ثمینہ راجہ ۔ جموں و کشمیر

جب میں یہ کہتی ہوں کہ پاکستانی مقبوضہ جموں و کشمیر (جسے شاعرانہ آوراگی میں آزادکشمیر کہا جاتا ہے) کے سادہ لوح لوگوں کی اکثریت ذات، برادری، کُنبے، قبیلے اور مذہبی تقسیم و منافرت کا شکار ہو کر ریاست کی آزادی، خودمختاری اور یکجہتی کی جدوجہد سے عملی طور پر کنارہ کش ہو چکی ہے تو کچھ لوگ کہتے ہیں کہ :

“ایسا کچھ نہیں  ہے” ۔

وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ پاکستانی مقبوضہ جموں و کشمیر کے لوگوں نے روز اوّل سے آزادی کشمیر کے لئے صف اوّل کا کردار ادا کیا ہے اور اپنی جان و مال کو آزادی پر قربان کیا ہے ۔ ایسے لوگ مجھے مشورہ دیتے ہیں کہ میں اپنے ارد گرد کے چند ایسے لوگوں کی وجہ سے  باقی تمام لوگوں کی تذلیل کر کے انکا حوصلہ پست کر رہی ہوں اور مجھےاس طرح کی بیان بازی سے گریز کرنا چاہیئے ۔

ان لوگوں سے میرا سوال ہے کہ:

کونسی آزادی کشمیر؟ اور کونسی صف بندی؟

کس آزادی پر پاکستانی مقبوضہ جموں و کشمیر کے لوگوں نے اپنا جان و مال قربان کیا ہے؟

پاکستانی مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی اکثریت کو ان کی سادگی اور خلوص کے باعث شاطر اور مکار سیاسی رہنماوں نے ہمیشہ اپنے مقاصد کی خاطر استعمال کیا ہے ۔ اسی لیئے وہاں پر مجید، سلطان، یعقوب اور عتیق جیسے سیاستدان گزشتہ انہتر سال سے عوام کے مذہبی جذبات کو اُبھار کر ان کے حقوق کو غصب کیئے بیٹھے ہیں ۔ عوام کو تو ہسپتال میں اسپرین کی گولی بھی نہیں ملتی مگر حکمرانوں اور سیاستدانوں کی تجوریاں عوام کے مفادات کی فروخت کے ذریعے زر و جواہر سے بھری پڑی ہیں ۔

کرپشن، اقرباء پروری

image

، رشوت، دھاندلی اور اختیارات کا ناجائز استعمال ہماری روزمرہ زندگیوں کا لازمی حصہ بن گیا ہے ۔ جاہل اور عیار لوگ عوام پر سوار ہیں ۔

اور المیہ یہ ہے کہ عوام پھر بھی ان دھوکہ باز سیاستدانوں کے نعرے مارنے میں فخر محسوس کرتے ہیں ۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جب انتخابات کے ذریعے غدار، منافق اور بدکردار سیاستدانوں کا احتساب کرنے کا وقت آتا ہے تو عوام اپنی ذمہ داریوں کو فراموش کر کے سیاستدانوں کے ماضی کے کردار کو بھلا کر ایک بار پھر ان کی چکنی چپڑی باتوں میں آ جاتے ہیں – اور اس غلطی کے باعث اپنا مقدر تباہ و برباد کر بیٹھتے ہیں –

جو لوگ اپنے آپ کو قوم
پرست کہتے ہیں وہ کبھی بھی قوم کے مسائل اور مصائب سے چشم پوشی نہیں کر سکتے – حقیقی قوم پرست انتخابات میں اپنے آپ کو قوم کے سامنے پیش کرنے سے کبھی نہیں گھبراتے –

میرا کام ہے لوگوں کو سچائی سے آگاہ کرنا ہے اور سچ کا یہ سفر جاری رہے گا ۔

جو قوم پرست اپنے آپ کو عوام سے کاٹ چکے ہیں ایسے قوم پرستوں کو اس عوام سے لا تعلقی اور ان کے مسائل سے چشم پوشی کے عمل سے کنارہ کش ہونا ہو گا ۔

ورنہ گزشتہ ستر سال کی طرح کئی ستر سال اسی گرداب میں گزر جائیں گے ۔

ریاست جموں و کشمیر کے قوم پرستوں کی موجودہ پالیسی کی خامیوں اور قباحتوں کو دور کرنا ہو گا ۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو قوم پرست مسلسل عوام سے مزید دور ہوتے چلے جائیں گے اور منزلِ آزادی گُم ہو جائے گی ۔

میرا مشورہ ہے کہ تمام قوم پرست سیاسی جماعتیں باہم مل بیٹھ کر اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کریں اور ایک نئی حکمتِ عملی ترتیب دیں جس کی بنیاد عوام کے ساتھ مسلسل رابطے پر استوار کی جائے –

ورنہ

تمہاری داستاں تک نہ ہو گی داستانوں میں ۔

میں عوام سے بھی مطالبہ کروں گی کہ تبدیلی کا سفر آج ہی شروع کیجئیے اور آمدہ انتخابات میں ان تمام روائیتی سیاستدانوں کو مسترد کر دیجئیے جن کا ماضی قوم کو لوٹنے اور ملک کے عزت و وقار کو تباہ کرنے کے گھناؤنے اعمال سے بھرا پڑا ہے –

انتخابات میں قوم پرست سیاسی کارکنوں اور نئے چہروں کو ووٹ دیجئیے – آپ کا مقدر اسی صورت میں تبدیل ہو گا –

خدا را اپنی آئیندہ نسلوں کے حال پر رحم کھائیے اور ووٹ کی طاقت سے پرامن جمہوری تبدیلی لائیے –

شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات ۔

ثمینہ راجہ ۔ جموں و کشمیر ۔

Author: Naseer Chohan

تبصرہ جات بذریعہ فیس بک

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply