ثمینہ راجہ – جموں و کشمیر

ریاست جموں و کشمیر کے عوام کے مسائل کا واحد حل ریاست کے تمام حصوں کی آزادی اور اتحاد ہے –
ثمینہ راجہ ۔ جموں و کشمیر –
قارئین کرام:
ریاست جموں و کشمیر وسائل سے مالا مال ایک دولتمند خطہ ہے ۔ مگر ریاست کے یہ وسائل ریاست پر بیرونی ممالک کےِ قبضے کے باعث ریاست کے عوام کی ملکیت اور تصرّف میں نہیں ہیں بلکہ قابض ممالک ان وسائل سے مستفید ھو رھے ھیں ۔ ریاستی عوام ان وسائل کی قیمت وصول نہیں کر سکتے ۔ پاکستان اور بھارت  ان وسائل کو لوٹ رہے ییں اور بدلے میں ریاستی عوام کو کچھ بھی نہیں ملتا ۔
بھارتی مقبوضہ علاقوں میں بھارت کے آئین کے آرٹیکل 370 کی وجہ سے پھر بھی کسی نہ کسی حد تک عوام کے معاشی اور سیاسی حقوق محفوظ ہیں مگر پاکستان کے زیر قبضہ علاقوں  میں نہ کوئی آئین ہے اور نہ کوئی نظام –
پاکستان نے اپنے سول سروس ملازمین کو تمام اختیارات دے کر ریاست پر مسلط کر رکھا ہے اور ریاستی عوام کو بھیڑ بکریوں کی طرح

image

ہانکا جاتا ہے –
2005 کے زلزلے ہی کی مثال لے لیجئیے – اس زلزلے کے بعد عوام کی زندگیوں کی بحالی کے لیئے بھی ریاستی عوام اور ریاستی حکومت اپنے لیئے کچھ نہ کر سکی ۔
دنیا نے جو بھی امداد بیجھی وہ پاکستان کے پاس آئی (ریاست کا اپنا کوئی مرکزی بنک اور وزارتِ خارجہ نہیں ہے) اور پاکستان کی طرف سے زلزلے کے متاثرین کے لئیے اپنی طرف سے کچھ کرنا تو درکنار جو امداد دنیا نے دی پاکستان اس امداد کو بھی کھا گیا ۔
ریاست جموں و کشمیر 1846 سےلے کر 1947 تک ایک ملک تھا مگر 1947 سے اس کے کچھ علاقوں پر پاکستان نے قبضہ کر رکھا ہے، کچھ پر بھارت نے اور کچھ پر چین نے ۔ ہمارا ملک تقسیم ہے اور بیرونی غاصبوں کے قبضے میں ہے ۔ ریاست کے وسائل ریاست کی اپنی تحویل میں نہیں ہیں ۔ صرف ایک مثال سے آپ بات سمجھ جائیں گے ۔
صرف منگلا ڈیم سے 1100 میگا واٹ بجلی پیدا ہوتی ہے ۔ آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کی بجلی کی کل ضرورت 550 میگا واٹ ہے ۔ گویا صرف منگلا کا بجلی گھر ریاست جموں و کشمیر کے ان علاقوں کی ضرورت سے دگنی بجلی پیدا کرتا ہے جو پاکستان کے قبضے میں ہیں – مگر اس کے باوجود ریاست میں چودہ چودہ گھنٹے تک بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے ۔ اور پھر بجلی پاکستان کی نسبت زیادہ مہنگی بھی ہے ۔ وجہ سارا کنٹرول پاکستانی واپڈا کے پاس ہے ۔ نہ بجلی کی رائیلٹی ملتی ہے نہ پانی کی ۔ جنگلات کو بے دردی کے ساتھ ختم کیا جا رہا ہے ۔ بیرونی ممالک سے حاصل ہونے والا زرِمبادلہ براہِ راست پاکستان کی تحویل میں جاتا ہے اور پاکستان اسے ڈکار جاتا ہے ۔ ریاست کے یہ سارے وسائل پاکستان کے قبضے میں ہیں – اگر ان وسائل پر ریاست کا اپنا قبضہ ہو تو ریاستی عوام کو موجودہ حالات سے کم از کم پچاس گنا بہتر زندگی فراہم کی جا سکتی ہے ۔ مگر ریاست پر پاکستان کے قبضے کے باعث ایسا ممکن نہیں ہے ۔
اسی لیئے ریاست غریب ہے اور پاکستان کی محتاج ہے ۔
بھارت میں اقتصادی اور سیاسی صورتحال پاکستان سے بہتر ہے مگر بنیادی انسانی حقوق کا کوئی پرسان حال نہیں –
ریاستی عوام کو سمجھنا ھو گا کہ اگر حالات میں کسی قسم کی بہتری لانی ہے تو ریاست کو بیرونی ممالک کے قبضے سے نکال کر متحد کرنا ہو گا –
ورنہ تمہاری داستاں تک نہ ہو گی داستانوں میں –
شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات –
( ثمینہ راجہ – جموں و کشمیر)

تبصرہ جات بذریعہ فیس بک

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply