ثمینہ راجہ جموں کشمیر

گلاب سنگھ اور ڈوگرہ دور کا رونا رونے والوں سے میں پوچھتی ہوں یە معصوم اور نہتے شہریوں کے روز و شب کے قتل، کیا ان کا کبھی حساب کیا ہے؟
(تحریر ثمینہ راجہ – جموں و کشمیر)
آج ریاست کا ہر گھر لہو رنگ ہے –
در و دیوار نوحہ  کناں ہیں –
گلیاں سونی ہیں –
ہر دیار لٹ چکا ہے –
ہر سو ماتم ہے –
ہر صبح رنج و الم کی نئی داستان لے کر طلوع ہوتی ہے –
ہر شام کے ملگجی سائے امید و آس کو اندھیروں میں لپیٹ دیتے ہیں –
کیا یہی جمہوریت اور عوامی راج ہوتا ہے؟
1931 سے ڈوگرہ راج کے خلاف واویلے کرنے والے آج کہاں ہیں؟
اگر ذرا بھی انسانیت باقی ہے تو حساب کرو –
کیا ڈوگرہ راج کے 101 سالوں میں ریاست جموں کشمیر میں کبھی کوئی آدمی ڈوگرہ حکومت کے ظلم و بربریت کا شکار ھو کر جان کی بازی ہارا؟

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جمہوریت، اسلام اور آزادی کے نام پر جتنے معصوم شہری گزشتہ 69 سال میں شہید ہوئے  ہیں اتنے تو ڈوگرہ حکمرانوں کی ریاست بنانے کے عمل کے دوران تمام جنگوں میں بھی نہ مارے گئے ہوں گے ۔

ڈوگروں سے ریاست کی آزادی اور اس میں عوامی راج کے قیام کے دعویدار اس تقابلی جائزے پر کیا بھاشن دیں گے؟

ڈوگرے تو چلے گئے مگر عوامی قائدین نے ریاست کو کیا مستقبل دیا؟
ریاست کی کتنی بیٹیاں اپنی عصمت دری پر کڑھ کڑھ کر مر گئیں؟
کتنی عورتیں بیوہ بنا دی گئیں ؟
کتنے بچے یتیم ھوئے؟
کتنی ماؤں کی کوکھ اجڑ گئی؟
کیا یہی کچھ سمیٹنےکےلیے اور اسی کی خاطر سسکنے کے لئیے ڈوگرہ راج کے خلاف تحریک چلائی گئی تھی؟
سچ تو یہ  ھے کہ ھمارے پاس ان سوالوں کے جواب نہیں ھیں –

میں نہیں کہتی کہ ڈوگرہ راج اچھا تھا، اس دور میں دودھ اور شہد کی نہریں بہتی تھیں، شیر اور بکری ایک گھاٹ پانی پیتے تھے –
مگر یە ایک تلخ حقیقت ھے کہ آج کے ظلم، جبر، لا قانونیت، سیاسی مجاوری، سماجی استحصال، معاشرتی تفریق اور عوامی بد حالی کی نسبت ڈوگرہ راج ھزار گنا بہتر تھا –

کبھی کسی نے اس پہلو پر غور کیا ہے کہ ڈوگرہ دور کے 101 سالوں میں ریاستی حراست میں کسی ایک بھی شہری کی موت واقع نہیں ہوئی ۔
اس زمانے میں سرکاری کارندے وطن کی بہن بیٹیوں کی عصمتیں نیلام نہیں کرتے تھے –
ملکی وسائل کی لوٹ سیل نہیں لگتی تھی –
قانون سب کے لئیے برابر تھا –
بادشاہت کی تمام تر چیرہ دستیوں کے باوجود عوام کی عزت، جان، مال اور آبرو محفوظ تھی ۔ 
ریاست میں امن و امان، باہمی اخوت اور سماجی استحکامکا بے مثال دور دورہ تھا ۔ مگر 1947 کے بعد سب کچھ غارت ہو ہو گیا ۔
کسی کی جان اور عزت محفوظ نہیں ۔ عزتوں کے رکھوالے خود عزتوں کو نیلام کرتے ہیں ۔  سماج امن و امان سے محروم ہے ۔ معاشرے میں محبت، اخوت اور باہمی بھائی چارہ ناپید ہے ۔ حکمران لوٹ مار اور سیاسی ابتری کو فروغ دینے کی سازشوں میں ملوث ہیں ۔ عوام کو غلاموں اور جانوروں سے زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی ۔  
کیا یہی  اسلام اور مسلمان اور انکی حکومتیں اور انتظامی و سیاسی استحکام ہے جس کے لئیے ڈوگروں سے نجات مانگی جاتی تھی ؟

خدا را اب بھی وقت ہے – ہوش کرو – عقل کے ناخن لو – مذہب اور جمہوریت کے نام پر بند کرو یە خون کی ہولی اور عزت و وقار کے کھلواڑ –

یاد رکھو جو لوگ انصاف اور سچ کا دامن چھوڑ دیتے ہیں وہ ہمیشہ اسی طرح ذلیل ہوتے ہیں –
اب بھی وقت ہے – اپنے کرتوتوں کی معافی مانگو اور سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کہو –
ورنہ ہر آج سے زیادہ بد تر کل کے لئیے تیار رہو –

(ثمینہ راجہ – جموں و کشمیر)

Author: Naseer Chohan

تبصرہ جات بذریعہ فیس بک

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply