ثمینہ راجہ – جموں و کشمیر

ہمیں مہاراجہ پرست کہنے والے ہوش کے ناخن لیں ۔ تاریخ کا صحیح ادراک کریں اور اپنا قبلہ درست کریں ۔
مہاراجہ گلاب سنگھ نے ہمیں وہ ملک بنا کر دیا جس کی آزادی، خودمختاری اور یکجہتی کی ہم جنگ لڑ رہے ہیں ۔ ڈوگرہ راج نے اس ملک کے اندر بسنے والی مختلف قومیتوں کو ایک لڑی میں پرو کر عوام کو قومی شناخت دی اور عوام کے معاشی، سماجی اور سیاسی حقوق کا دفاع کرنے کے لیئے قانون سازی کی ۔ ڈوگرہ دور کے آخری حکمران مہاراجہ ہری سنگھ نے برطانیہ، بھارت اور پاکستان کی مشترکہ منصوبہ سازی اور طاقت کے سامنے تنِ تنہا کھڑے ہو کر اپنے ملک کو آزاد و خودمختار رکھنے کی جدوجہد کی ۔ اگر مہاراجہ ہری سنگھ برطانیہ کی ایماء پر پاکستان یا بھارت کے ساتھ الحاق کر لیتے تو آج ہم جس آزادی و خودمختاری کے تصور کو قومی غیرت و حمیّت قرار دیتے ہیں اور جس مقصد کو اپنی جان سے زیادہ عزیز تر رکھتے ہیں اس کا وجود تک نہ ہوتا ۔
ملک بنانے والے اور ملک کو دنیا بھر کے ساتھ ٹکرا کر آزاد و خودمختار رکھنے والے حکمرانوں کو ان کا جائز مقام نہ دینا ہماری قومی تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے ۔
ابھی برطانیہ میں 11 جون 2016 کو ملکہ الیزبتھ کی سالگرہ کے موقعے پر دنیا نے دیکھا ہے کہ کس طرح لنڈن میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے جمع ہو کر اپنی ملکہ کی سالگرہ منائی ہے ۔ برطانیہ کو دنیا میں جمہوریت کی ماں کہا جاتا ہے ۔ برطانیہ جیسا جمہوری روایات کا حامل ملک شاید ہی دنیا میں کوئی ہو ۔ مگر برطانوی عوام جتنی محبت جمہوریت کے ساتھ کرتے ہیں اتنا ہی پیار اپنی بادشاہت کے ساتھ بھی کرتے ہیں ۔ وہ بادشاہت کو صرف اپنے شاندار ماضی کی عظیم تخلیق کے باعث ہمیشہ برقرار رکھنا چاہتے ہیں تا کہ بادشاہوں نے ان کی تعمیر و ترقی میں جو کردار ادا کیا ہے اسے خراجِ عقیدت پیش کیا جا سکے ۔
یہی حال جاپان اور یورپ کے بیشتر ممالک سمیت دنیا کی دیگر متعدد ترقی یافتہ اقوام کا ہے ۔
مگر ہمارے کچھ نام نہاد کرائے کے دانشوروں کو لفظ بادشاہت سے چِڑ ہے اور وہ آئے دن الٹے سیدھے فتوے جاری کر کے نہ صرف یہ کہ اپنی قوم کو گمراہ کرتے ہیں بلکہ اپنی قومی شناخت کے خاتمے کی غیر ممالک کی سازش کو بھی پروان چڑہاتے ہیں ۔
ریاست جموں و کشمیر کے ڈوگرہ حکمران ہماری ریاستی تاریخ کی بنیاد اور ہماری قومی شناخت کے معمار ہیں ۔
ہم انہیں انکا جائز مقام دلوانے کے لیئے سر دھڑ کی بازی لگا دیں گے اور اس مقصد کی خاطر کوئی سمجھوتہ بازی نہیں کی جائے گی ۔
جن لوگوں کو ڈوگرہ دور سے الرجی ہے وہ ڈوگروں کی بنائی ہوئی ریاست جموں و کشمیر کو چھوڑ کر جہاں جی چاہتا ہے چلے جائیں ۔
ریاست کی قومی شناخت کے علمبردار غیرت مند بیٹے اور بیٹیاں ایسے نام نہاد جمہوریت پسند دانشوروں کی کسی چال کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے ۔
ریاست جموں و کشمیر زندہ باد
ڈوگرہ دور پائیندہ باد ۔
ثمینہ راجہ ۔ جموں و کشمیر ۔

تبصرہ جات بذریعہ فیس بک

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply