فارق حیدر کا معصومانہ قدم

جواداحمدپارس

میں آزاد کشمیر کو ریاست نہیں مانتا اور مجھ جیسے ہزاروں لوگ اور بھی ایسے ہوں گے جو نہیں مانتے ہوں گے، مگر یہ ریاست جموں کشمیر کا وہ حصہ ہے جس پر زبردستی قبضہ کر کے اس کو ریاست کے طور پر سامنے لایا گیا، مگر فی الحال ہماری شناخت کا ایک ذریعہ ہے.

آج کی خبروں میں یہ بات کافی اہم رہی کہ فاروق حیدر صاحب نے وزیراعظم ہاوس میں قیام کے بجائے ذاتی گھر میں رہنے کو ترجیح دی ہے، اور وزیر اعظم ہاؤس کو کرائے پر اٹھوا دیا ہے. جس سے ریاست میں زر کی قلت کو دور کرنے کی کوشش کی جائے گی خوش آئند اور قابل ستائش بات ہے.

فاروق حیدر آزاد کشمیر کے سابق وزراء سے مختلف ہیں اور وہ ممتاز راٹھور مرحوم کے نقش قدم پر چل رہے ہیں ممتاز راٹھور مرحوم بھی کچھ ایسے ہی تھے ۔ ماضی میں فاروق حیدر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ چھیڑ خانی کا خمیازہ بھگت چکے ہیں غالبا یہی وجہ ہے کہ انہوں نے نیا راسطہ اختیار کیا ہے مگر ایک طالب علم کی حیثٰیت سے کئی سوالات ایسے ہیں جو میرے ذہن میں بری طرح کھٹک رہے ہیں۔ امید ہے کوئی دوست ان سوالات کے جواب دینے کی سعی کرے گا۔ یہ سوالات کسی سیاست اختلاف اور تنقید سے بالا تر ہیں۔

1) آزاد کشمیر سالانہ پندرہ ارب روپے کم و بیش جنریٹ کرتا ہے جس میں زر مبادلہ شامل نہیں ہے جبکہ آزاد کشمیر کا بجٹ کم و بیش 70 ارب روپے ہوتا ہے جس میں تمام اخراجات کو مکمل کیا جاتا ہے جبکہ سٹیٹ بنک آف پاکستان سے لیا گیا قرض بھی واپس کرنا ہوتا ہے۔ اتنے پیسوں کی موجودگی میں وزیر اعظم کو صرف چند لاکھ روپے کے لیے وزیر اعظم ہائوس کرائے پر دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔

2) وزیر آزاد کشمیر یہ جانتے ہیں کہ وزیر اعظم ہائوس سے ہونے والی آمدنی سے کچھ خاص تبدیلی نہیں ہو گی اسٹیٹ کی آمد میں چند لاکھ روپے کا اضافہ ہو جائے گا۔ وہ پاکستان سے اپنا حق طلب کیوں نہیں کرتے؟؟؟

3) اگر آزاد کشمیر کو صرف منگلا ڈیم کی سالانہ آمدنی ہی بلکہ اس آدھا دی جائے جو کہ کم و بیش ساڑھے چار سو ارب روپے سالانہ بنتی ہے تو ازاد کشمیر نہ صرف پانچ سال کی ترقی دو سال میں کرے گا بلکہ پاکستان کے دوسرے صوبوں کو قرض دینے کے بھی قابل ہو جائے گا۔ وزیر اعظم یہ حق کیوں نہیں لیتے

4) آزاد کشمیر کا سالانہ ٹیکس اور ایکسائز کتنی ہے ان کی کیا لاگت ہے سالانہ بین الریاست درآمد اور برآمد کی کیا صورتحال ہے۔ کیا وہی ریاست اگر اپنے پاس رکھے تو اس قابل نہیں ہو جائے گی کہ تمام تر زرائع آمدن پاکستان کے قبضے میں ہوتے ہوئے آزاد کشمیر اپنے پائوں پر کھڑا ہو جائے

5) سالانہ اربوں کا ذر بادلہ کشمیر بھیجتے ہیں یہ پیسے اسٹیٹ بنک آف پاکستان کے پاس جاتے ہیں جن پر سوائے ریاست کو اس کے کوئی فائدہ نہیں ہوتا ہے جن کی فیملی کو بھیجے جاتے ہیں وہ دو وقت کی روٹی کھالیتے ہیں ۔ کیا ان میں سے حق طلب نہیں کیا جا ستا۔

6) ہر سال پاکستان کے آگے ہاتھ پھیلانے پڑتے ہیں مختلف بلوں کی شکل میں تو آزاد کشمیر کوکیوں آمجگاہ بنایا ہوا ہے صدر اور وزیراعظم اور ہزاروں دیگر پوزیشنوں کے نام پر جہاں کھربوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں کیا ان سے ریاست کو فائدہ نہیں پہنچایا جا سکتا ہے۔

7) تمام اعداد و شمار و جو آزاد کشمیر میں جنریشن ہو رہی ہے اس کو سامنے لا کر اپنے حقوق کا مطالبہ کیوں نہیں کیا جا رہا ہے۔

فاروق حیدر کے ایثار میں کسی قسم کا کوئی شک نہیں اور نہ ہی اس کی گنجائش ہے مگر کیا یہ مسئلے کا حل ہے۔ کیا اس سے اپنے پائوں پر کھڑے ہونے کے قابل ہو جائیں گے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو ہم کب سوچنے کے قابل ہوں گے اور اگلے بیس تیس یا پچاس سالوں کے لیے لائحہ عمل طے کریں گے یا ایسا کریں کے کروڑوں روپے کے وزیر اعظم ہائوس جیسے ہائوس بنا کر اسے کرائے پر دے دیں اور آزاد کشمیر کے اخراجات چلائے جائیں۔

جواداحمدپارس
جواداحمدپارس

Author: جواد احمد پارس

جواداحمدپارس کا تعلق پاکستانی زیر انتظام کشمیر سے ہے. آپ اقتصادیات کے طالب علم ہیں شاعر ، افسانہ نگار اور کالم نگار ہیں. کشمیری سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں

تبصرہ جات بذریعہ فیس بک

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply