تحریر سجاد راجہ سابق صدر جے کے نیب برطانیہ 

​ھمارے ملک اور قوم کا باوا آدم ھی نرالا ھے – ھمارا کوئی کام کسی چج سے نہیں ھوتا – ھم حقیقت سے نظریں چرا کر اپنی اس بہشت میں زندە رھنے والے لوگ ھیں جسے دنیا احمقوں کی جنت کہتی ھے – ھمارا سب سے بڑا المیہ یە ھے کہ ھم نے اپنے ارد گرد خول چڑھا رکھے ھیں، ھم نہ ان خولوں سے باھر نکلنا چاھتے ھیں اور نہ ھی سچ کو تسلیم کرنے کی جراءت رکھتے ھیں –

میں بیسیوں بار کہہ چکا ھوں کہ مہاراجہ گلاب سنگھ، مہاراجہ ھری سنگھ اور ڈوگرہ دور کے خلاف ھونے والے پروپیگنڈے کی نوعیت اور اس  پروپیگنڈے کے پیچھے کارفرما عوامل کو سمجھئیے – 

مگر ھمارے کچھ دوست بدستور اپنے خولوں میں قید رہ کر شعوری طور پر یا انجانے میں ان سازشوں کا حصہ بن رھے ھیں جو ھمارے وطن اور ھماری زیر تشکیل قوم کو تقسیم کر کے ھمیشہ کے لئیے ختم کرنے کی خاطر ترتیب دی گئیں ھیں – 

پہلی بات:

ھم جس ریاست، جس ملک اور جس قوم کی آزادی، خودمختاری اور یکجہتی کی بات کرتے ھیں اس کا وجود صرف اور صرف ڈوگرہ دور میں ملتا ھے – ڈوگرہ دور سے پہلے اور ڈوگرہ دور کے بعد (قطع نظر اس کے کہ ڈوگرہ دور اچھا تھا یا برا تھا) کہیں بھی اس ریاست اور اس قوم کا وجود نہیں ملتا جس کی آزادی اور یکجہتی کے ھم قائل ھیں اور جو ریاست ھمارے نظریات اور ھماری تحریک کی بنیادی اساس ھے –

 کشمیر کا اپنا ایک الگ وجود اور پانچ ھزار سال سے زیادہ عرصے کی تاریخ ھے، جموں کی اپنی الگ ایک پہچان اور ایک تاریخ ھے، گلگت بلتستان اور لداخ کی اپنی الگ الگ شناخت اور تاریخ ھے؛ مگر ان تمام علاقوں کی مشترکہ تاریخ اور باھمی متحدہ وجود صرف اور صرف ڈوگرہ راج پر محیط ھے –

 ڈوگرہ راج سے پہلے یە تمام علاقے الگ الگ اکائیوں کی شکل میں مختلف انتظامی اور سیاسی امور کے ماتحت تھے اور ڈوگرہ دور کے بعد بھی یە سارے علاقے جداگانہ انتظامی اور سیاسی انتظام کے تابع ھیں – ان تمام علاقوں کی مشترکہ سیاسی، جغرافیائی، تاریخی اور قومی پہچان صرف اور صرف ڈوگرہ راج کے اندر ملتی ھے – ڈوگرہ راج سے باھر یە علاقے الگ الگ ملک اور قوموں میں بٹے ھوئے ملتے ھیں –

دوسری بات:

آج قوم پرست کیا موقف رکھتے ھیں اور ان کا موقف دوسرے لوگوں سے کس طرح مختلف ھے؟ اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ھے – 

قوم پرستوں کا موقف یە ھے کہ مذکورہ بالا تمام علاقے بشمول جموں، لداخ، کشمیر، گلگت بلتستان اور آزادکشمیر سب ایک قومی، سیاسی اور جغرافیائی وحدت ھے – اور قوم پرست اسی وحدت کی بحالی کی جدوجہد میں مصروف ھیں –

اس کے برعکس دیگر مکتب ھائے فکر کے لوگوں کا ماننا یە ھے کہ مذھبی، لسانی، ثقافتی اور تاریخی طور پر یە تمام علاقے الگ الگ وجود رکھتے ھیں اور یە کہ ماضی میں ان کا جو مشترک وجود تھا اسے غلط، غیر قانونی، جابرانہ اور ظالمانہ طریقے سے قائم کیا گیا تھا اس لئیے ایسے کسی وجود یا کسی تاریخ کو بنیاد بنا کر ان علاقوں کو دوبارہ متحد نہیں کیا جا سکتا – 

یە دو نظریاتی بہاؤ ھیں – دو مختلف قسم کے دلائل ھیں – دو الگ مکتب فکر ھیں – ایسی دو بحثیں ھیں جن کی بنیادیں ایک دوسرے سے جدا ھیں –

ان حالات میں قوم پرست لائن کے دونوں جانب کھڑے نہیں ھو سکتے – 

انہیں لازمی طور پر ان دو میں سے کسی ایک فریق کے ساتھ کھڑا ھونا ھو گا –

یا ان لوگوں کے ساتھ جو ریاست جموں و کشمیر کے ایک وجود کو تسلیم نہیں کرتے یا ان لوگوں کے ساتھ جو اس ایک وجود کو درست مانتے ھیں اور اس وجود کی بقاء اور اس کے دوبارہ احیاء کے لئیے جدوجہد کر رھے ھیں –

اور جس فریق کے ساتھ کھڑے ھونا ھے لازمی طور پر اس کے دلائل، استدلال اور گواھوں و ثبوتوں کو بھی ماننا ھو گا – 

ایک ھی وقت میں گھوڑا حلال اور حرام نہیں ھو سکتا – 

تیسری بات:

جو لوگ ریاست کو تقسیم کرنا چاھتے ھیں اور اس ریاست کو بر صغیر کی مجموعی صورتحال اور اجتماعی تاریخ کے تناظر میں پاکستان یا بھارت کے ساتھ جوڑنا چاھتے ھیں ان کی سب سے بڑی دلیل یە ھے کہ ریاست جموں و کشمیر پر اسی قانون اور فارمولے کا اطلاق ھوتا ھے جس کے تحت پاکستان اور بھارت بنے تھے اور اس کی بنیادی وجە یە بیان کی جاتی ھے کہ ریاست جموں و کشمیر الگ سے کوئی ریاست نہیں تھی بلکہ برصغیر کا حصہ تھی اور جس انتظام و انصرام کے تحت اس ریاست کو الگ، ممتاز اور جداگانہ وجود اور تشخص دینے کی کوشش کی جاتی ھے وہ انتظام و انصرام ھی غلط، غیرقانونی، غیر انسانی، غیر اخلاقی اور ناقابل قبول ھے – اس دلیل کو پروان چڑھانے کے لئیے ریاست کے وجود سے انکاری لوگ ڈوگرہ دور کو تسلیم کرنے سے منکر ھو جاتے ھیں اور انہیں ایسا کرنا بھی پڑتا ھے، کیونکہ اگر وہ ڈوگرہ دور کو درست اور جائز تسلیم کریں تو ان کے افکار کی بنیادی اساس اور انکی دلیل کا سارا وزن ختم ھو جاتا ھے –

مگر قوم پرست جب ریاستی وجود کو تسلیم نہ کرنے والے لوگوں کی طرح ڈوگرہ دور کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیتے ھیں تو عملی طور پر وہ ان دلائل اور ثبوتوں کے وزن میں اضافہ کر رھے ھوتے ھیں جو ریاست کے وجود کے خاتمے کے لئیے پیش کئیے جاتے ھیں – یوں ڈوگرہ دور کو تسلیم نہ کرنے والے قوم پرست درحقیقت قوم پرستی کے نام پر اپنی ھی ریاست اور قوم کے وجود کی نفی بھی کرتے ھیں اور پھر اسی ریاست اور قوم کے وجود کی بقاء اور اس کی بحالی کا مطالبە بھی کر رھے ھوتے ھیں –

یہی وجە ھے کہ قوم پرست تحریک ریاست جموں و کشمیر کے اندر پھل پھول نہیں سکی – دراصل اس تحریک کا وجود ھی موجود نہیں ھے تو پھر یە کیسے پھلے پھولے گی – جو باتیں قوم پرست کرتے ھیں وہ وھی باتیں ھیں جو الحاق پاکستان اور الحاق ھندوستان کے حامی کرتے ھیں تو پھر دونوں میں فرق کیا ھے؟

ھماری بدقسمتی ھے کہ آج تک قوم پرست اس نقطے کو نہیں سمجھ سکے –

چوتھی بات:

ڈوگرہ دور کی مخالفت کرنے والے اور گلاب سنگھ اور ھری سنگھ سے چڑ کھانے والے قوم پرست یە دلائل پیش کرتے ھیں کہ:

1… ڈوگرہ دور کو جنم دینے والا شخص ایک جاگیردار تھا،

2… وہ عوام کا منتخب کردہ نمائیندہ نہیں تھا، 

3… وہ ایک بادشاہ تھا،

4… اس کے دور میں جمہوریت نہیں تھی،

5… اس کے دور میں لوگوں کو مساوی حقوق نہیں ملتے تھے،

6… اس دور میں لوگوں پر جبر اور ظلم ھوتا تھا،

7… گلاب سنگھ نے جس معائدے کی بنیاد پر ریاست جموں و کشمیر کو قائم کیا وہ معائدہ انسانوں کی خرید و فروخت کا عمل تھا اور اس لئیے ناقابل قبول ھے،

8… ڈوگرہ حکمران 1947 میں اسی نظام کا حصہ تھے جس نظام سے برصغیر کے لوگ آزادی لینا چاھتے تھے،

9… ڈوگرہ حکمران برطانیہ کے پروردہ، ان کے تابع، انکے حمایتی اور ان کے منظور نظر تھے؛ 

وغیرہ وغیرہ –

ان دلائل کی بنیاد پر کہا جاتا ھے کہ ڈوگرہ دور کو تسلیم نہی  کیا جا سکتا – یوں گھوڑا حرام قرار دیا جاتا ھے – 

مگر اسی سانس میں ڈوگرہ دور کی قائم کردہ ریاست کو درست تسلیم کیا جاتا ھے – ایک طرف تو اس معائدے کو ماننے سے انکار کر دیا جاتا ھے جس نے ریاست جموں و کشمیر کو جنم دیا تھا مگر ساتھ ھی ریاست جموں و کشمیر کے وجود کو درست تسلیم کیا جاتا ھے – ڈوگرہ دور اور اس دور کے سیاسی اور انتظامی امور کی مخالفت کی جاتی ھے لیکن ڈوگرہ دور کے نظام سیاست اور اس دور کے انتظامات نے جس ملک کو قائم کیا اسے نہ صرف یە کہ درست تسلیم کیا جاتا ھے بلکہ اس کی آزادی، یکجہتی اور بقاء کے لئیے جدوجہد کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا مقصد بھی قرار دیا جاتا ھے – یہی  فکری تضاد اور قول و فعل کی عدم مطابقت قوم پرست تحریک کی بنیادوں کو کھوکھلا کئیے جا رھی ھے –

کیا عجیب دوغلا پن، کیا پست ذھنی استعداد اور کیا بھونڈی کوڑھ مغزی ھے – ایسے قوم پرستوں نے ھی اپنی قوم اور اس سے جڑی قوم پرست تحریک کا بیڑا غرق کیا ھے – 

انہی کی وجە سے قوم پرست تحریک ریاست جموں و کشمیر کے اندر جڑ نہیں پکڑ سکی – 

ایسے قوم پرست یا تو جان بوجھ کر ایک سازش کے تحت قوم پرست تحریک کو نقصان پہنچانے کی غرض سے اور اس تحریک کی بنیادی اساس کے وجود کو غلط ثابت کرنے کے لئیے ڈوگرہ دور کی مخالفت اور مذمت کرتے ھیں یا پھر علم و آگہی کی کمی کے باعث لا شعوری طور پر غلط دلائل پیش کرتے رھتے ھیں – 

اگر مسئلہ علم اور آگہی کا ھے تو پھر انہیں اپنے علم میں موجود کمیوں اور خامیوں کو درست کرنا چاھئیے اور اس ضمن میں ھم ان کی بھرپور مدد اور اعانت کرنے کے لئیے تیار ھیں – 

لیکن اگر بات دوسری ھے تو پھر یە لوگ جان لیں کہ ان کی قوم پرستی کے ڈھونگ کو اب مزید برداشت نہیں کیا جائے گا – ان آستین کے سانپوں کا اب سر کچلنے کا وقت آ گیا ھے اور حقیقی قوم پرست اس کار خیر کے لئیے تیار ھیں – اس مقصد کی خاطر حقیقی قوم پرستوں کو اب ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کے عمل کا آغاز کیا جا رھا ھے اور بہت جلد تمام قوم پرستوں سے اس مقصد کی خاطر براہ راست رابطہ بھی کیا جائے گا –

پانچویں بات:

قوم پرستوں کو ان عوامل اور محرکات کو سمجھنا چاھئیے جن کے باعث قوم پرست تحریک کے اندر موجود یہ سارا ابہام پیدا ھوا ھے –

جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکا ھوں، ریاست جموں و کشمیر کی مملکت اور قوم کا وجود صرف ڈوگرہ دور کا مرھون منت ھے اس لئیے لازمی طور پر ھماری قوم پرست تحریک کی بنیاد بھی ڈوگرہ دور ھی ھے –

ڈوگرہ دور کے خلاف سازش یا یوں کہئیے کہ مملکت جموں و کشمیر کے خلاف سازش یا یوں سمجھئیے کہ اس مملکت کے اندر بسنے والی زیر تشکیل قوم کے وجود کے خلاف سازش کا آغاز اس وقت ھوا تھا جب ریاست جموں و کشمیر کے اندر بسنے والوں لوگوں کو مذھب کی بنیاد پر ھندو اور مسلمان میں تقسیم کیا گیا تھا – 

اس سازش کے بانی شیخ عبداللہ صاحب مرحوم تھے – اور شیخ صاحب کے پیروکار آج تک اس سازش کو جاری رکھے ھوئے ھیں – 

شیخ صاحب نے جب کشمیر کے اکثریتی مسلمانوں پر جموں کے اقلیتی ھندووں کی حکومت کی بات کی تو وہ بنیادی طور پر ریاست جموں و کشمیر کو تقسیم کرنے کی ابتداء تھی – اسی عمل میں پھر ریاست کو تقسیم کرنے کے لئیے اور کشمیر کے مسلمانوں کو ساتھ ملانے کے لئیے معائدہ امرتسر کے وجود کو تسلیم کرنے سے انکار کیا گیا تا کہ کشمیر اور جموں کے اشتراک و انضمام کی بنیاد کو ھی متنازعہ بنا دیا جائے – اس ساری سازش کے قلیل مدت اور کثیر مدت اھداف جو بھی رھے ھوں اس سازش کا بنیادی مقصد جموں اور کشمیر کے لوگوں میں مذھب کی بنیاد پر تفریق اور تقسیم پیدا کرنا تھا تا کہ ریاست کی وحدت اور یگانگت کی بنیادوں کو منہدم کیا جا سکے – مگر چونکہ عملی طور پر ریاست جموں و کشمیر کی بنیادیں اس قدر مضبوط اور قانونی اعتبار سے اتنی قوی ھیں کہ ان کو ھلایا  نہیں جا سکا اس لئیے یہ سازش آج بھی جاری ھے – کشمیر کے موجودہ حالات اسی سازش کی ایک کڑی ھے – 

قوم پرستوں کو اس سازش کو سمجھنے کی ضرورت ھے – 

چھٹی بات:

جو لوگ جمہوریت اور انسانی حقوق کے نام پر مہاراجہ گلاب سنگھ،  مہاراجہ ھری سنگھ اور ڈوگرہ دور کی مخالفت کرتے ھیں انہیں میں صرف برطانیہ کی مثال سے سبق سیکھنے کا مشورہ دوں گا – 

برطانیہ دنیا میں جمہوریت کی ماں ھے – انسانی حقوق، اعلیٰ سماجی اور سیاسی اقدار اور تہذیب و شائستگی میں دنیا میں برطانیہ کا کوئی ثانی نہیں ھے – اور ایک بات ھمیں یاد رکھنی چاھئیے کہ ریاست جموں و کشمیر کے قوم پرست ابھی برطانیہ سے زیادہ بڑے جمہوریت پسند اور انسانی حقوق کے علمبردار نہیں بنے –

برطانیہ کا آزاد وجود اور دنیا میں حاصل کیا گیا مقام برطانیہ کی بادشاھت کا مرھون منت ھے – اور دنیا میں جمہوریت کی بنیاد ھونے کے باوجود برطانوی عوام نے اپنے بادشاھوں کو تہ تیغ نہیں کیا اور نہ انکے وجود اور ان کے مقام سے کوئی انکار کیا ھے بلکہ اپنے بادشاھوں کے قومی کردار کے اعتراف کے طور پر آئینی بادشاھت کا تصور پروان چڑھایا اور آج بھی اپنی بادشاھت کو نہ صرف یہ کہ قائم رکھا ھوا ھے بلکہ بادشاھوں کی تاریخ سے منسوب ھر شے کو قومی اثاثے کے طور پر محفوظ کر رکھا ھے – 

اور ھم ھیں کہ جن کا قومی وجود ڈوگرہ بادشاھوں کے بغیر کوئی بنیاد اور حیثیت ھی نہیں رکھتا خود ان ڈوگرہ حکمرانوں سے منسوب ھر چیز کی جڑ کاٹنا چاھتے ھیں – یە کیسی قوم پرستی اور وطن کی آزادی اور یکجہتی کی کیسی تحریک ھے کہ جس شاخ پر بیٹھے ھیں خود اسی کو کاٹ رھے ھیں –

دراصل ڈوگرہ حکومت کے خلاف بات کر کے ھم اپنے قومی وجود اور اپنی شناخت کے خلاف بات کر رھے ھوتے ھیں – 

ھمیں یە نقطہ سمجھنے کی ضرورت ھے – 

جب تک ھم اپنے موجودہ نظریاتی ابہام کو دور نہیں کرتے ھم معاشرے میں محض تماشہ بنے رھیں گے –

کیا ھم نے کوئی حقیقی موقف اپنا کر کچھ عملی کام کرنا ھے اور عوام کو اپنے ساتھ چلانا ھے یا گزشتہ پچاس سال کی طرح آئیندہ بھی اپنے آپ کو اخبارات کی حد تک زندە رکھنا ھے؟ 

فیصلے کی گھڑی آن پہنچی ھے –
و ما علینا الإبلاغ المبين –
سجاد راجہ 

سابق صدر 

جموں کشمیر نیپ برطانیہ –

تبصرہ جات بذریعہ فیس بک

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply