معراج النبی صلی اللہ علیہ وسلم

کائنات کچھ نہ تھی، زمیں نہ تھی ،آسماں نہ تھے، تارے نہ تھے ، زمان و مکاں کے تصورات تک ناپید تھے۔ مادہ وجود سے محروم تھا، کچھ نہ تھا بس ایک ذات تھی اور یکتا تھی ۔فرشتے احکام کی بجاآوری کو موجود تھے۔ عبادات تھیں، تسبیحات تھیں، سجدے تھے اور خدا تھا۔ حکم تھا اور تعمیل تھی۔ عرشِ عظیم تھا ،خدا ئےلم یزل تھاتمام طاقتوں کا منبا، تمام صفاتِ عالیہ کے ساتھ، مکمل جاہ جلال کے ساتھ۔
سب کچھ تھا مگر تابعِ احکام تھا۔ پھر بِن دیکھے چاہے جانے کا احساس در آیا، عشق کا گماں آیا، تصورِ یار آیا اور کن فیکون ہو گیا۔ لیکن سب ایک قانون کے تحت ایک مسلمہ سائنسی اصولوں کی روشنی میں۔ میرا رب کیسے سب کچھ اضطراری کیفیت میں بے ہنگم طریقہ سے کر سکتا تھا۔ تخلیق کا خالق تو باریکیوں کی انتہا تک جا کے ہر شے کو سنوار رہا تھا۔ رنگ و بو سے کائنات کو سجا رہا تھا، پانی کے سمندروں کو رواں کر رہا تھا، دریاوں کہساروں کو سجا رہا تھا، پھولوں اور جھرنوں میں رنگ و ساز جھڑ رہا تھا۔ اپنے عشق میں شوق کی انتہا کر رہا تھا۔کتنی محبتوں سے سب بنا رہا تھا۔ کتنی چاہتیں نچھاور کر رہا تھا، کہ یہاں اس کےغائبانہ عشق میں ایک مخلوق کی تخلیق ہونے جارہی تھی۔جس کا نام حضرتِ انساں ہونے جارہا تھا۔اور ان انسانوں میں ایک ذات تخلیق ہونی تھی جس کومکمل انسان کا شرف حاصل ہونے کو تھا۔ اشرف المخلوقات میں بھی بہترین انسان۔ رحمت العالمین۔ سراج الصالحین، محب الفقرا و الغرابا والمساکین ۔ عشق ِ مکمل، رونق بزم ِجہاں۔ محمدمصطفے صلی اللہ علیہ وسلم۔
جب سب کچھ تیار کر دیاہو گیا تو آدم کی ساخت خود تیار فرمائی، چشم تصور سے دیکھیے کیسے ندرتِ خیال کے ساتھ اپنی محبوب مخلوق کو تخلیق کیا جا رہا ہے۔ جسم بنا، روح بنی اور پھر عقل کو تخلیق کیا گیا، بے شک خوبصورت ترین تخلیق۔ پھر عقل کو چاروں طرف سے دیکھا گیا اور اپنی تخلیق پہ فخر کیاجا رہا ہے کہ کیا خوبصورت جمالیاتی ذوق کے ساتھ ہر باریکی کی انتہا کے ساتھ تخلیق کیا جارہا ہے۔
کچھ عرصہ جنت کے باغوں میں میزبانی کر کے اپنے زمین کے بنائے سنگلاح پہاڑوں اور سخت میدانوں میں امتحانِ عشق کے لئے روانہ کر دیا۔ اپنےآپ کو پردہ میں کر کے تلاش و جستجو کی وادیوں میں اتارا گیا۔ انسان بھٹکتا رہا، دوڑتا رہا، متلاشی رہا، جہاں پہ دیکھا کہ اب رہنما کی ضرورت ہے تو ضرورت کے عن مطابق انبیاء آئے، تعلیمات آئیں اور قرب کے نت نئے طریقے سکھلائے گئے۔
اور وہ وقت بھی آیا کہ جس کی خاطر یہ سب ساماں ہوئے، اشرفِ انسانیت، ہادی اعظم، معراجِ انسانیت، تاجِ انبیاء کو ظہور بخشا گیا۔ عشق کےسفر کے رہنما آئے، محمد ؐ مصطفے آئے۔ آسمانوں پہ جشن منائے کہ سرکار آئے۔ اپنے ماڈل کی مکمل شکل وصورت و کردار دینے کے بعد ہر طرح کے امتحانوں سے گزار، مشکلات میں آزمایا، اور عمرِعزیز کے چالیسویں سال نبوت سے سرفراز کیا۔ قرآن اترا، لفظ لفظ میں بھی حق اور حقیقت کا پیام آیا۔ اور سب ہو جانے کے بعداپنے کمالِ تخلیق، تکمیل عشق سے ملاقات کو اگلے جہانوں تک نہ ٹالا جا سکا۔
جذبہ عشق ومستی کا عروج ہوا اور آج کی رات آئی، جب جبرائیل پیامِ خدا لے کے دربارِ مصطفے آئے۔ سفرِ ِ دید کا آغاز ہوا، زمان ومکاں کو حکم ہوا کہ رک جاو، سب کچھ ساکت کر دیا گیا کہ آج عشق عروج پہ تھا، وقت ِ ملاقات تھا، وصال ِ یار تھا، سب کو امر کرنا تھا تو وقت کیسے چلتا۔ براق پہ مسجدِ اقصی تک پہنچے، نبیوں کے امام ہوئے اور عرشِ عظیم کو روانگی ہوئے۔
فرشتے انتظار میں قطار اندر قطار ہیں۔ ساتوں آسمانوں سے ہوتے مصطفے ؐ سدرہ المنتہی تک پہنچے، جبرائیل کے قدم رک گئے کہ اب مقامِ مصظفےؐ شروع ہوتا ہے۔ اب خدا ہو گا اور مصطفے ؐ ہوگا۔ خلوت کی ملاقات ہو گی، جلوہ رب جلیل ہوگا۔ فخرموجودات خالقِ کل کے دربار میں پہنچے۔
بس تصور پھر دیکھنے سے قاصر ہے کہ کیا ہوا، الفاظ ساتھ دینے سے انکاری ہیں کہ کیسے بیاں ہوں کیفیات۔ جو بھی ہوا انتہا ہوا۔

تبصرہ جات بذریعہ فیس بک

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply