کیا بدلتے حالات کے تناظر میں ہمیں اپنے نام کے ساتھ کشمیری لکھنا چاہیئے؟ثمینہ راجہ ۔ جموں و کشمیر

ثمینہ راجہ ۔ جموں و کشمیر ۔

ریاست جموں  و کشمیر کا قیام 16 مارچ 1846 کو عمل میں آیا اور 1885 تک اس کی جغرافیائی سرحدوں کا تعین کر لیا گیا ۔ ان سرحدوں کو اس وقت کی بین الاقوامی  طاقتوں اور پڑوسی ممالک نے تسلیم کیا ۔
پھر ریاست کے اندر قانون سازی اور ریاستی ڈھانچے کی باضابطہ تشکیل کا عمل شروع ہوا اور 1947 میں ریاست کی تقسیم کے وقت کافی حد تک ریاست کی اپنی قومی شناخت معرضِ وجود میں آ چکی تھی ۔  ریاستی باشندوں کو عمومی طور پر کشمیری کی شناخت کے ساتھ لکھا اور بولا جانے لگا تھا ۔ مگر 1947 کے واقعات کے ذریعے اس کشمیریت کی تشکیل اور کشمیری شناخت کو عملاً ختم کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی ۔ تاہم یہ شناخت ڈوگرہ دور کے ایک سو ایک سال میں اتنی گہری ہو چکی تھی کہ ستر سال گزرنے کے بعد آج بھی یہ قومی شناخت زندہ ہے ۔
جب کوئی آدمی اپنے نام کے ساتھ کشمیری لکھتا ہے تو اس کا لازمی مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ یہ آدمی 84471 مربع میل پر مشتمل ریاست جموں، کشمیر و تبتہا کا باشندہ ہے اور اس اعتبار سے ایک ملک، اسکی شناخت، جغرافیائی  حدود اور نظریاتی بنیادوں کا ایک تصور ابھر کر سامنے آتا ہے ۔
مگر 1932 سے انگریزوں نے جو سازش شروع کی تھی اس کی تکمیل 1947 میں ریاست کی تقسیم کی شکل میں عمل پزیر ہوئی اور ایک نئے منصوبے پر کام کا آغاز ہوا جس کا مقصد دو قومی نظریئے کی بنیاد پر ریاست اور کشمیریت کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے تقسیم کرنا تھا ۔
تاہم جو لوگ وادی کشمیر سے باہر اپنے آپ کو کشمیری کہلاتے رہے ہیں وہ مسلسل ریاست جموں و کشمیر کی وحدت کی علامت کے طور پر ایسا کرتے رہے ۔
مگر 1990 سے حالات نے جو رخ اختیار کیا اس صورتحال نے سارے قومی، شناختی اور نظریاتی منظرنامے کو تبدیل کر دیا ہے ۔
یہاں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیئے کہ ریاست جموں و کشمیر جس کی حدود 84471 یا اس کے لگ بھگ علاقے پر محیط ہیں اس کی اپنی تاریخ اور وجود صرف اور صرف ڈوگرہ دور کی حد تک محدود ہے ۔ ڈوگروں نے جو ملک بنایا تھا وہ بہت سی قومیتوں کا ایک وفاق تھا ۔ اس وفاق کے تین صوبے تھے جن کے اندر جموں، کشمیر اور گلگت، بلتستان و لداخ وغیرہ کے علاقوں کی متعدد قومیتیں  بستی تھیں ۔ ان تمام قومیتوں کی اپنی الگ الگ تہذیب، تمدن، تاریخ ، جغرافیہ اور زبان تھی ۔ ڈوگروں نے ان تمام قومیتوں کو طاقت کے بل بوتے پر باہم ملا کر ایک ملک بنایا تھا ۔
جموں کی اپنی تاریخ ہے جو 460 قبل مسیح سے شروع ہوتی ہے ۔ یوں اس اڑہائی ہزار پر مشتمل تاریخ کے ساتھ جغرافیائی حدود، ایک تہذیب، ثقافت، زبان اور شناخت وابستہ ہے ۔ کشمیر کی اپنی الگ تہذیب، تاریخ، زبان، ثقافت اور شناخت ہے جو 5000 سال سے بھی زیادہ عرصے پر محیط ہے ۔
گلگت بلتستان و لداخ کے علاقوں ہنزہ، نگر، چلاس، لداخ اور سکردو وغیرہ کی اپنی الگ الگ تاریخ اور شناخت ہے ۔ مگر ڈوگرہ دور کے باعث ان تمام علاقوں کے لوگوں نے اپنے آپ کو کشمیری سمجھنا شروع کر دیا تھا ۔ اور یہ عمل آج تک جاری ہے ۔
لیکن 1990 کے بعد جو کچھ ہوا (اور اس تحریک کے تانے بانے 1932 کے ساتھ جا ملتے ہیں) اس نے ساری صورتحال یکسر بدل کر رکھ دی ہے ۔
اب کشمیر وادی کے لوگ اپنے آپ کو کشمیری کہلاتے ہیں (اور وہ ہیں بھی کشمیری) اور کشمیریت کو صرف اسلام کے ساتھ جوڑتے ہیں ۔ یہ نئی صورتحال تاریخی حقائق کے بالکل منافی ہے ۔ کشمیر پر مسلمانوں کی حکومت صرف چودہویں صدی عیسوی سے شروع ہوتی ہے اور اس سے پہلے کشمیر ہندو اور بدھ ریاست اور تہذیب رہی ہے ۔
اب جو صورتحال ہے اس میں کشمیری لوگ (وادی کے رہنے والے) مسلمانوں کے علاوہ کسی اور کو کشمیری ہونے کا حق نہیں دیتے ۔
وادی میں سے ہندو پنڈتوں کو بے دخل کر دیا گیا ہے حالانکہ یہ ہندو ہزاروں سال سے وادی کے باشندے تھے ۔ کشمیری اب اپنے آپ کو سیکولر کے بجائے مسلمان سمجھتے ہیں ۔ ان کے نزدیک کشمیریت سے زیادہ مسلمانیت کی اہمیت ہے، وہ پاکستان کیساتھ اسی بنیاد پر خاص تعلقات کے حامی ہیں ۔ شیخ عبدااللّہ کی کشمیر چھوڑ دو تحریک بھی بنیادی طور پر ایک مذہبی جنونی تحریک تھی جس کا مقصد کشمیر میں سے ہندو ڈوگروں کو نکالنا تھا ۔
تاریخ کا یہ اجمالی جائزہ پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ قارئین کرام کو یہ باور کرایا جا سکے کہ اب کشمیریت سے مراد صرف وادی کشمیر کے رہنے والے لوگوں کی شناخت اور تہذیب ہے ۔ اور اس شناخت اور تہذیب میں جموں، لداخ، گلگت اور بلتستان شامل نہیں ہے ۔ گلگت، بلتستان اور لداخ کے لوگوں نے انہی تاریخی حقائق کی بنیاد پر کشمیری شناخت اور تاریخ کو ترک کر دیا ہے ۔
اب صرف جموں صوبے کے کچھ مسلمان ایسے ہیں جو بدستور وادی سے باہر رہنے کے باوجود اپنے آپ کو کشمیری کہلانا ضروری سمجھتے ہیں حالانکہ وادی کے لوگ انہیں کشمیری تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہیں ۔
ایسے میں اب صوبہ جموں کے لوگوں کو اس کشمیری شناخت سے دستبردار نہیں ہو جانا چاہیئے کیا؟
یہ بات تو طے ہے کہ آئندہ ریاست جموں و کشمیر کا جو بھی حل ہو گا وہ ڈوگرہ طرز پر نہیں ہو گا بلکہ ایک نیا عمرانی معائدہ تشکیل پائے گا ۔ تو ان حالات میں کیا اب جموں والوں کو بھی گلگت، بلتستان اور لداخ کی طرح کشمیری شناخت سے دستبردار ہو کر اپنی جموال شناخت کو اختیار نہیں کرنا چاہیئے ؟
مجھے تو لگتا ہے کہ جلد یا بدیر ایسے شناختی اور علامتی رویئے کی تبدیلی ایک ایسی حقیقت ہے جسے دنیا کی کوئی طاقت اب ٹال نہیں سکتی ۔
یاد رہے کہ اپنے آپ کو گلگتی، لداخی، بلتستانی، کشمیری اور جموال کی شناخت میں تقسیم کرنے سے ہم کسی بھی صورت میں قومی طور پر تقسیم نہیں ہوتے بلکہ ہمارا ملکی اور قومی وجود اب انہی منقسم شناختوں کے ایک نئے عمرانی امتزاج کی بنیاد پر تشکیل پائے گا ۔
ایسے میں جموں والوں کو اب کشمیری شناخت سے دستبردار ہو کر اپنی حقیقی شناخت اختیار کرنی چاہیئے ۔
کیونکہ جموں کی شناخت اب بھی ایک سیکولر  سماجی ساخت ہے جہاں تمام لوگ مذہبی بقائے باہمی، محبت، برداشت اور افہام و تفہیم کی بنیادوں پر ایک دوسرے کے وجود کو قبول کرتے ہیں ۔
جبکہ دوسری طرف کشمیری شناخت کو مذہبی انتہا پسندی کی دُھونی دیکر خالصتاً بنیاد پرستی، تنگ نظری، عدم برداشت اور فکری بالادستی کے سانچے میں ڈھال دیا گیا ہے ۔
ایسے میں کشمیر وادی سے باہر رہنے والے ریاستی باشندوں کو کیا اب بھی کشمیری شناخت کے ساتھ چمٹے رہنا چاہیئے؟
یا پھر اپنے تاریخی ثقافتی، تہذیبی اور لسانی وجود کی بنیاد پر اپنے آپ کو قبول کروانا چاہیئے تا کہ ایک نیا عمرانی معائدہ تشکیل دینے کی راہ ہموار کی جا سکے؟
شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات

image

۔

Author: Naseer Chohan

تبصرہ جات بذریعہ فیس بک

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply