گلگت بلتستان کی آن گلگت بلتستان کی شانبابا جان ۔ بابا جان ۔عوام کی پہچان، قوم کا ارمانبابا جان ۔ بابا جان ۔ثمینہ راجہ ۔ جموں و کشمیر ۔

ظلم و جبر مردہ باد ۔
دھونس و دھاندلی مردہ باد ۔
۔
گلگت بلتستان کی آن
گلگت بلتستان کی شان
بابا جان ۔ بابا جان ۔
عوام کی پہچان، قوم کا ارمان
بابا جان ۔ بابا جان ۔

ثمینہ راجہ ۔ جموں و کشمیر ۔

image

خبریں آ رہی ہیں کہ گلگت بلتستان کی سپریم ایپلیٹ کورٹ نے سوموٹو ایکشن لیتے ہوئے بابا جان کے الیکشن لڑنے پر پابندی لگا دی ہے ۔

قانون جاننے والے اصحاب جانتے ہیں کہ تاریخ بابا جان کے خلاف اس فیصلے کو عدل و انصاف کے کٹہرے میں کس نام سے پکارے گی ۔

عدالتوں کے نام پر یہ بدترین ریاستی بربریت اور انصاف کا قتل انتخابی دھاندلی کی بدنما مثال اور عوام پر  ظلم کی انتہا ہے ۔

گلگت بلتستان کے عوام جس نظام کے تحت زندہ رہنے پر مجبور ہیں وہاں قانون ، انصاف اور عوامی حقوق کا نام و نشان تک نہیں  ۔

اور جب ان تلخ حقائق پر بات کی جاتی ہے تو مذہب کے ٹھیکیدار اور حکومت کے پروردہ لوگ پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ بابا جان اور اس کے ساتھی دہشت گرد ہیں ۔

میں بابا جان سے کبھی نہیں ملی اور نہ ہی میری بابا جان کی سیاسی پارٹی سے کوئی وابستگی ہے ۔ مگر بابا جان اب ہر مظلوم، بے کس اور کُچلے ہوئے شہری کی آواز بن چکا ہے ۔ اس لیئے میں سمجھتی ہوں کہ بابا جان میری بھی نمائندگی اور ترجمانی کرتا ہے ۔

بابا جان کی اس الیکشن میں یقینی فتح کو دیکھتے ہوئے پاکستانی حکمرانوں نے اپنی کاسہ لیس عدالتوں کے ذریعے بابا جان کے الیکشن پر پابندی لگا دی ہے ۔  بابا جان کی فتح اس قدر یقینی ہے اور بابا جان عوام کے دلوں کی اس قدر دھڑکن بن چکا ہے کہ پاکستان کی دھاندلی میں اپنی مثال آپ انتظامی مشینری بھی اب بے بس ہو گئی ہے اور اس انتظامی مشینری نے اوپر والوں کو صاف بتا دیا ہے کہ بابا جان کی اکثریت اتنی زیادہ ہے کہ کسی بھی صورت میں کسی قسم کی انتخابی دھاندلی کے ذریعے بابا جان کو شکست دینا ممکن نہیں ہے ۔ چنانچہ پاکستانی حکومت نے انتظامی مشینری کے جواب کے بعد اپنا مناسب بندوبست کر لیا ہے ۔

مگر میں پاکستان کے عاقبت نا اندیش حکمرانوں سے پوچھتی ہوں کہ وہ اس قسم کے حربوں سے کب تک عوام کی آواز اور انکی سوچ پر پہرے بٹھا رکھیں گے؟

سپریم ایپلیٹ کورٹ گلگت بلتستان میں سب سے بڑی عدالت ہے ۔ میری سمجھ میں نہیں آ رہا کہ ظلم و جبر کی چکی میں پسنے والے عوام اب اس انصاف کے قتل پر کس کو مدد کے لیئے پکاریں ۔ کس کا دروازہ کھٹکھٹائیں اور کس کو آواز دیں ؟

میں عوام سے مطالبہ کروں گی کہ وہ اس تمام ظلم و جبر کے باوجود پُرامن رہیں ۔ کسی قسم کی تشدد کی سیاست کر کے حکمرانوں کو راہ فرار کا کوئی بہانہ فراہم نہ کریں ۔ ماضی کی طرح اپنی پُرامن جمہوری جِدوجُہد جاری رکھیں ۔عالمی دنیا کو انصاف کے اس سرِعام قتل پر مدد کے لیئے پکارتے رہیں اور کبھی بھی ظلم، دھونس اور دھاندلی کے سامنے سر نہ جھکائیں ۔ اپنے حقوق، اپنی عزت، اپنے وقار اور اپنی غیرت کے لیئے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں ۔

یاد رکھیں بابا جان نہ جھکا ہے نہ بِکا ہے ۔
آپ سب بابا جان کے دست و بازو ہیں ۔
آپ نے بھی جبر کی ہر آندھی کے سامنے ڈٹ جانا ہے ۔

میں تجویز دوں گی کہ الیکشن کا بائیکاٹ کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ عوام پہلے سے زیادہ جوش اور جذبے کے ساتھ الیکشن میں ووٹ ڈالیں ۔ مگر ہر بیلٹ پیپر پر بابا جان کا نام لکھیں ۔ جو لوگ نام نہیں لکھ سکتے وہ بیلٹ پیپر پر بہت سی لکیریں مار دیں ۔ اس طرح ایسے تمام ووٹ مسترد ہو جائیں گے اور عالمی برادری کو دکھایا جا سکے گا کہ عوام کے جمہوری اور بنیادی انسانی حق پر کس طرح ڈاکہ ڈالا گیا ہے ۔ اور نیز یہ کہ عوام کی کتنی بڑی تعداد بابا جان کے ساتھ ہے ۔

خاطر جمع رکھیں ۔ آخری فتح ہمیشہ عوام کی ہوتی ہے ۔  یہ جنگ آخری فتح تک جاری رہے گی ۔

کہیں مٹے ہیں  جبر و تشدد سے کیا
وہ فلسفے کہ جِلا دے گئے دماغوں کو
کوئی سپاہ ستم پیشہ چُور کر نہ سکی
بشر کی جاگی ہوئی روح کے ایاغوں کو ۔

ثمینہ راجہ ۔ جموں و کشمیر ۔

Author: Naseer Chohan

تبصرہ جات بذریعہ فیس بک

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply