ثمینہ راجہ – جموں و کشمیر –

بیرونی ممالک کا قبضہ ختم کئیے بغیر نہ ہی تو ہم معاشی ترقی کر سکتے ہیں، نہ وطن کے اندر باعزت روزگار کے نئے مواقع پیدا کئیے جا سکتے ہیں اور نہ ہی سماجی انصاف کی منزل پائی جا سکتی ہے :-

ثمینہ راجہ – جموں و کشمیر –

ہمارے تمام ملکی مسائل و مصائب کا صرف ایک ہی سبب ہے اور وہ ہے ہمارے وطن پر بیرونی ممالک کا قبضہ – جو شخص ملکی مسائل و معاملات کو درست کرنا چاہتا ہے اسے باقی سارے امور سے توجہ ہٹا کر صرف اور صرف وطن کو بیرونی ممالک کے قبضے سے نجات دلانے کا فریضہ سرانجام دینا چاہئیے – یہی ایک مسئلہ ہے جو سارے مصائب کی جڑ ہے اور اسی مسئلے کے حل میں تمام مصائب کی کنجی پنہاں ہے –
ہماری معاشی بدحالی، بے روزگاری، تعلیم اور صحت کی سہولتوں کا فقدان، پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی، سڑکوں اور پلوں کی عدم فراہمی، رشوت، حکومتی کرپشن، سفارش کے بے قابو جن کی من مانیاں، میرٹ کی پامالی، عدل و انصاف کی عدم موجودگی، بیکار عدالتی نظام، ملاوٹ اور کاروباری بددیانتی، قدرتی وسائل کی بےدریغ لوٹ مار اور نوجوانوں کی وطن سے بڑے پیمانے پر ہجرت –
میں جب بھی ان مسائل کا تجزیہ کرتی ہوں تو مجھے تمام مصائب کے پیچھے ایک ہی مشترک عامل نظر آتا ہے اور وہ ہے وطن عزیز پر اغیار کا قبضہ –
جب تک ہمارا وطن غلام ہے، ہمارے نوجوان پیٹ کی آگ بجھانے کے لیئے در در کی خاک چھاننے پر مجبور رہیں گے ۔
اگر اپنے گھر میں دو وقت کی روٹی عزت کے ساتھ مل جائے تو لوگ کیوں اپنے پیاروں سے جدا ہو کر اور اپنے بچپن اور آباء و اجداد کی یادوں سے کٹ کر دنیا میں دھکے کھائیں؟
یہ ہمارے قابضین کی سوچی سمجھی سازش ہے ۔ وہ جان بوجھ کر وطن اور اس کی نوجوان نسل کا باہمی رشتہ کاٹنا چاہتے ہیں تا کہ وطن کے اندر جاری قابض اور غاصب قوتوں کے خلاف جاری مزاحمت اور تحریک کمزور پڑ جائے ۔
ہمارے قابضین ہر پالیسی اپنے مفادات کو سامنے رکھ کر بناتے ہیں – اور انکی ہر پالیسی کا مقصد ہمارے وطن پر جاری ان کے قبضے کو دوام دینا ہے –
تا کہ وہ ہمارے وسائل کو لوٹ کر اپنے ملک اور عوام کی ترقی کو یقینی بنا سکیں – بجلی ہم پیدا کرتے ہیں، باپ دادا کی قبریں اور آباء اجداد کی تاریخ ہم نے ڈبوئی ہے مگر ہماری بجلی ہم کو نہیں مل سکتی –
ہمارے کھیت اور کھلیان ویران کر دئیے گئے ہیں تا کہ ہم غذائی ضروریات کے لئیے محتاج بن جائیں –
ہمارے ہاں کوئی صنعت اور مشترکہ منڈی نہیں ہے – ہماری منڈیاں گجرات، جہلم اور راولپنڈی میں ہیں –
ہمارے پاس کوئی بین الاقوامی ایئرپورٹس نہیں ہیں – اسلام آباد ایئرپورٹ پر ہمارے ساتھ آوارہ کتوں سے بھی زیادہ برا سلوک ہوتا ہے –
ریل ہمارے پاس نہیں – منگلا تک جو ریلوے لائن تھی اسے بھی اکھاڑ کر اتفاق فاونڈری میں ڈال دیا گیا ہے –
ہماری عدالتیں بیس بیس سال تک مقدمات کا فیصلہ نہیں کر پاتیں –
پولیس عوام کی خدمت اور تحفظ کرنے کے بجائے ع

image

وام کو لوٹنے اور انہیں دھمکانے پر مامور ہے –
قومی وسائل اور ذخائر کو قابض ممالک کے ایجنٹ اپنی ملکیت بنا رہے ہیں –
سکول، کالج،  یونیورسٹیاں اور سائینسی اور فنی تعلیم کے اعلیٰ اداروں کا تصور اور تعلق فنی مہارت اور تعلیم کے بجائے کاروبار سے منسلک کر دیا گیا ہے –
اور یہ سب جان بوجھ کر اس لئیے کیا جا رہا ہے کہ ہماری قوم احساس کمتری کا شکار ہو کر غلامی کے طوق کو گلے کا گہنا سمجھ کر فخر سے قبول کر لے –
اگر ہمیں دنیا میں ترقی کرنی ہے اور اقوام عالم کے مابین عزت اور وقار کی زندگی گزارنی ہے تو پھر سب مسائل کی کنجی صرف اور صرف وطن کی کامل آزادی اور وطن میں سے قابضین کے وجود کا خاتمہ ہے –
شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات –
ثمینہ راجہ – جموں کشمیر –

Author: Naseer Chohan

تبصرہ جات بذریعہ فیس بک

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply