ثمینہ راجہ جموں کشمیر

“آزاد کشمیر” کا یہ جھنڈا غلامی کی نشانی ھے – یە جھنڈا پاکستان نے آزادکشمیر کی حکومت کو ھم پر مسلط کرتے وقت ھمارے ھاتھ میں تھمایا تھا –
ساتھ ایک ترانہ بھی دیا تھا جسمیں کہا گیا تھا کہ :-
پاکستان کے ساتھ کھڑے ھیں
عزت، حرمت، حکم قرآں
اور
زر کے لالچ  میں او شیطاں
کیوں بیچیں ھم اپنا دین و ایماں
اور
کوھستانوں کی آبادی پہن چکی ھے تاجِ
آزادی
تم بھی اُٹھو اھلِ وادی ۰۰۰۰۰۰۰
گویا پاکستان کے زیرِ قبضہ پہاڑی علاقے آزاد ھیں اور اب وادی کو آزاد کرانا باقی ھے ۔ یہ فلسفہ ھی بنیادی طور پر غلط ھے ۔

ترانے کی ان بولوں سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ھے کہ ریاست جموں و کشمیر کے پاکستانی مقبوضہ علاقوں کے بارے میں کسے مجرمانہ، مجذوبانہ اور شاعرانہ غلط بیانی اور ملمع سازی کی گئی ھے ۔
پاکستان کے زیرِ قبضہ ریاستی حصے قطعا” آزاد نہیں ھیں، بلکہ اگر شہری سہولیات، تعمیر و ترقی اور ریاستی و انتظامی ڈھانچے کے اعتبار سے پاکستانی مقبوضہ علاقوں کا موازنہ بھارتی مقبوضہ علاقوں کے ساتھ کیا جائے تو ھمیں بھارتی مقبوضہ علاقے نام نہاد آزادکشمیر اور گلگت و بلتستان سے کئی گنا بہتر نظر آتے ھیں ۔ ایسے میں یہ جھنڈا اور یہ ترانہ پاکستان کے زیرِ قبضہ علاقوں کے عوام کے شہری حقوق، انکے سماجی اور ثقافتی تشخص اور ان کی سیاسی اور جمہوری آزادیوں کے ساتھ ایک مذاق ھے ۔
کیا آزادکشمیر اور گلگت و بلتستان کے لوگ واقعی آزاد ھیں؟ اگر نہیں تو پھر انکی مظلومیت اور خستہ حالی کا مذاق اُڑانے کا کسی کو کیا حق ھے؟
یہ جھنڈا آزادی نہیں بلکہ ریاست کی تقسیم کی علامت ھے ۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر کا جھنڈا الگ ھے اور پاکستانی مقبوضہ کشمیر کا جھنڈا الگ ۔ یہ دونوں جھنڈے ریاست کی تقسیم کی علامت ھیں اور ان کو کوئی غیرتمند ریاستی باشندہ قبول نہیں کر سکتا ۔
آزادکشمیر کا جھنڈا پاکستان کی اس مداخلت کی تاریخی یادگار ھے جس نے پانچ لاکھ سے زائد معصوم ریاستی شہریوں کو قتل کر دیا – ھزاروں عورتیں اغوا کر لی گئیں، لا تعداد جبری نکاح کا شکار ھو کر مذھب بدلنے پر مجبور ھو گئیں، شاید ھی کسی غیر مسلم عورت کی عصمت محفوظ رہ سکی ھو گی –
ملک تین حصوں میں تقسیم ھو گیا –
69 سال سے بدترین، لوٹ مار،  استحصال،  کرپشن اور بدعنوانی عوام کا مقدر ھے – کسی کی جان، عزت، آبرو، مال اور حق کی حرمت نہیں – قانون نام کی کوئی شئے نہیں ھے –

اس جھنڈے نے غلامی کی وہ سیاہ رات قوم  پر مسلط کی ھے جس کا کوئی اختتام نظر نہیں آتا –
اور ھمارے قائدین ھیں کہ اسی جھنڈے کو اٹھا کر بڑے فخر سے آزادی کے نعرے لگا رھے ھیں –
غلامی کا احساس تک نہیں ان لوگوں کو اور دعویدار ھیں قوم کی رھنمائی کے –
کب عقل آئے گی ھمارے لوگوں کو ؟
          (ثمینہ راجہ – جموں و کشمیر)

Author: Naseer Chohan

تبصرہ جات بذریعہ فیس بک

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply