عارف شاہد شہید۔۔۔ دوسرا مقبول بٹ

جواداحمدپارسؔ

فروری کا مہینہ شروع ہوتے ہیں کشمیر کی سیاسی زندگی خاص کر آزادی پسندوں کی زندگی میں ہلچل پیدا ہو جاتی ہے میر پور سے تاؤ بٹ تک کہیں سرخ ، کہیں سفید کہیں کالے تو کہیں پہلے جھنڈے لہرا رہے ہوتے ہیں دیواریں شہید کشمیر حضرت مقبول بٹ کے قدآدم بینرز اور مختلف پوسٹروں سے مزین ہو جاتی ہے جن پر جگہ جگہ پروگرامات اور تجدید عہد کے اوقات تحریر ہوتے ہیں ۔پورے سال میں بمشکل دو یا تین موقعے ایسے ہوتے ہیں جب یہ ٹوٹی پھوٹی قوم کسی ایک ہی مقصد کے لیے مختلف ٹولیوں کی شکل میں جگہ جگہ منڈلا رہی ہوتی ہے ۔

یہ فروری 2012 تھا جب میں مظفرآباد کے ڈگری کالج میں خود کو گھسیٹ رہا تھا۔ روایتی جماعتوں کی بینرز کالج کی دیواروں سے اتر چکے تھے اور ان کی جگہ این ایس ایف کے سرخ بینرز اور جھنڈوں نے لے لی تھی شہید کشمیر کی تصویر دیواروں پر نقش کی جا رہی تھی جگہ جگہ ’’کشمیر بنے گا خود مختار‘‘ ’’بٹ تیرا قافلہ رکا نہیں جھکا نہیں‘‘ ’’لے کے رہیں گے آزدی‘‘ جیسے دلفریب نعروں سے دیواروں کو مزین کیا گیا تھا۔ شہر میں اس کے علاوہ ایس ایل ایف، نیشنل عوامی پارٹی، لبریشن فرنٹ ، کشمیر نیشنل پارٹی اور اسٹوڈنٹس لبریشن فرنٹ کی تیاریاں بھی عروج پر تھیں ۔ میں سیاسی وابستگی سے مبرا تھا۔ اس لیے میں سوچ رہا تھا کہ جب ایک ہی تصویر اور ایک ہی مقصد کے لیے سب لوگ اتنی محنت کر رہے ہیں یہ محنت اگر مجتہد کر دی جائے تو اثرات لازوال ہو جائیں گے۔

غالبا منگل کا دن تھا جب ایک دوست نے مجھے فون پر بتایا کہ رائیل کنٹی نینٹل ہوٹل پر ’’اپنا ‘‘ (آل پارٹیز نیشنل الائنس ) کے زیر اہتمام بٹ شہید کی برسی کا پروگرام ہو رہا ہے آپ بھی آ جائیں ۔اس دن موسم ابر آلود تھا میں حسب معمول کالج گیا اور تقریبا ساڑھے گیارہ بجے ہوٹل پہنچا جہاں میرا تعارف قومی یکجہتی کی علامت عارف شاہد شہید سے ہوا۔ وہ اس وقت چائے پی رہے تھے اور ان کے ساتھ شوکت مقبول بٹ بھی کرسی پر براجمان تھے۔ میرا کوئی خاص تعارف نہیں تھا مگروہ نہایت مہربانی اور شفقت سے پیش آئے اور انہوں نے مجھ سے میرے بارے میں پوچھا۔چائے کی چسکی لیتے ہوئے کہنے لگے ’’آپ جیسے نوجوان ہی ہمارے مستقبل کا سہارا ہے بٹ شہید نے جس مقصد کے لیے جان داؤ پر لگائی اور کھیل گئے اس کی آبیاری اور پایہ تکمیل تک آ پ لوگوں کو ہی پہچانا ہے ہم اس راہ میں ایک دوسرے کا دامن تھام کر چلیں تے تو منزل تک پہنچ پائیں گے اگر دور دور سے ہاتھ ہلاتے رہیں گے تو ہماری راہیں مسدود ہو جائیں گی، اپنی تعلیم پر توجہ دیں ہمیں پڑھے لکھے ،زندہ دل، محنت اور لگن سے کام کرنے والے نظریاتی اور عملی جدوجہد کرنے والے لوگوں کی اشد ضرورت ہے اور سچ یہی ہے کہ فی الحال ہمارے پاس ایسے لوگوں کا فقدان ہے‘‘ پروگرام شروع ہونے کو کوئی ڈیڑھ گھنٹا تھا اس دوران وہ برابر مہمانوں کو خوش آمدید کہتے رہے ہر ایک سے ملتے رہے اور مسلسل کشمیر کے مسئلہ پاکستان اور ہندوستان کے تحفضات، ، گلگت بلتستان سے تعلقات، جموں کے دوستوں کی رائے ، سرینگر والے کیا چاہتے ہیں؟؟،خودمختار کشمیر اورکیسے ممکن ہے جیسے طویل اور جواب طلب سوالوں کے جوابات خندہ پیشانی سے دیتے رہے اور بحث دلائل سے کرتے رہے۔ ان کا سارا زور ’’اپنا ‘‘ کو مضبوط بنانے اور خود مختار کشمیر کے حامیوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی طرف تھا۔ میں نے یہ پہلا پروگرام دیکھا تھا جس مین آزاد کشمیر میں موجود تمام سیاسی جماعتوں (خود مختاری کی حامی)کے قائدین موجود تھے انہوں نے پروگرام میں مستقبل کی منصوبہ بندی کی تفصیلات بھی بتائیں جن میں 10جون کو نیلم ویلی میں ’’ملاپ مارچ‘‘ کے بارے میں تفصیل سے بات کی۔

ان سے میری دوسری ملاقات زیادہ طویل اور تفصیلا رہی یہ جون 2012ہی تھا جب عارف شاہد کی تنظیم نیشنل لبریشن کانفرنس اور اپنا کے زیر اہتمام نیلم ویلی میں کیرن کے مقام پر ’’ملاپ مارچ‘‘ کا اہتمام کیا گیا اس کے لیے وہ دس دن قبل ہی نیلم ویلی میں موجود تھے جہاں انہوں نے ذمہ دار حکام سے اجازت ناموں سے لے کر تمام قسم کی تیاریاں خود کر رہے تھے ٹینٹ سروس سے لے کر پانی تک۔ میں غالبا 8جون کو نیلم میں پہنچا ان سے میری ملاقات پریس کلب میں ہوئی جہاں سے وہ نیلم بار کونسل میں وکلاء سے خطاب کرنے گئے اس دوران میں ان کے ساتھ رہا ۔ وکلاء کی خطاب کے بعد وکلاء کے سوالات کے جوابات دیے گئے جن میں خود مختاری کے ثمرات اور طویل جدوجہد سے لے کر حکمت عملی تک سب شامل تھا۔ دس جون کا دن شاید ہی کوئی بھول سکے کیرن کھچا کھچ بھرا ہوا تھامیر پور سے لے کر تاؤ بٹ اور گلگت بلتستان سے لوگ موجود تھے یہ نیلم ویلی میں پہلا بڑا جلسہ تھا جس کا اہتمام نیشنلسٹوں نے کیا تھا۔ امید تھی کہ سرینگر اور جموں سے بھی لوگ دریا کے اس پار آئیں گے مگر انہیں پہلے ہی حراست میں لے لیا گیا تھا۔ دریا کے اس پار کیرن سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں لوگ جمع تھے جب کیرن گیسٹ ہاؤس کے سامنے ’’کشمیری ہوں گے باوقار، کشمیر بنے گا خود مختار‘‘ ’’لے کر رہیں گے آزادی ، ہے حق ہمارا آزادی‘‘ ’’اس پار بھی لیں گے آزادی ، اس پار بھی لیں گے آزادی‘‘ جیسے دل و روح کے گرما دینے والے نعرے لگ رہے تھے اس دن گرچہ ہر سیاسی جماعت نے اپنے اپنے جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے مگر سب کشمیری تھے سب کا ایک ہی مقصد تھا سب کا ایک ہی نعرہ تھا۔بچے ، نوجوان ، بوڑھے ، عورتیں ، سب جمع تھے بھارتی فوج دوسری طرف ہائی الرٹ تھی مگر کیرن کے زندہ دل لوگ ان سے ڈرے بغیر دریا تک آ گئے تھے جن کو بھارتی فوج اور پولیس نے ڈرا دھمکا کر پیچھے کیا ۔ ایک طرف آزادی کے نعرے لگ رہے تھے وہ مناظر نہایت ہی رقت آمیز تھے اور یہ سب اسی ایک شخص کی جدوجہد کا ثمر تھا۔ نیلم ویلی کی تاریخ میں یہ دن ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

ان سے تیسری اور آخری ملاقات نیلم میں ہی ہوئی تھی جہاں وہ نیشنل لبریشن کانفرنس کے کنونشن سے خطاب کرنے گئے تھے۔ وہ ذاتی طور پر ایک دفعہ مجھے لبریشن کانفرنس میں شرکت کی دعوت دے چکے تھے مگر میں معذرت خواہانہ انداز میں چپ رہا تھا۔ پی ڈبلیو ڈی گیسٹ ہاؤس اٹھمقام میں انہوں نے نیلم کے تنظیمی معاملات کو سلجھاتے ہوئے ہلکے پھلکے انداز میں خود کو لائق خطرات کے حوالے سے بھی خدشات کا اظہار کیا تھا ۔ بہت سارے لوگوں کی نظر مین ان کی شخصیت کو ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا جا رہا تھا اور بہت ساری آنکھوں میں وہ بال کی طرح چبھ رہے تھے۔ اس کے بعد ان سے میری بالمشافہ ملاقات نہیں ہو سکی اکثر فیس بک پر ہی بات چیت ہو جاتی تھی ۔

یہ 13مئی کی صبح تھی جب نیلم ویلی میں جشن نیلم کے سلسلے میں تقریبات ہو رہی تھیں ۔ اس رو ز میں گھر پر ہی تھا اور اپنے کمرے میں مطالعے میں محو تھا جب مجھے اطلاع ملی کہ گزشتہ شب عارف شاہد کو راولپنڈی میں ان کے گھر کے باہر ’’نامعلوم‘‘ افراد نے شہید کر دیا ہے ۔ یہ وہی نامعلوم افراد ہیں جن کے بارے مین ہر کشمیر ی کو معلوم ہے ۔ ان کی شہادت تحریک آزادی کے لیے بٹ صاحب کے بعد ایک دوسرا بڑا سانحہ تھی جس کے بعد گزشتہ چار سال سے تحریک آزادی خونی لکیر کے اس طرف منجمد ہو کر رہ گئی ہے۔ کچھ عرصہ میں ہی ان کے باقی دوست بھی کنارہ کش ہو گئے لبریشن کانفرنس ختم ہو گئی ۔ ’’اپنا‘‘ کا نام رسالوں میں رہ گیا ۔۔ اعتماد کی جو فضا ان کی کوششوں سے قائم ہوء تھی یکدم کسی شیشے کی طرح ٹوٹ کر بکھر گئی۔ جو اعتماد ، دلیری، خودی، حمیت و حریت مجھے کیرن مین نظر آئی تھی اس کے لیے کشمیر کی فضائیں سوگوار ہو گئیں ۔اس وقت ہمین ایک اور عارف شاہد کی ضرورت ہے جو بکھرے ہوئے نالوں کو اکٹھا کر کے دریا کرے ، جو بٹ شہید کے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچائے۔ اللہ پاک ان کو اپنی جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائین ۔

Author: جواد احمد پارس

جواداحمدپارس کا تعلق پاکستانی زیر انتظام کشمیر سے ہے. آپ اقتصادیات کے طالب علم ہیں شاعر ، افسانہ نگار اور کالم نگار ہیں. کشمیری سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں

تبصرہ جات بذریعہ فیس بک

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply