پیپلز پارٹی باہر، نیلم میں ن لیگ کا مقابلہ پی ٹی آئی سے ہو گا

مظفرآباد (کشمیریت)آزاد کشمیر کے ضلع نیلم کا حلقہ ایل اے 23 رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا حلقہ ہے یہ حلقہ چلہانہ سے شروع ہو کر تاؤ بٹ تک چلا جاتا ہے جس میں سینکڑوں دیہات ، ۹ یونین کونسل اور دو تحصیلیں شامل ہیں۔ انتظامی لحاظ سے گرچہ اس حلقہ کو دو حلقوں میں تقسیم ہونا چاہیے تھا اور گزشتہ دس سال میں کبھی کبھار اس کی باز گشت بھی سنائی دیتی رہی ہے مگر فی الحال اس حلقہ کی مزید تقسیم نہیں ہو سکی ہے گزشتہ انتخابات میں حلقہ میں مجموعی طور پر ساٹھ ہزار کے لگ بھگ ووٹ پڑے۔ جس میں پیپلز پارٹی کے نامزد امیدوار میاں عبدالوحید23581ووٹ لے کر پہلے نمبر پر رہے اور کامیاب قرار پائے تھے ، مسلم لیگ ن کے نامزد امیدوار شاہ غلام قادر نے 20640 اور مسلم کانفرنس کے نامزد امیدوار گل خنداں نے 13862 ووٹ حاصل کئے تھے۔ آزاد امیدواران میں قاضی اسرائیل نے 651 ووٹ لئے تھے۔ مگر اس دفعہ کی صورتحال نہایت ہی دلچسپ ہوتی جا رہی ہے۔ اس بار پیپلز پارٹی کا ٹکٹ میاں وحید کو دوبارہ ملا ہے مگر ان کی حالت نہایت ہی مخدوش ہے گزشتہ پانچ سال کے عرصے میں وہ حلقے سے کافی نالاں رہے ہیں جواب میں نیلم ویلی کی عوام بھی ان سے نالاں ہو گئی ہے جس کی وجہ سے عوام میں ان کی مقبولیت کا گراف کافی نیچے گر گیا ہے اس کی ایک اور وجہ ان کے بھتیجے اور سابق وزیر مرحوم میاں غلام رسول کے بیٹے میاں اخلاق رسول کا پیپلز پارٹی کو الوداع کہہ کر پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہونا بھی ہے جس سے ان کی برادری ہے کے اندر کافی ووٹ تبدیل ہو گئے ہیں۔ دوسرے نمبر پر سابق وزیر مفتی منصور الرحمان ہیں مفتی منصور الرحمن 2001کے الیکشن میں واضح برتری کے ساتھ جیتے تھے اور نیلم کی عوام ان کو پسند بھی کرتے ہیں ان ہی کے دور میں نیلم کو ضلع کا درجہ حاصل ہوا تھا گزشتہ انتخابات میں وہ پہلے ن لیگ میں شامل تھے مگر جب ٹکٹ ان کو نہ ملا تو وہ واپس مسلم کانفرنس مین شامل ہو گئے اور درپردہ پیپلز پارٹی کے حق میں الیکشن کمپین چلاتے رہے اب کی بار ایک مرتبہ پھر ٹکٹ ان کی جھولی میں گرا ہے مگر سیاست سے ایک عرصہ کی دوری اور رجحانات کی تبدیلی شاید ان کے حق میں نہ ٹھہر سکے مگر ان کا اس الیکشن میں شامل ہونا نیلم ویلی کی سیاسی ہلچل میں ایک بڑی تبدیلی کی وجوہ بن سکتا گر بڑے پہاڑ نہ بھی گرے تو چھوٹے چھوٹے ٹیلے ان کو کافی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ نیلم ویلی میں اس وقت کی دوسری بڑی جماعت پی ٹی آئی کو قرار دیا جائے تو کوئی مضحکہ خیزی نہیں ہو گی ۔ پی ٹی آئی کا ٹکٹ میاں اخلاق رسول کو ملا ہے اور وہ بھر پور الیکشن کمپین چلا رہے ہیں جبکہ پی ٹی آئی ضلع نیلم کے متحرک رہنما قاضی اسرائیل کو پی ٹی آئی کی طرف سے ٹکٹ نہ ملنے کی وجہ سے وہ سخت بپھرے ہوئے ہیں اخباری اطلاعات کے مطابق وہ کچھ دن میں اپنے آزاد الیکشن لڑنے کا اعلان بھی کر سکتے ہیں جس کی وجہ سے پی ٹی آئی دوسرے سے تیسرے نمبر پر آ سکتی ہے ۔ میاں اخلاق رسول کے ساتھ اس وقت پیپلز پارٹی کے سابق ووٹر سپورٹروں کے علاوہ سابق وزیر گل خنداں کی بھر پور سپورٹ بھی موجود ہے جو کہ ان کے الیکشن میں اچھے خاصے ووٹ لینے کی ایک وجہ بن سکتی ہے۔ اب دیکھیے پی ٹی آئی کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے اگر قاضی اسرائیل نے پارٹی کی مرکزی قیادت کے فیصلے کی تائید کی تو ن لیگ کے لئے بڑا سانحہ ثابت ہو سکتا ہے لیکن اگر انہوں نے آزاد الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا تو حالات کسی بھی طرف جا سکتے ہیں۔ نیلم ویلی حلقہ ایل اے 23میں اس وقت بظاہر سب سے بڑی اور مضبوط جماعت پاکستان مسلم لیگ ن ہے جس کا ٹکٹ سابق سپیکر آزاد کشمیر اسمبلی شاہ غلام قادر کے پاس ہے شاہ غلام قادر پچھلی مرتبہ بھی نیلم سے الیکشن لڑ چکے ہیں اور بیس ہزار سے زیادہ ووٹ لے چکے ہیں اس لئے ان کی پوزیشن مستحکم دکھائی دے رہی ہے۔ وہ پچھلے پانچ سال مسلسل نیلم ویلی میں عوام سے رابطوں میں رہے ہیں ۔ وہ شروع دن سے نیلم میں اپنی الیکشن کمپین چلا رہے ہیں اور آئے روز برادری ازم اور علاقائی سطح پر بڑے بڑے معرکے سر کر رہے ہیں۔ جس سے بظاہر یہی نظر آ رہا ہے کہ وہ نیلم کا معرکہ سر کر لیں گے مگر ابھی ایک ماہ باقی ہے اور سیاست میں کوئی چیز حتمی نہیں ہوتی۔

Author: kashmiriat

Editor Page

تبصرہ جات بذریعہ فیس بک

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply