ سے محروم رہی.
سوشلزم، کمیونزم، ڈیموکریسی سب تصورات رہ گئے اور ہائپوکریسی قانون وقت بنی اور مضبوط قانون صرف طاقت ور کا یا جو استخصال میں زیادہ طاقت ور ہو، مائیٹ از رائیٹ اور سروائیول آف فٹیسٹ نے ہی مقام حاصل کیا.
معیشت کا مرکز جب زراعت تهی، تو زمیندار استخصال کا منبہ. جب صنعت نے پیسہ پیدا کرنا شروع کیا تو صنعتکار نے پنجے گاڑ لئے. پهر ٹیکنالوجی نے انقلاب برپا کیا تو معیشت کے نئے در بهی وا ہوئے. لیکن مواقع کی بهی نئی دنیا تخلیق ہوئی. اب آوازیں دبتی ہیں تو اٹهتی بهی ضرور ہیں.
ٹیکنالوجی کا جو سب سے اہم پہلو ہے وہ اجتماعیت کی طرف لانے کا کردار ہے. اور یہ ایک بهرپور ارتقائی سفر سے گزرا ہے. اگر یہ بهی کہا جائے کہ انسان نے انسان کو انسان سے دور کرنے کی کوشش کی اور مشین نے قربت میں کردار ادا کیا تو غلط نہ ہو گا. اگر چہ ناقدین کا خیال ہو سکتا ہے کہ وہ بهی انسان کی تخلیق ہے تو بجا لیکن وہ انسان معدودے چند ہیں جو ایسے پروجیکٹس اور تخقیقات پہ کام کر کے قرب انسانی کا سبب بنے. مضمرات اپنی جگہ موجود ضرور ہیں اور بہت خوفناک بهی.
تمام سسٹمز کے اجمالی جائزہ کا مقصد یہ ہے کہ نظام کوئی بهی ہو جب تک اس کو اس کی روح اور خلوص نیت سے احتیارنہ کیا جائے اور اسے کچه افراد کے ہتهے نہ چڑها دیا جائے تو خباثتیں کم پیدا ہوتی ہیں.
اگر مشینیں انسانوں کے قرب کا سبب بن سکتی ہیں تو انسان کیوں نہیں.
آئیں ایک لفظ کا قانون بنائیں، اس کا نام “انسانیت” رکهیں اور پهر صدق دل سے اس پہ عمل پیرا ہو جائیں. یہی بقا کا سبب ہے یہی وقت کا تقاضا.

تبصرہ جات بذریعہ فیس بک

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply