( ثمینہ راجہ – جموں و کشمیر)

گلگت بلتستان کے مسئلے کو تاریخی طور مسخ کر کے پیش کیا جاتا رہا ہے اور ایسا پاکستان نے جان بوجھ کر اس لیئے کیا ہے کہ اپنے زیرِ قبضہ علاقوں پر اپنا تسلط برقرار رکھ سکے ۔
کہا یہ جاتا ہے کہ یکم نومبر 1947 کو گلگت بلتستان کے عوام نے ڈوگروں سے آزادی حاصل کر لی تھی اس لیئے گلگت بلتستان اب ریاست جموں و کشمیر کا حصہ نہیں ہیں ۔
یہ بات تاریخی طور پر درست نہیں ہے ۔
یکم نومبر 1947 کو گلگت بلتستان نے جب آزادی کا اعلان کیا تو وہ اس ریاست کا آئینی حصہ تھے جس کا 26 اکتوبر کو بھارت کے ساتھ الحاق کیا جا چکا تھا ۔ اس لیئے گلگت بلتستان نے ڈوگروں کے خلاف بغاوت نہیں کی تھی بلکہ بھارت کے خلاف بغاوت کی تھی ۔ گویا ڈوگروں کی جو آزاد و خودمختار ریاست 15 اگست 1947 سے لے کر 25 اکتوبر 1947 تک موجود تھی گلگت بلتستان اس ریاست کا حصہ تھے اور پرامن طور پر ڈوگرہ ریاست کے اندر رہنے پر تیار تھے ۔ ڈوگرہ حکومت کے دور میں گلگت بلتستان کے اندر بغاوت یا افراتفری کا ایک بھی واقعہ رونما نہیں ہوا ۔ اور اس صورتحال نے گلگت بلتستان کے مسئلے کو قانونی اور آئینی طور پر ریاست جموں و کشمیر کے ساتھ منسلک کر دیا ہے ۔
تاریخی حقائق اور ذاتی خواہشات میں اگر یکسانیت نہ پائی جائے تو ہمیشہ تاریخی حقائق کا پلڑا بھاری رہتا ہے اور یہی کچھ گلگت بلتستان کے مسئلے میں ہو رہا ہے ۔
ایک اور باریک تاریخی نقطہ سمجھنے کی ضرورت ہے ۔
آزادکشمیر میں بغاوت 22 اکتوبر 1947 کو مہاراجہ ہری سنگھ کی ڈوگرہ حکومت کے خلاف ہوئی اور ایک باغی حکومت کا قیام بھی 24 اکتوبر 1947 کو ہری سنگھ کی ڈوگرہ حکومت کے خلاف عمل میں آیا – مگر گلگت بلتستان میں ایسا نہیں ہوا ۔
گلگت بلتستان نے بغاوت یکم نومبر کو شیخ عبداللّہ کی اس حکومت کے خلاف کی جو بھارت کے ساتھ الحاق کے بعد وجود میں آئی تھی ۔
کرنل مرزا حسن خان نے اپنی کتاب شمشیر سے زنجیر تک کے صفحہ 155 پر لکھا ہے کہ گلگت بلتستان میں کسی کاروائی کے لیئے مہاراجہ کے الحاق کے فیصلے کا انتظار کیا جا رہا تھا ۔ گویا گلگت بلتستان میں بغاوت ڈوگرہ حکومت کے خلاف نہیں بلکہ ڈوگرہ حکومت کے الحاقِ بھارت کے اعلان کے خلاف ہوئی تھی اور اسی نقطے نے گلگت بلتستان کو لازمی طور پر مسئلہ جموں و کشمیر کے ساتھ نتھی کر رکھا ہے ۔
اقومِ متحدہ نے گلگت بلتستان کو ریاست جموں و کشمیر کے مسئلے کا حصہ قرار دیا ہے ۔ اور طے کر رکھا ہے کہ گلگت بلتستان کے مستقبل کا فیصلہ ریاست جموں و کشمیر کے دیگر حصوں کے ساتھ ایک مشترکہ رائے شماری میں کیا جائے گا ۔ تاہم اقوامِ متحدہ نے فیصلہ کیا تھا کہ گلگت بلتستان اور آزادکشمیر میں رائے شماری کے انعقاد تک مقامی حکومتیں قائم کی جائیں گی جو اپنے معاملات میں مکمل طور پر بھارت اور پاکستان سے آزاد ہوں گی ۔
آج دنیا سُکڑ کر ایک عالمی گاؤں کی شکل اختیار کر چکی ہے اور کسی جگہ ہر بھی کوئی فیصلہ عالمی طاقتوں کی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔ چونکہ عالمی برادری نے گلگت بلتستان اور آزادکشمیر کی مقامی حکومتوں کے قیام کا فیصلہ کر رکھا ہے اس لیئے وہ اپنے فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے ۔ اور یہ نقطہ ہے جس پر گلگت بلتستان اور آزادکشمیر کے عوام کو عالمی برادری کی حمایت اور مدد حاصل کرنی چاہیئے ۔
میری تجویز ہے کہ ریاست کے مستقبل کا تعین کرنے کے لیئے رائے شماری کے انعقاد تک گلگت بلتستان اور آزادکشمیر کے لوگوں کو مل کر اپنے اپنے علاقوں میں اندرونی طور پر آزاد و خودمختار حکومتوں کے قیام کی مشترک جدوجہد کرنی چاہیئے ۔ اور اس منزل کے حصول تک ایک دوسرے کے کندھے سے کندھا ملا کر باہم متحد ہو کر آگے بڑہنا چاہیئے ۔ صرف اسی ایک صورت میں گلگت بلتستان اور آزادکشمیر کے لوگ اپنے معاملات پر اپنا اختیار قائم کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں ۔
رائے شماری کے بعد گلگت بلتستان کے عوام اپنے مستقبل کے لیئے کوئی بھی فیصلہ کرنے میں آزاد ہوں گے اور اس اصول پر ریاست جموں و کشمیر کے کسی شہری کو اعتراض نہیں ہو گا ۔
مگر اس وقت تک گلگت بلتستان اور آزادکشمیر کے لوگوں کو مل جل ہی آگے بڑہنا ہو گا ۔ اس کے علاوہ کوئی اور قابلِ عمل راستہ دکھائی نہیں دیتا ۔

تبصرہ جات بذریعہ فیس بک

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply