میں اور میر اکشمیر ” آزاد “کیوں۔۔۔؟

اے ۔ایچ۔آزاد

جب میںنے منا فقت کی اس دنیا میں آنکھ کھولی تو میر والد محتر م نے میر انام عبد الحفیظ رکھا ۔ 18برس تک میر انام عبد الحفیظ ہی رہا مگر اس کے بعد حالات نے پلٹا کھا یا اور میں نے اپنے نام کیساتھ” آزاد“ لکھناشروع کر دیا ۔ وقت کے ساتھ ساتھ عبد الحفیظ کی جگہ اے ۔ایچ نے لے لی اور یوں نیا نام ”اے ۔ ایج آزاد “معر ض وجود میں آگیا۔ میں ریا ست کشمیر کے اس حصے سے تعلق رکھتا ہو ں جسے اقد ام متحدہ نے 1947کے بعد مسئلہ کشمیر حل ہو نے تک عا رضی انتظام چلا نے کیلئے پاکستان کے حوالے کیا۔ گیارہ سال کی عمر تک اپنے گا ﺅں بلکہ اپنے گھر سے ملحقہ پر ائمر ی سکول میں تعلیم حا صل کر نے کی وجہ سے گاﺅں کے با ہر کے ما حول ،حالات و واقعات سے مکمل بے خبر رہا اور شا ید اسی لیے ایک بار میں نے اپنے گھر کی چھت پر پیپلز پارٹی اور بھو لے سے یاد پڑتا ہے کہ ایک بار پاکستان کا پر چم بھی بلند کیا تھا۔ پا نچو یں جماعت پاس کر نے کے بعد جب مڈ ل سکول میں داخلہ لیا تو گھر سے ڈیڑ ھ کلو میٹر دور سکول تک پہنچنے کیلئے فوجی چیک پوسٹ سے گز ر کر جا نا پڑتا تھا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب 1990میں شروع ہونے ہو نے والی صلح تحریک عروج پر تھی ہر طرف جہادی نعر ے گونجتے تھے اور اسلحہ کی ریل پیل ہوتی تھی ۔ مجھے آج بھی یا د ہے کہ لمبی لمبی داڑیوں والے سکول میں اسمبلی کے وقت آکر جہاد و قتا ل پر لمبی لمبی تقرر یں کرتے، جہادی ترانے سنا کر ہمارا خون گرماتے اور پھر جہاد پر جانے کے وعدے لیتے۔ اس دور میں کئی بار جہاد پر جانے کو جی چا ہا مگر ایک مذ ہبی گھر انے سے تعلق ہو نے کی وجہ سے جہاد پر جانے کے شرعی مسئلہ پر پورا نہ اتر سکا کیونکہ جہاد پر جا نے کیلئے والد ین کی رضا مندی ضروری ہوتی ہے “ اسی شرعی مسئلے نے مجھے اس جہاد سے دور کھا ورنہ اس دور میں گھر والوں سے چھپ کر جہاد کیلئے جانے والے کئی طلباءآج تک واپس نہیں آئے ۔

مڈ ل سکول میں داخلے کے بعد چو نکہ ہمیں فوجی چیک پوسٹ سے گز ر کر جا نا پڑ تا تھا اس لیے چیک پوسٹ پر تعینات اہلکار صحت مند لڑکوں کو اپنے پاس بلا کر پو چھ کچھ کر تے اور بعد ازاں گیلن پکڑوا کر پانی بھر کر لا نے کیلئے بھیج دیتے ۔فوجی اہلکار کی نظر میں مجھ جیسے کمسن اور کمز ور طا لبعلم ان کے کسی کام کے تھے اور نہ ہی ان کےلئے خطر ہ تھے مگر ان کے اس طرز عمل نے غلا می کا احسا س بید ار کیا۔ میڑک اور ایف اے تک تعلیم حا صل کر نے کے بعد جب گا ﺅں سے با ہر نکل کر اچی پہنچا تو تب مسئلہ کشمیر کی حقیقتوں کا علم ہونے لگا جو پانچویں سے ایف تک نصاب تعلیم میں در ج مسئلہ کشمیر کے بلکل بر عکس تھیں ۔

یہ قضیہ تو میر ے نا م تک محد ود تھا مگر میر ی ریا ست کے ساتھ بھی آزاد لکھا ،پڑھا اور پکارا جاتا ہے ۔ وہ ریا ست جو کبھی بہت وسیع،بہت خو شحال ہو تی تھی مگر آج وہ تین ٹکروں میں تقسیم ہے ۔ میںریاست کے جس ٹکڑے میں رہتا ہو ں اسے آزاد لکھنے کی بے شمار وجو ہا ت ہیںمگر چند ایک مندرجہ ذیل ہیں ۔

1948میں جب اقدام متحدہ نے ریاست کو عارضی انتظام چلانے کے لیے پاکستان اور بھارت کے حوالے کیا اور تو اس وقت ریاست صرف دوحصوں میں تقسیم تھی اور دونوں اطراف حکومتیں قائم تھیں ۔پاکستان کو ملنے والے حصے میں سردار ابراہیم خان صدر ریاست بنے۔ حکومت پاکستان نے1949میں معائدہ کراچی کے ذریعے گلگت بلتستان چھین لیا ۔معائدہ کراچی کے بارے میں یہی کہا جاتا ہے کہ معائدہ پر دستخط کرنے والوں میں سے نہ کوئی کراچی گیا اور نہ ہی کسی ٹیبل ٹاک کے بعد معائدہ کیا گیا۔سردار ابراہیم خان نے بعدازاں کئی بار نجی محفلوں میں اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ معائدہ کراچی پر مظفرآباد میں گن پوائنٹ پردستخط لیے گئے ۔شائد چوہدری غلام عباس نے بھی راولپنڈی میں ہی بیٹھ کر معائدہ پر دستحط کیے ہوں گے۔ معائدہ کراچی پاکستانی تاریخ کا وہ واحد معائدہ ہے جسے پریس نے اہمیت نہیں دی ۔ معائدے ک دو روز بعد ایک انگریزی روزنامے میں حسب منشاءچھوٹی سی خبر شائع کروا کر اسے غیر ملکی سفارت خانوں میں بھیجا گیا۔ یوں اس معائدے کے ذریعے پاکستان کے انتظام خطہ کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ۔یہ تقسیم نہ صرف انتظامی حد تک محدود رہی بلکہ ان دو حصوں کے عوام کو بھی ایک دوسرے سے الگ کر دیا گیا جو آج بھی بہت دوری پر ہیں ۔

معائدہ کراچی کے ذریعے گلگت بلتستان کا ساڑھے 29ہزار مربع میل کا علاقہ وفاق پاکستان نے براہ راست اپنے کنٹرول میںلیتے ہوئے پولیٹیکل ایجنٹ کے ذریعے نظام حکومت چلانا شروع کیا جو 2009تک قابل عمل طریقہ واردات رہی ۔ 2009میں پیپلز پارٹی نے اس علاقہ کو” صوبہ نما “بنا کر عوام کو ووٹ کا حق دے کر گلگت بلتستان کے عوام پر احسان عظیم کیا گیا اور یہ بات بھی باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ آزاد کشمیر کی حکومت نے آپ کیلئے کچھ نہیں کیا لیکن حکومت پاکستان نے بہت بڑا معرکہ سر انجام دیا ہے حالانکہ ساڑھے 4ہزار مربع میل علاقے پر مشتمل آزاد کشمیر کو تجربہ گاہ کے طور پر استعمال کیا گیا اور اب بھی کیا جا رہا ہے ا۔ اسلام آباد کی حکومتیں یا اسٹیبلشمنٹ جو بھی کام کرنے کا منصوبہ بناتی ہیں اس کا سب سے پہلے آزاد کشمیر میں تجربہ ضرور کیا جاتا ہے کیونکہ یہ” آزاد“ ہے۔

1947سے 1974تک پاکستان میں سیاسی تبدیلیوں کیساتھ آزاد کشمیر میں بھی حالات بدلتے رہے پاکستان میں اقتدار حاصل کرنے والی ہر قوت آزادکشمیر کو عارضی رولز آف بزنس دے کر نظام حکومت چلاتی رہی۔ 1974میں ذوالفقار علی بھٹو نے ایکٹ 1974کی شکل میںآزاد کشمیر کو آزادی کا پروانہ دیا جو آج تک نافذ ہے۔ ایکٹ 1974کے کل 56آرٹیکل میں سے 52آرٹیکل کا اختیار پاکستان کی وزات امور کشمیر کے پاس ہے جبکہ صرف چار آرٹیکل پر عمل درآمد کیلئے بے اختیار صدر ،وزیر اعظم، قانون ساز اسمبلی ، وزرائ، ہائی کورٹ ،سپریم کورٹ قائم کیے گئے ہیں ۔آزاد کشمیر کا اپنا صدر ، وزیر اعظم ہو نے با وجو د آز اد کشمیر میں اعلیٰ عدلیہ کے ججز ،الیکشن کمشنر کی تقر ریا ں چیئرمین کشمیر کونسل (وزیر اعظم پاکستان ) کی منظوری سے کی جا تی ہیں ۔ آزاد کشمیر اسمبلی کو محد ود قا نو ن ساز ی کی اجا زت ہے مگر قا نون سازی کے بعد وز ارت امور کشمیر سے اس کی منظوری لازمی ہے ۔غیر ملکی آزاد کشمیر کا سفر نہیں کر سکتے ،اس کیلئے پاکستانی وزارت داخلہ سے منظوری لینی پرتی ہے۔ وزیر اعظم پاکستان ، وز ارت امو ر کشمیر ،جی اوس مر ی، چیف سیکریٹری ، انسپکٹر جنر ل پولیس ، سیکرٹری ما لیات اورآڈ یڑ جنرل کی صورت میں آز اد کشمیر حکومت کے اوپر آٹھ سے زائد حکومتیں قا ئم ہیں کیونکہ آزاد کشمیر مکمل آزاد ہے۔

آزاد کشمیر کے آزاد ہونے کی بڑی وجہ وہاں کے عوام کی بندوق کے سائے تلے زندگی گزارنا ہے چھوٹے بڑے شہروں ،قصبوں دیہات میں جا بجا فوجی چیک پوسٹوں قائم ہیں آزاد کشمیر کی کوئی ایسی سڑک موجود نہیں جیسے پر 10سے 20کلو میٹر کے فاصلے پر فوج نے بیرئیر لگا کر بند نہ کیا ہو ۔معروف سیاحتی مقام وادی کشن گنگا (وادی نیلم ) کی اکلوتی روڈ پر تو بیرئیر سے بڑھ کرآہنی گیٹ نصب کیا گیا ہے ”جو را“ کے مقام پر شاہراہ نیلم پر نصب آہنی گیٹ سے یہی تاثر ملتا ہے کہ یہ کنٹونمنٹ ایریا ہے مگر دفاع کے علاوہ کنٹونمنٹ کی کوئی سہولت میسر نہیںہے ۔آزاد کشمیر میں رکاوٹیں ،بیرئیر ،چیک پوائنٹ جا بجا ملیں گے اور اس کے ساتھ ساتھ سرکاری دہشتگرد وں کی بھی اچھی خاصی تعداد دیکھنے کو ملے گی کیونکہ یہ ”آزاد“ ہے

ایکٹ 1974کے تحت آزاد کشمیر حکومت کو ریاست میں بہنے والے دریاو ¿ں اور ندی نالوں پر ہائیڈرل پراجیکٹ کی تعمیر کی بھی اجازت نہیں ۔حکومت پاکستان اپنی مرضی سے ڈیم اور میگا ہائیڈرل پراجیکٹ تعمیر کرتی ہے ،جب آزاد حکومت واٹر چارجز یا نیٹ ہائیڈرل پرافٹ کی بات کرئے تو صرف اتنا جواب دیا جاتا ہے کہ آزاد کشمیرآئین کے تحت پاکستان کا حصہ نہیں ہے ۔ آزاد کشمیر میں واپڈا کے زیر انتظام منگلا ڈیم ،جا گراں ہائیڈرل پراجیکٹ سمیت دیگر پن بجلی منصوبوں سے 13سو میگاواٹ بجلی پیدا میں کی جارہی ہے اور پورے آزاد کشمیر کی بجلی کی ضرورت صرف 3سو میگا واٹ ہے مگرآزاد کشمیر میں پاکستان بھر سے زیادہ لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے ۔زیر تعمیر 960میگا واٹ کے نیلم جہلم ہائیڈرل پراجیکٹ ،پترینڈ ہائیڈرل پراجیکٹ، کوہالہ ہائیڈرل پراجیکٹ کا ابھی تک حکومت آزاد کشمیر سے معائدہ تک نہیں کیا گیا حکومت پاکستان زبردستی تعمیراتی کام جاری رکے ہوئے ہے ۔کیونکہ آزاد کشمیر مکمل ”آزاد“ ہے ۔

آزاد کشمیر میں آج تک کوئی بھی سیاسی جماعت اسلام آباد کی مرضی کے بغیر حکومت نہیں بنا سکی پاکستان کے جمہوری ادوار میں اسی جماعت کی حکومت قائم ہوئی جس جماعت کی اسلام آباد میں حکومت قائم تھی مگر آمریت کے دور میں بھی اسلام آبادکی مرضی کی سیاسی جماعت کو حکومت دی گئی ۔مشرف دور میں تو مظفرآباد سے ملٹری ڈیموکریسی کا بے سروپا نعرہ بھی بلند ہوا جسے اب بھی راولپنڈی کی طاقتیں سہارا فراہم کیے ہوئی ہیں ۔گلگت بلتستان کی طرح آزاد کشمیر میں بھی مسلم لیگ ن بھاری اکثریت سے کامیاب ہو گی کیونکہ یہ آزاد کشمیر ہے اور آزاد رہے گا۔اور آزاد کشمیر کی طرح وہاں کا ہر باشندہ بھی آزاد ہے اور اس لیے میں بھی آزاد ہوں

عبدالحفیظ آزاد صحافی اور کالم نگار ہیں کشمیر کی تاریخ اور سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں
عبدالحفیظ آزاد صحافی اور کالم نگار ہیں کشمیر کی تاریخ اور سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں

Author: جواد احمد پارس

جواداحمدپارس کا تعلق پاکستانی زیر انتظام کشمیر سے ہے. آپ اقتصادیات کے طالب علم ہیں شاعر ، افسانہ نگار اور کالم نگار ہیں. کشمیری سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں

تبصرہ جات بذریعہ فیس بک

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply