نفرتوں کے بیوپاری

نفرتوں کے بیوپاری
انسان پتھر کے دور سے لے کے آج تک تقریباایک جیسے مسائل کا شکار ہے۔ اگر آج سے 2000 سال پہلے بھی بھوک ایک مسئلہ تھی تو آج بھی بنیادی مسئلہ ہے۔ اگر تب چھت کے بِنا لوگ زندگی گزار رہے تھے تو آج بھی ایسے لوگوں کی کوئی کمی نظر نہیں آتی۔ جہالت تب کا بھی المیہ تھی اور آج بھی تیسری دنیا کا سرِ فہرست مسئلہ ہے۔ صحت کے جتنے تب مسائل تھے اب اس سے کئی گنا زیادہ بڑھ چکے ہیں اگرچہ علاج کی سہولیات بھی بہترین موجود ہیں لیکن عام آدمی کے مرنے کی عمومی وجوہات طبی ہی ہیں۔جنگ و جدل، لڑائی جھگڑا تب بھی عام تھا اور آج بھی کچھ کم نہیں۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ترقی کہاں ہوئی اور اس سے مستفید کون لوگ ہورہے ہیں؟ اور اگر کہیں پہ نہیں ہے تو اس کی وجوہات کیا ہیں اور ذمہ داران کون ہیں؟
سب سے پہلے ترقی کا مفہوم واضح ہونا ضروری ہے۔ ترقی بنیادی طور پہ وسائل میں آبادی کے لخاظ سے اضافہ اور ان وسائل تک عام آدمی کی بِلا تخصیص رسائی کو کہا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں آدھی سے زیادہ آبادی غربت کی بدترین سطح پہ ہے۔ اور اس کا سبب کون ہیں اس کے لئےکیس سٹڈی کے طور پہ آپ کو ہندوستان میں پانچ سو سال پہلے تک لئے چلتے ہیں۔
ہندوستان ایک مضبوط بادشاہت تھی۔ فیڈریشن کے تحت بہترین حکومت چل رہی تھی۔ عوام نسبتا خوشحال تھی۔ اگر چہ تعلیم و تحقیق کی طرف کوئی بھی توجہ نہ تھی لیکن پھر بھی ہندوستان کو سونے کی چڑیا کہا جاتا تھا۔ کیونکہ اس دور میں معیشت کی بنیاد زراعت تھی تو ایسے میں انگریز نے اپنا اثرو رسوخ بڑھانا شروع کر دیا۔ مقامی لوگ جو صدیوں سے امن وآتشی سے رہ رہے تھے ان کے اندر مذہبی نفرت کے پہلو اجاگر کرنا شروع کئے۔ انسان کو انسان سے لڑنے کا درس دیا جانے لگااور حالات اس نہج پہ پہنچے کہ ایک ہی گھر میں رہنے والوں نے مذہب کی بنیاد پہ دو قومیں کھڑی کر لیں۔ اور اس میں نفرت کے بیوپاریوں نے اپنے اپنے حصہ کے مطابق بھرپور کردار ادا کیا۔ اور لوگ دشمنی میں اندھے ہوتے گئے۔ جس کا واضح حل تقسیمِ ہندوستان کے علاوہ کوئی بن ہی نہ سکتا تھا۔ اور پھر ہندوستان دو ممالک میں بٹ گیا۔ اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ دونوں ممالک اپنے اپنے وسائل میں اضافہ کر کے عوام کی خوشحالی اور آزادی کا جو سنہرا خواب دیکھایا گیا تھا اس پہ پوری محنت اور خلوص کے ساتھ کوشش شروع کر دیتے۔
لیکن نہیں ایسا کر دیتے تو اپنے خاندان کیسے ترقی کرتے۔ جہاد (وہ اسلامی تصور کے تحت ہو یا ہندو تصور کے تحت)کے نام پہ کاروبار کیسے چلتے۔اجارہ داری کیسے قائم رہتی۔ سو سب سے پہلے تقسیم کے وقت نفرتوں کو مزید پائیدار کرنے کے لئے قتل ِعام کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہو کہ اللہ کے پناہ۔ لیکن نفرتوں کا بازار خوب گرم ہوا۔ پھر اس بازار کو گرم رکھنے کے لئے ایک مستقل روزگار بھی چاہیے تھا تو اس کے لئے ایک مسئلہ، مسئلہ کشمیر کے نام سے تخلیق ہوا۔ جس کا بظاہر دونوں ممالک سے کوئی تعلق نہ تھا۔ کیوں کہ کشمیر شروع سے ہی ایک الگ ریاست کے طور پہ قائم تھااور رہنا چاہتا بھی تھا۔
کچھ حصہ ہم نے قبائلیوں کو کشمیری بنا کے آزاد بھی کر لیا اور کچھ انڈیا والوں کے پاس رہنے دیا کہ بوقت ضرورت برائے جہاد کام آتا رہے۔ اور انڈیا کے زیرِ تسلط کشمیر میں میں نفرت کے پجاری ہندو مسلم کے نام پہ اپنے انسانیت کی بدترین تاریخ رقم کرتے رہے۔ یاد رہے کہ کشمیر کی تاریخ کسی مذہبی، لسانی، گروہی لڑائی سے تقریبا پاک رہی ہے۔
پھر سرحد کے اِس پار نفرت کے بیوپاریوں نے کمال چالاکی کے ساتھ مسئلہ کشمیر کو نازک موڑ میں پکڑ کے رکھا، تاریخ گواہ ہے اس سے ایک انچ بھی تب سے آج تک نہ ہل پایا۔مذہب والا راگ تو ادھر زیادہ نہیں الاپا جا سکتا تھا لیکن برادری ازم کے ایسے بیج بوئے کہ الیکشن میں دو امیدواروں کے درمیان ہندو مسلم فسادات سے زیادہ تلخ ماحول تخلیق کیا جاتا ہے اور ایک دوسرے کو اپنا ابدی دشمن بنا کے پیش کیا جاتا ہے کہ دورِ جہالیت بھی اِس دور پہ شرمندہ ہوتا ہو گا۔ اپنے اپنے خاندانی اوصاف ایسے گنوائے جاتے ہیں کہ دنیا کی ترقی ہوئی ہی انہی اوصاف کی بدولت ہے۔ دوسرے کا مظالم اور خوف کا ایسا تاثر قائم کیا جاتا ہے کہ شاید ہلاکو اور چنگیز آ کے حکومت بنائیں گے۔ اور ان کے خاندان سے حکومت چھن جانے کے بعدتو نسلیں تباہ اور فصلیں اجاڑ دی جائیں گی۔ ایک دوسرے کی خوشی غمی، دکھ درد میں شریک ہونے والے بالآخر ایک دوسرے کے دشمن بن جاتے ہیں اور اسے ملکِ عزیز میں سیاست کا نام دیا جاتا ہے۔ اور نفرت کے بیوپاری، نیلی پیلی لال گاڑیوں میں آگے پیچھے پڑاں پڑاں لگا کے گھومتے ہیں۔ ٹیکس کے پیسے پہ دنیا گھوم کے مسئلہ کشمیر اجاگر کرتے ہیں۔ ڈانس پارٹیوں میں ظلم کی داستان لہک لہک کے سناتے ہیں۔ اور وہ بے چارے جو ایک دوسرے کی گردن کے درپے بنا دئے جاتے ہیں، ہونکوں کی طرح منہ اٹھائے پانچ سال انتظار میں رہتے ہیں۔
قومی یا ملکی وسائل، جو کہ کسی بھی قوم یا علاقہ کی ترقی کا سبب ہوتے ہیں ان کو بڑھایا نہیں جاتا بلکہ ڈاکو بن کے لوٹا جاتا ہے۔انسانی وسائل جو کہ کسی بھی قوم کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اس کو اتنے برے طریقے سے پامال کیا جاتا ہے ہر بندہ ان پڑھ رہنے میں عافیت سمجھتا ہے۔ میرٹ کوجوتی کی نوک پہ رکھ کے کچھ من پسند خوشامدیوں کو نواز کے ہر دو طبقوں میں نفرت کے بیج بوئے جاتے ہیں۔اور اس تاثر کو تقویت دی جاتی ہے کہ اسی نظام کا حصہ نہیں رہو گے تو کچل دئیے جاو گے۔
بدقسمتی دیکھیے کہ جس وقت دنیا شعوری بلوغت کا مظاہرہ کرتے ہوئے، فیڈریشن اور کنفیڈریشن کی طرف جا رہی تھی، ہمارے رہنما ہمیں تقسیم کا سبق پڑھا رہے تھے۔ امریکہ کی 50 ریاستوں نے ساتھ مل کر رہنے کا معاہدہ کیا اور پهر وہ دنیا کا ایک طاقتور ترین ملک بن گئے۔ یورپ کے 28 ممالک نے مسلک اور نسل کی بنیادوں پر ہونے والی صدیوں کی طویل باہمی جنگوں سے سبق سیکھ کر یورپی یونین کی بنا ڈالی۔ اسی طرح دنیا کے دیگر سیاسی بالغ ممالک بھی باہمی تعاون سے رواداری سے رہنا سیکھ گئے۔ لیکن ہم برادری ازم، علاقاعیت اور تقسیم در تقسیم ، اور نفرتوں کے علمبردار بن کےایک دوسرے کے دشمن بنتے گئے۔
ایسے میں ضرورت اس امر کے ہے کہ ہر ذی شعور میدانِ عمل میں اترے اور اپنے حصے کاکردار ادا کرے۔ اپنے حق کے لئے لڑنا سیکھے۔ اپنا بھائی سے لڑنے کی بجائے جہالت سے لڑا جائے۔ ایک دوسرے کی گردن زنی کرنے کی بجائے طالع آزماوں کی گردن پہ ہاتھ ڈالنا چاہیے۔ اپنی نسلوں کی فصلیں تباہ کرنے کی بجائے ان امریکن سنڈیوں کو پہچانا جائے۔نفرت کی بھٹی میں جلانے والوں کو اگر روکا نہ گیا تو کوئی بعید نہیں کہ کل بیٹا باپ کو بھی قتل کرنے کے تیار ہو گا۔ آئیں پہلے انسان بنتے ہیں ایک دوسرے کو پیار کا درس دیتے ہیں۔ جب ہم انسان بن گئے تو یقین مانئے پھر ہمیں ترقی سے کوئی نہیں روک سکتا۔

تبصرہ جات بذریعہ فیس بک

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply