قوم ، ریاست اور قومی شناخت

(تحریر: شفقت راجہ۔ برطانیہ)

قوم کا بنیادی تصور انسانوں کا ایسا گروہ ہے جو نسل ،زبان، تہذیب وثقافت، تاریخ ، مذہب ،علاقائی یا جغرافیائی حدود کے بندھن میں ایک دوسرے سے منسلک ہے۔ ارتقائی عمل میں پہلے خاندان، پھر محدود سماج اور اسکے بعد ہی ایک مخصوس خطے پر اختیار اور منظم سماج ہی ریاست کی ابتدائی شکل بنا اکثر قدیم و جدید فلاسفر اور دانشور ریاست کی اس تشکیل پر اتفاق پا یا جاتا جس میں سقراط، افلاطون اور ارسطو بھی شامل ہیں چونکہ ان تینوں کا تعلق قدیم یونانی شہری ریاستوں اور اس دور کی سیاسےات سے رہا ہے لہذا وہ ریاست کی تمام طاقت کے ارتکاز کے قائل ہیں جس میں منصف و مطلق العنان بادشاہت ناگزیر ہے اور وہ شہریوں پر حاکم کے احکامات کی پابندی اور بغاوت پر قدغن لگاتے ہیں۔ جدید دور کے فلاسفروں میںتھامس ہوبز، جان لاک، جین بوڈن، ڈیوڈہیوم اور کئی دیگر شامل ہیں جو ریاستی اختیارات(طاقت) کیلئے مقتدر اعلیٰ یا مرکز کو ضروری سمجھتے ہیں۔ جارج ہیگل کو تصوراتی فلسفہ کا نقیب کہا جا سکتا ہے جس کے مطابق تصور ہی وجود کو متعین کرتا ہے۔ ہیگل کے مطابق جدلیاتی عمل ہی تاریخ بناتا ہے۔ جب ایک خیال (نظریہ،عمل) اوررد خیال یا مقابل کا آپس میں ٹکراو ہو تاہے تو اسکے نتیجے میں سامنے آنے والی نئی شکل کا ایک اور مدمقابل کےساتھ کشمکش کا نیا باب شروع ہو جاتا ہے اور یہ عمل اس وقت تک تسلسل سے جاری رہتا ہے جب تک کوئی نیا مقابل خیال سامنے آتا رہیگا اور اسی طرح اسکی تکمیل تک تاریخ کا بھی اختتام ہو جاتا ہے، ہیگل نے اس صورت میں ایک فطری ریاست کا تصور ہیش کیا ہے جس میں ایک سماجی معاہدہ کے تحت سب برابر اور سب کے مفادات و نقصانات سانجھے ہونگے اور کشمکش کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی البتہ باہمی تنازعات کے تصفیے کیلئے ایک مقتدر ادارے(حکومت) کی تشکیل بھی کی جا سکتی ہے ہیگل کے مطابق ریاست دراصل سیاسی لحاظ سے ایسا منظم و مقتدر گروہ ہے جو دوسرے ایسے گروہوں سے آزاد ہو ۔ انسانی سماج اور ارتقائی عمل ہی نے ریاست، حکومت اور آئین کی تشکیل کی جس میں ارتقائی عمل جاری رہتا ہے۔ انکے ہمخےال کارل مارکس اور اینگلز ریاستوں کی ابتدائی تشکیل کی وجہ جدلیاتی مادیت میں زمین پر ملکیت اور ملکیت کے تحفظ سے تعبیر کرتے ہیں اور ہیگل کے تصور سے زیادہ مادیت کو تاریخی محرک مانتے ہیں جو نئے تصورات کو جنم دیتا ہے۔ انکے نزدیک ریاست اور اسکے اداروں کی تشکیل بورژوائی طبقہ بالا نے اپنے مفادات کو تحفط دینے کیلئے کی گئی ہے جس میں محنت کش طبقہ کا استحصال مقصود ہوتاہے۔ مارکسی نظریہ کے مطابق غیر طبقاتی سماج کا قیام ہی اس طبقاتی کشمکش کا حل ہے جس میں محنت کش پرولتاریہ طبقہ انقلاب کے ذریعے ریاست(حکومت) پر قبضہ کر لے اور غیر طبقاتی اشتراکی سماج کی بنیاد رکھے جس کے بعد ریاستی اداروں کا خاتمہ ہو اورجس کیساتھ ریاست کا بھی اختتام ہو جائے (مارکسی نظریہ ریاست کی بجائے ایک غیرطبقاتی عالمی سماج کا پرچارک ہے جس میں سرحدوں کی گنجائش نہیں ہوتی، اس لحاظ سے 84471 مربع میل متنازعہ ریاست جموں کشمیر کی بحالی اور خودمختاری(قوم پرستی) کا نظریہ مارکسی فلسفہ اشتراکیت سے متصادم ہو جاتا ہے )۔ خاندان سے سماج اور پھرانکی آبادکاری(گاوں) اور آبادیوں کے اشتراک سے ہی دراصل ابتدائی ریاستوں کے قیام اور ارتقاءبھی ہوا جو بعدازاں بقاءدفاع سلامتی اور طاقت جیسے عناصر کے امتزاج سے جغرافیائی توسیع کے پیش نظر قومیں علاقائی اور پھر گروہی قومیتوں اور اکائیوں کیساتھ کسی مرکز کا حصہ بنیں اور مرکزی سیاسی اکائیاں سلطنتوں، نوآبادیات اور پھرقدیم قومی ریاست سے جدید ریاستی شکل میں تبدیل ہوگئیں جو زیادہ تر مخصوص جغرافیائی حدود میں سیاسی ، معاشی و انتظامی لحاظ سے ایک مقتدر و منظم مرکزی حکومت (وفاق) سے تعبیر ہوئیں جسے مشترکہ نسل، زبان یا تہذیب و ثقافت کی قید سے بھی آزاد کیا جا سکتاہے جس میں مشترکہ ےا مختلف نسلوں اور مختلف تہذیب و ثقافت و مذہب کے لوگ بھی اپنی گروہی قومیتوں کیساتھ ایک مقتدر و منظم وفاقی ریاست کی جغرافیائی حدود میں رہنے والے ایک قوم کہلاتے ہیں جیسے موجودہ بھارت و پاکستان ہیں ۔ نیشلزم یا قوم پرستی بھی ایسے ہی گروہی قوم پرستی یا اسکے ارتقاء کے بعد اپنی مختلف شکلیں اختیار کر تا رہتا ہے جس میں کہیں رنگ ونسل، زبان، تہذیب و ثقافت، مذہب اور کبھی سیاسی، معاشی یا جغرایائی وحدت کے اثرات غالب و مغلوب ہوتے رہتے ہیں جس میں کبھی ایک ہی قوم کے لوگ مختلف ریاستوں کے شہری تو کہیں مختلف قوموں کے لوگ مشترکہ مرکزی ریاست کے برابر شہری بن کرایک قوم کا روپ دھار لیتے ہیں۔ مختصر یہ کہ ریاست ایک ایسی مخصوص جغرافیائی اکائی جس کے شہری اپنے مسلمہ حقوق و فرائض کیلئے کسی منظم مقتدر آئینی، حکومتی ا ور انتظامی ڈھانچے کے تابع ہوں(ریاست کی مختلف اقسام ہیں جن کی تفصیل میں جانا ضروری نہیں ہے)۔ اس لحاظ سے مشترکہ عناصر(نسل، مذہب، ثقافت وغیرہ) کی عکاس قوموں کیلئے ریاست کا ہونا ضروری نہیں البتہ ریاست کو اپنی وحدت و بقاءکیلئے قومی شناخت اور ایک مشترکہ اور منظم ریاستی قوم کی تخلیق اور اسکی نشونما لازم ہو جاتی ہے۔ قوم پرستی، قوم پروری، وطن پرستی یا حب الوطنی ایک دوسرے سے مشابہ اصطلاحیں ضرور ہیں تاہم ان کا استعمال ایک ہی معنی کا حامل ہرگز نہیں ہے۔ ریاستی شناخت اور قوم پرستی لازم و ملزوم ہیں کیونکہ دونوں ہی میں ریاست کیساتھ اپنے بندھن کا اجتماعی احساس پایا جاتا ہے جس کے تحت ہندوستان اور پاکستان جیسے ممالک میں بسنے والی مختلف قومیں اور قومیتیں خود کو ہندوستانی اور پاکستانی کہلانے میں فخر محسوس کرتی ہیں۔ قومی نشناخت اور قوم پرستی ہی نے سلنطتوں کے عروج و زوال میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ قومی یکجہتی کیلئے قومی شناخت کا ادراک ضروری ہے جسے مختلف طریقوں سے پروان چڑھایا جاتا ہے جس میں مشترکہ ثقافتی ترویج، مشترکہ اخلاقیات، قومی اعزازات، قومی نصاب، قومی زبان، قومی شہریت، قومی دن ، قومی لباس ، قومی تاریخ، قومی ترانہ ،قومی جھنڈہ وغیرہ شامل ہیں۔ قومی شناخت کا ادراک ا ور اسکا فخریہ اجتماعی احساس و اظہار ہی دراصل قوم پرستی کہلاتا ہے جو آزاد قوموں میں قومی خودمختاری کی حفاظت اور غلام قوموں میں قومی خودمختاری کے حصول کے جذبات و تحاریک کا موجب بنتا ہے۔ قومی شناخت اور قوم پرستی کا محض ملک میں رائج سیاسی و معاشی نظام سے برائے راست تعلق جوڑنا غیرمناسب رویہ ہے کیونکہ قوم پرستی کسی بھی سیاسی و معاشی نظام کی زنجیر سے آزاد ہوتے ہوئے اشتراکی، سرمایہ داری، جمہوری، بادشاہی یا آمرانہ سیاسی و معاشی نظام میں قائم رہنے کی صلاحیت رکھتی ہے کیونکہ اس کا برائے راست تعلق افراد کی شناخت، جذبات و احساسات سے جڑا ہوتاہے اسی لئے اس کا مسلمہ وجود دنیا کے ہر خطے اور ریاست میں قائم رہتا ہے۔
آج ہم متنازعہ ریاست جموں کشمیر ولداخ کی حیثیت ، قومی شناخت و قوم پرستی اور قوم و قوم پرستی کے مغالطوں کا جائزہ لینے کی کو شش کرتے ہیں۔ دنیا کی تاریخ جنگوں کے اختتام پر ایسے معاہدات سے بھری پڑی ہے جس میں فاتح مفتوح پر تاوان جنگ یا علاقوں سے دستبرادری جیسی سزائیںمسلط کرتے رہے ہیں۔ ایسے ہی معاہدات ناصرف ہندوستانی ریاستیں آپسی جنگ کے بعد بلکہ پوری دنیا کا یہی مروجہ دستور تھا۔ جنگی تاوان کا سراغ قبل مسیح تک ڈھونڈا جا سکتا ہے۔ 1840کے عشرے میں جموں نے لداخی ریاستوں پر تاوان جنگ عائد کیا،1845میں جموں۔ سکھ راج کی جنگ کے بعد جموں پر30 لاکھ روپے سے زائد اور چند جاگیروں کی واپسی کا جنگی تاوان لگا، 1871کی فرانس۔ پروشیا جنگ (5 بلین گولڈ فرانک فرانس پر)، اپریل 1895(معاہدہ) میں چین جاپان جنگ(200ملین چاندی ٹایل چین پر اور تائیوان سے عارضی دستبرداری)، 1918میں جنگ سے نکلنے کے معاہدہ میں روس کو وسطی اتحاد(سلطنت عثمانیہ، جرمنی، آسٹریا، بلغاریہ وغیرہ) کو تاوان میں اپنے دو صوبوں، بالٹک ریاستوں اور6 بلین جرمن گولڈ مارک کی ادائیگی کی حامی بھرنا پڑی تاہم جنگ عظیم اول کے اختتام پر سکھ کا سانس نصیب ہوا جس میں نئے معاہدات میں جرمنی پرا تنا تاوان جنگ عائد کر دیا گیا جسکی ادائیگی 2010تک بھی جاری رہی، پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں جرمنی ، جاپان اور اٹلی کو بھی ایسی ہی سزا بھگتنی پڑی تھی اور انہی امن معاہدات کے ذریعے بعدازاںموجودہ یورپ اور دیگر خطوں کی نئی خودمختار ریاستوں کا قیام عمل میں لایا گیا تھا ۔ 1990 کے عشرے میںکویت عراق جنگ میں بھی عراق پر350 بلین ڈالر کا تاوان جنگ عائد کیا گیا تھا۔ متنازعہ جموں کشمیر و لداخ کی متحدہ قومی ریاست کی تخلیق بھی سکھ۔ انگریز جنگ کے بعد سکھوں پر مسلط کئے گئے جنگی تاوان کا نتیجہ ہے۔ قومی ریاست کا ارتقاءمارچ 1846 میں معاہدہ لاہور اور معاہدہ امرتسر کے تحت ہوا جس میں سکھوں پر مسلط تاوان جنگ کے بدلے جن علاقوں سے دستبرداری قبول کی گئی انہی کو ریاست جموں کی طرف سے تاوان جنگ کی ادائیگی کے بدلے جموں، کشمیر اور لداخ کے خطوں کو ایک مرکزی (وفاقی) سیاسی، انتظامی و معاشی نظام میں یکجا کیا گیا تھا۔ ریاست کا سیاسی و معاشی ڈھانچہ بھی باقی ہندوستانی ریاستوں کی طرح شخصی شاہی نظام پر مشتمل تھا جس میں عوامی خواہشات کا عمل دخل کوئی معنی نہیں رکھتا اور اس نظام کا انتظامی ڈھانچہ جاگیردار، زمیندار، ذیلدار، نمبردار(لمبردار)، کاردار، چوکیدار وغیرہ کی ساز و ناساز طبیعت کا محتاج ہوا کرتا ہے جس میں عوام کیساتھ زیادتی و استحصال کا عنصر ہمیشہ حاوی رہتا ہے۔ ریاست جموں کشمیر میں ایسی ہی زیادتیوں اور استحصال کے خلاف عوام کی آواز مختلف ادوار میں اٹھتی رہی ہے اور مکمل نا سہی لیکن دادرسی کیلئے چند اقدامات بھی کئے جاتے رہے جو عوامی اطمینان کیلئے ہمیشہ ناکافی رہے ہیں۔ لیکن آج اسکی تفصیل سے زیادہ قومی ریاست (جموں کشمیر)کے قیام و استحکام کے ارتقائی عمل کے دوران علاقائی یکجہتی، مرکزی حکومت اور قومی شناخت جیسے اقدامات پر مختصر جائزہ ضروری ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ریاست جموں کشمیر و لداخ کی علاقائی یکجہتی و استحکام میں ریاستی طاقت کا کردار نمایاں رہا ہے تاہم اس دوران ان دورافتادہ کثیر نسلی، کثیر مذہبی، کثیر ثقافتی اور کثیر لسانی اکائیوں کو جوڑنے کیلئے مرکزی انتظامی ڈھانچہ، سڑکوں کی تعمیر، زمینی بندوبست و اصلاحات، تعلیمی اداروں کا قیام، قانون نافذ کرنے والے اداروں (پولیس، عدالت) کا قیام، سماجی و مذہبی اصلاحات، باشندہ ریاست قانون، پرجا سبھا اسمبلی وغیرہ ایسے اقدامات ہیں کہ جن ایک قومی ریاست اور قومی شناخت کے آثار موجود ہیں۔ ہمیں یہ کبھی نہیں بھولنا چاہئے کہ1935کی گلگت لیزمیں دفاعی ضروریات کے پیش نظر جن علاقوں کو انگریزوں کے عارضی حوالے کیا گیا وہاں بھی ریاست ہی کے اقتدار اعلیٰ کو تسلیم کیا گیا تھا اور وہاں بھی سرکاری عمارات پر ریاستی جھندہ ہی قومی شناخت کے طور پر لہرایا جاتا تھا اسی لئے تقسیم ہند سے پہلے یکم اگست 1947کو وہ تمام علاقے ریاستی حکومت ہی کے سپرد کئے گئے تھے۔ ریاست میں1846 میں اپنے قیام ہی سے دو رنگوں (زعفرانی زرد اور سرخ) اور تین پٹیوں پر مشتمل مستطیل شکل کا جھنڈہ قومی شناخت کی شکل میں موجود رہا ہے جبکہ اس سے پہلے کشمیر میں خالصہ، افغان، مغل سلطنتوں کے قومی جھنڈے رائج تھے۔ ( جھنڈے کی شکل اور رنگوں پر میں بحث بیکار سمجھتا ہوں کیونکہ رنگوں کی اکثر تشریحات 1846کے بعد تخلیق و استعمال کی گئی ہیں ورنہ ان دونوں رنگوں کے اس جھنڈے کو بڑی خوبصورت کہانی دی جا سکتی ہے) ۔
مذہبی قوم پرستی(دو قومی نظریہ) کی بنیاد پر تقسیم ہند کے وقت مہاراجہ ہری سنگھ ریاست کو دونوں نوزائیدہ ممالک پاک و ہند کیساتھ دوستانہ تعلقات کیساتھ خودمختار رکھنے کا خواہاں تھا لیکن(پاک و ہند) دونوں ہی طرف سے پہلے سیاسی اور پھر عسکری مداخلت پر ریاست جموں کشمیر و لداخ تقسیم ہو کر اب مسلہ کشمیر کی شکل میں زندہ ہے۔ گزشتہ تقریباµ ستر سالہ جغرافیائی تقسیم کے بعد آج تک اس ریاست کی قومی شناخت اور قوم پرستی کا سفر آگے کی بجائے پیچھے کی طرف ہی بڑھا ہے۔ جس میں قوم ، قومی شناخت اور قوم پرستی اپنی قدیم شکل اختیار کر چکے ہیںجس میں نسل، علاقہ و علاقائی ثقافت، زبان اور مذہب کے عناصر بالکل نمایاں ہیں جن کا مختصر جائزہ آگے پیش خدمت ہے۔

اکتوبر1947کے مشروط و محدود (دفاع، خارجہ، مواصلات امور) سطح پر ریاستی الحاق اور اقوام متحدہ میں متنازعہ (جنوری (1948 ہو جانے کے بعد سے بھارتی زیر انتظام جموں و کشمیر(بشمول لداخ) کا بھارت سے آئینی رشتہ آرٹیکل 370 کے ذریعے قائم ہے جو ریاست کی خصوصی حیثیت میں ایک مقامی اسمبلی، حکومت، آئین اور جھنڈے کی اجازت دیتا ہے لیکن مجموعی طور پر طاقت کا منبہ مرکزی حکومت (دہلی) ہے۔ 1951میں نیشنل کانفرنس کی کلی اکثریت کیساتھ دستور ساز اسمبلی قائم ہوئی جس نے پہلے ریاستی اسمبلی کو بااختیار کرتے ہوئے مہاراجہ کو آئینی علامتی سربراہ کی حیثیت دی۔ اسمبلی نے 7 جون1952کو متحدہ ریاستی شناخت کا جھنڈہ نیشنل کانفرنس ہی کے سرخ رنگ اور سفید ہل کے نشان والے جھنڈے میں تین عمودی سفید پٹیوں کیساتھ ایک نئے منقسم ریاستی جھنڈے کے طور پر منظوری دی جو آج بھی سرکاری طور پر رائج ہے جس میں سرخ رنگ انقلابی نظریات، ہل(کسان محنت کشی) اور تین پٹیاں تین صوبوں جموں، کشمیر اور لداخ کی وضاحت کرتے ہیں(یاد رہے پاکستان اور ہندوستان کے قومی جھنڈوں میں کانگرس اور مسلم لیگ کے پارٹی جھنڈوں کا ہی عکس پایا جاتا ہے اور وہیں سے شیخ عبداللہ نے بھی اثر لیا ہے) ۔
ریاست میں جموں(صوبہ) کی قوم پرستی مذہب و علاقائی بنیاد پرہے اور اسی لئے وہاں اکثریت(ہندو، سکھ) اپنا مستقبل بھارت کے ساتھ محفوظ مانتے ہیں، بھارت نواز دائیں بازو کی مذہبی و سیاسی جماعتوں کی مقبولیت اس بات کا واضح ثبوت ہے (پونچھ راجوری کی مشترکہ علاقائی شناخت بھی موجود ہے) ۔ بھارتی زیر انتظام ریاست کی قومی شناخت کے حوالے سے یہی جاننا کافی ہے کہ موجودہ ریاستی حکومت میں شامل بی جے پی کے جموں سے اراکین اسمبلی اور وزراءنے ریاستی جھنڈے کے استعمال سے انکار کرتے ہوئے صرف بھارتی جھنڈے کو اپنی قومی شناخت تسلیم کیا۔ یہ معاملہ آج بھی کابینہ ، اسمبلی اور عدالتوں کے ذریعے نمٹانے کی کوشش جاری ہے ۔ وادی کشمیر میں بھی مذہبی و ثقافتی(کشمیرےت) قوم پرستی فعال ہے جس میں بھارت نواز سیاسی جماعتوں کی مقبولیت اور مزاحمتی تحریک کی شدت میں مستقبل کے حوالے سے تو ابہام موجود ہے تاہم ایک بات واضح ہے کہ وہ جموں کے ساتھ ہمقدم بالکل نہیں ہیں اسی لئے وہاں کی تحریک بھی وادی کشمیر تک محدود رہی ہے۔ مزاحمتی تحریک میں پاکستان نواز یاعلیحدگی پسند گروہ پاکستانی اور آزاد کشمیر کے جھنڈوں کے ذریعے اپنے عزائم کا اظہار کرتے رہتے ہیں جبکہ ہند نواز سیاسی جماعتیں( نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی) ریاستی اور بھارتی جھنڈے کا یکساں استعمال کرتے ہیں ۔ لداخ بھی مذہبی اور علاقائی بنیادوں پر اندرونی طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے جس میں کرگلی اور لداخی کے علاوہ بدھ، شیعہ و سنی جیسی مذہبی قومی شناختیںکافی واضح ہیں تاہم سیاسی مستقبل کے حوالے سے لداخ کی اکثریت صوبہ کشمیر سے الگ اپنا انتظامی ڈھانچہ اور بھارت کا آئینی حصہ بننے کو ترجیح دیتے ہیں۔ بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر کا جھنڈہ حد متارکہ کے پار پاکستانی زیر اانتظام آزاد کشمیر کی نمائندگی کرنے سے بالکل بے نیاز ہے۔
پاکستانی زیر انتظام متنازعہ خطے آزاد کشمیر و گلگت بلتستان میں سیاسی نظریات، قوم پرستی اور قوی شناخت کے حوالے سے گروہی، فروعی اور پیچیدہ قسم کے ابہام پائے جاتے ہیں۔ اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش تک نہیں کہ یہ دونوں خطے ایک منصوبہ بند فوجی بغاوت اور قبائلی حملے کا ثمر ہیںتاہم انتظامی طور پر ان دونوں خطوں کو1947سے ہی الگ کر دیا گیا تھا۔ گلگت بلتستان میں تو سیاسی شعور کی بیداری میں کافی عرصہ لگا کیونکہ وہاں سارے سیاسی و انتظامی امور حکومت پاکستان کی وزارت امور کشمیر کے ذریعے براراست چلائے جاتے رہے ہیں۔ گزشتہ دو تین عشروں کے دوران مرحلہ وار وہاں نظام میں تبدیلی لائی گئی ہے۔ گلگت بلتستان میں پاکستانی مذہبی و سیاسی جماعتیں مقبول ہیں اور وہ پاکستانی قوم پرستی کی نمائندہ ہیں۔ اسکے علاوہ چندگروہ ایسے بھی ہیں جو گلگت بلتستان کی مشترکہ شناخت کو لیکر اسی خطے کے آئینی و سیاسی حقوق کی جدوجہد کے تناظر میں علاقائی قوم پرستی کے دعویدار بھی ہیں تاہم یہ گروہ ابھی تک عوامی سیاست میں زیادہ کامےاب نہیں ہیں۔ مجموعی طور پر گلگت میں مقامی علاقائی اور مسلکی قوم پرستی کی جڑیں اس قدر مضبوط ہیں کہ جس میں کسی مثبت تبدیلی کا امکان مستقبل قریب میں تو نہیں لیکن عوام کی فرقہ واریت سے بڑھتی ہوئی بیزاری البتہ شائد کبھی اس تفرقہ کو قابو کرنے میں کامےاب ہو ہی جائے۔ گلگت بلتستان میں قومی شناخت بھی ابہام کا شکار ہے۔ گلگت سکاوٹس اور ریاستی فوج کے مسلمان اہلکاروں کی بغاوت((1947 کہ جس میں ےکم نومبر1947کے باغی حکومت کے اعلان اور اس دوران پاکستان و آزادکشمیر کے جھنڈوں کی نمائش بھی کئی مغالطوں کی بنیاد ہے۔ مجموعی آبادی کی اکثریت پاکستان کو ہی اپنا قومی ملک اور پاکستانی جھنڈے سمیت دیگر قومی شناختوں کو ہی اپناتی ہے ۔ گلگت بلتستان میں تاریخی و مذہبی بنیادوں پر ہی ایسا طبقہ بھی موجود ہے جو اس خطے کو ماضی و مستقبل میں بھی ریاست جموں کشمیر ہی کا لازمی حصہ تسلیم کرتا ہے۔
آزاد کشمیر میں مسلم کانفرنس کی سربراہی میں بننے والی آزادکشمیر حکومت کا سرکاری یوم تاسیس24 اکتوبر 1947 کو مانا جاتا ہے( یہاں بھی ابہام کہ چند افراد یا گروہ مسلم کانفرنس ہی کی اعلان کردہ4 اکتوبر 1947کے اعلان کو خودمختار ریاستی حکومت مانتے ہیں)۔ آزادکشمیر میں بھی ایک مقامی اسمبلی اور ریاستی حکومتی ڈھانچہ دستیاب ہے لیکن بھارتی زیر انتظام خطے کی طرح علاقے میں اکثرسیاسی و انتظامی امور پر زیادہ اختیار مرکزی حکومت (اسلام آباد) کے پاس ہے۔ آزاد کشمیر کا بھی سبز، زرد اور تین سفید پٹیوں و چاند ستارہ پر مشتمل مستطیل جھنڈہ موجود ہے جو صرف آزادکشمیر کی نمائندگی تک محدود ہے۔ جس میں سبز رنگ و چاند ستارہ مسلم اکثرےت، زرد رنگ غیر مسلم اقلیت اور افقی پٹیاں برف و پانی کی غمازی کرتے ہیں (اس جھنڈے کے تخلیق کار جی کے ریڈی یاعبدالحق مرزا پر بھی ابہام ہے)۔ سوائے چند افراد یا گروہوں کے آزادکشمیر کے تمام سیاسی و سماجی گروہ آزاد کشمیر کے جھنڈے کو قومی شناخت تسلیم کرتے ہیں۔ آزاد کشمیر کی قوم پرستی مجموعی طور پرمذہبی، نسلی اور علاقائی عناصر پر مشتمل ہے۔ عوامی و پارلیمانی سیاست پر پاکستانی سیاسی جماعتوں کا غلبہ ہے اور ایسی مختلف سیاسی جماعتوں میں نسلی گروہ زیادہ فعال ہیں۔ آزاد کشمیر میں چونکہ سو فیصد مسلم آبادی ہے لہذا انہی پاکستانی جماعتوں کو مقبولیت بھی حاصل ہے اور انکی قوم پرستی ریاست کے الحاق پاکستان پر ہی ختم ہوتی ہے۔ آزادکشمیر میں ترقی پسند، انقلابی اور آزادی پسند کہلانے والے گروہ بھی خاصی تعداد میں موجود ہیں اور نوجوان طبقہ اکثر انہی گروہوں کیساتھ منسلک ہے جو خود کو حقیقی قوم پرست سمجھتے ہیں۔ ایسے قوم پرست گروہوں کی عوامی یا انتخابی سیاست میں پزیرائی نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ ےہ گروہ موجودہ سیاسی ڈھانچے کو رد کرتے ہوئے پوری ریاست کی 1947 والی کیفیت میںمکمل آزادی وخودمختاری کے ساتھ بحالی کے بعد قائم ہونے والے سیاسی و معاشی نظام پر اکثر بحث و تکرار میں مصروف رہتے ہیں اور بدقسمتی سے اپنے خطے کے معروضی حالات سے بے بہرہ ہوتے ہوئے پوری ریاست کی آزادی و خودمختاری کی بحالی کیلئے کسی عملی لائحہ عمل کی ترتیب، تحریر، تحریک و تشہیر میں کامےاب نہیں ہوسکے) جس پر انکو سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت بھی ہے( ۔ اندرونی طور پر ان گروہوں میں بھی روائتی سیاست کی طرح کہیںکسی حد تک نسلی ، مذہبی ، علاقائی بنےادوں پرمشتمل قوم پرستی اور نظریاتی گروہ بندی کے آثار کافی حد تک نمایاں ہیں۔ ان میں سے اکثر گروہ آزادکشمیر کے جھنڈے کو قومی شناخت تسلیم کرتے ہیں ۔ گزشتہ چند سالوں میں خصوصاµ فروری 2014 میں ایک طلباءتنظیم کی طرف سے 1947 کے ریاستی جھنڈے کی بحثیت قومی شناخت کی مہم اور ایسی مختلف قوم پرست جماعتوں میں موجود افراد میں 1947 والے ریاستی جھنڈے کی تشہیر نے ان گروہوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ مختلف جماعتوں میں موجود اس نئی سوچ کے حامل اس غیر اعلانےہ قوم پرست گروہ کا موقف منطقی دلائل کیساتھ سامنے آیا ہے کہ منقسم ریاست کی دونوں جانب دو مختلف جھنڈے ریاست کی تقسیم کی علامات ہیں اور نہ ہی یہ جھنڈے بحیثیت قومی شناخت 84471 مربع میل پوری ریاست کے موجودہ منقسم و متنازعہ حصوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ چونکہ قوم پرست گروہ ریاستی وحدت کی بحالی و خودمختاری کے نظریات کا پرچار کرتے ہیں تو نظریاتی طور پر اس تحریک کو مضبوط کرنے میں پوری ریاست کی مشترکہ قومی شناخت کیلئے دو طرفہ جھنڈوں میں سے ایک یا فی الوقت کسی نئے جھنڈے کی تخلیق کی بجائے اسی جھنڈے کو قومی شناخت بناےا جائے جو 1947میں قبل از تقسیم پوری ریاست جموں کشمیر و لداخ کی نمائندگی کر رہا تھا ۔ جھنڈے کے اس نئے مدعے پرحقیقی قوم پرست کہلانے والے گروہوں میں ہلچل سی پیدا ہوئی ہے اور مختلف نوعیت کے اعتراضات میں مشترکہ پہلو معاہدہ امرتسر کے ذریعے متحدہ ریاست کا قیام، اس وقت کا شخصی ڈوگرہ شاہی نظام اور ریاست کے حکمران کا ہندو اور ایک مخصوص سماجی گروہ سے منسلک ہونا ہے ۔ ایسے مباحث میں بعض اوقات ایسی شدت دکھائی دیتی ہے کہ جس میں نام نہاد ترقی پسندی، آزادی پسندی، ریاستی وحدت اور قوم پرستی جیسی اسطلاحات اپنے مفہوم سمیت خود شرما جاتی ہیں۔ ریاستوں کے قومی جھنڈے تو قومی شناخت ہوا کرتے ہیں نہ کہ کسی حکمران کی نمائندگی کرتے اہلکار۔ دنیا میں آج بھی بے شمار ترقی یافتہ اور جمہوری ممالک ہیں جنکے جھنڈے سابق کسی بادشاہی یا آمرانہ حکومتوں کے ادوار سے چلے آرہے ہیں۔ مالٹا ( 1091۔1964) ڈنمارک( 1219) ِ آسٹریا(1230 ۔ 1918) ، ہالینڈ(1572) ، نیپال (1743)، فرانس (1794)، برطانیہ(1801)، چلی (1817)، ارجنٹینا(1812، 1818)، پیرو (1822)، تیونس (1831)، ترکی (1793،1844)، جاپان (1870۔ پہلی بار آٹھویں صدی میں استعمال ہوا)، سویٹزرلینڈ (1470، 1889) جنوبی کوریا (1882)، کیوبا (1868، 1902)، اردن (1920)، مراکش (1244۔ 1915) جرمنی (1918)، پولینڈ (1831-1919) اٹلی (1796۔1948) لٹویا (1280، 1921)، روس(1700۔ 1991) اور دیگر ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جس میں سابقہ ادوار کے جھنڈے قائم رہے یا بعض ممالک میں سابقہ ادوار کے جھنڈے مختلف ادوار میں بحال بھی ہوئے ہیں۔ اگر جھنڈے کسی سیاسی و معاشی نظام ہی کی نمائندگی کرتے ہیں تو برطانیہ، جاپان، جرمنی، سویٹزرلینڈ سمیت ایسے بعض ترقی یافتہ اقوام نے آج تک ان کو اپنانے ، بدلنے یا بحال کرنے میں اس ماضی کے سیاسی یا معاشی نظام سے منسلک کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی ؟
جموں کشمیر و لداخ جیسی ریاستوں کی تشکیل و ارتقاءکی تاریخ کا فلسفیانہ تجزیہ تخلیق آدام، ڈارون تھیوری یا غاروں میں رہنے والے انسان سے شروع کرنے کی بجائے اسے انیسویں صدی کے چوتھے عشرے کے دوسرے دورانےہ کے معروضی حالات میں ہی جانچا اور پرکھا جائے کیونکہ یہاں تک تو انسانی شعور معاشی ،سیاسی و سماجی اطوار و اخلاقیات کی کئی سیڑھیاں عبور کر چکا تھا جب یورپ کے فارغ التحصیل طلباء روزگار اورسیاسی تبدیلیوں کیلئے سڑکوں پر موجود تھے ، لندن میں مقیم کارل مارکس کا اشتراکی فلسفہ تحریر کی طرف بڑھ رہا تھا جبکہ اس کے برعکس برصغیر میں برطانےہ کا نو آبادیاتی نظام مضبوط تر ہو رہا تھا۔ ایسے بعض حادثات کسی مہم جوئی میں غیر ارادی اور غیر متوقع طور بھی پیش آجاتے ہیں)ہیگل کا فطرتی وقوع) جنہیں پھر شاطر طاقتوں کی طرف سے اپنے حق میں استعمال کرنے کیلئے معروضات کے مطابق کوئی انجام دے دیا جاتا ہے۔ ریاست جموں کشمیر کی تشکیل ایک ایسا حادثہ ہے جس کے اسباب و محرکات خود کسی اور مہم جوئی کا حصہ تھے جس میں فاتح کی طاقت اور منصوبہ بندی سے زیادہ آغاز سے انجام تک خود مفتوح کی حماقتوں کا دخل ہے جس کے نتائج کو خطے کی سیاسی طاقتوں نے اپنے اپنے حق میں استعمال کیا ہے چاہے وہ سکھ، انگریز یا ڈوگرہ گلاب سنگھ ہی کیوں نہ ہو ۔ سائنسی لیبارٹری میں تجربے کے دوران جیسے غیر متوقع حادثات میں اسپرین ، پنسیلین، کوکا کولا، پلاسٹک، ایکسرے، مائیکرو ویو ، دیا سلائی جیسی انگنت حادثاتی مگر مفید ایجادات ہوئیں، کچھ ایسا ہی انجام1809کے امن معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خود سکھ خالصہ دربار کی طرف سے انگریزوں پر مسلط کی گئی جنگ کے متوقع انجام کے برعکس عبرتناک شکست کیساتھ خالصہ سلطنت کے اختتام سے پہلے خطے میں جغرافیائی تبدیلیوں کا سبب بنا اور ایک نئی ریاست کا ظہور ہوا جسے جموں کشمیر و لداخ یا ڈوگرہ شاہی ریاست سے منسوب کیا جاتا ہے(یوں کہہ لیں کہ اگر وہ جنگ نہ ہوتی تو نہ یہ ریاست ہوتی اور نہ مسئلہ کشمیر اور نہ ہی قوم پرستی کے مغالطے ہوتے)۔ حقیقت تو یہی ہے کہ1846 میں ریاست کے قیام سے پہلے بھی ان تینوں خطوں کے عوام کسی تخیلاتی یا آفاقی نظام سے آراستہ جنت کے مکین ہرگز نہیں تھے جو ان سے چھین لی گئی یا انہیں ناکردہ گناہوں کی سزا میں ایسی جنت سے ہی نکال دیا گیا ہو۔1846کے اس واقعہ کو اسی وقت کے معروضی حالات اور مروجہ دستور کے مطابق دیکھا جائے نا کہ اس کے سو سال اورجنگ عظیم دوم کے بعد ابھرنے والی نئی طاقتوں کے تخلیق کئے گئے سماجی و سیاسی اخلاقیات و اقدار یعنی انسانی وسیاسی حقوق، حق خودارادیت اور جمہوری نظام میں تولتے ہوئے2016میں تقابلی اور فلسفیانہ جائزہ لیا جائے۔ دونوں عالمی جنگوں کے اختتام پر پوری دنیا کو نئی ابھرنے والی فاتح طاقتوں نے ایسے ہی آپس میں بانٹ لیا جیسے ڈکیتوں کا گروہ مال مسروقہ کی تقسیم کرتا ہے۔ اگر کسی کو1846کے معاہدہ امرتسر کے ذریعے متحدہ ریاست جموں کشمیر کی تشکیل پر اعتراض ہے تو پھر وہ اسی ریاست کی بحالی کا دعویٰ کس بنیاد پر کرتا ہے اورایسی جبری ریاست کی وحدت کی بجائے اسے برطانیہ ،چین ،جاپان ، روس ،جرمنی ، پرتگال ، یوگوسلاویہ اورسوےت یونین جیسی سلطنتوں کا انجام کیوں نہیں دینا چاہتے؟ اگر ریاستی جھنڈہ بحیثیت قومی شناخت قبول نہیں تو باشندہ ریاست جیسی قومی شناخت پر کیوں اتراتے ہیں؟ نام نہاد ترقی پسند و خودساختہ انقلابی قوم پرست منقسم 84471 مربع میل کی سرحدوں میں ہی ریاست کو تلاش کرنے کی بجائے چی گویرا کی طرح غیرطبقاتی عالمی سماج کی جدوجہد میں شامل کیوں نہیں ہوتے جو متعدد ممالک میں عملی طور پر جاری ہے (مضبوط سرمایہ دار ممالک ہی میں ہجرت ضروری تو نہیں) ؟ ڈوگرہ حکمران اگر آپکی مذہبی، علاقائی، لسانی یا نسلی قومیت سے مطابقت نہیں رکھتا تو اسکی قومیت کے افراد کیساتھ اس علاقے (جموں) پر حق جتانے کی روش ترک کیوں نہیں کرتے ؟ نام نہادآزادکشمیر کی مشکوک آزادی میں اگر ہر علاقے کی قوم، قومیت اور قبیلوں کے اجداد کی قربانیوں اور ڈھائی اضلاع کے اس اپاہج اقتدار پر قبضے کا ناز بھی ہے تو اسے آزاد ماننے میں کیا امر مانع ہے؟ اگر ریاستی قوم پرستی یہی ہے تویہ پردہ کب سے چاک ہو چکا ہے۔
مذہبی قوم پرستی (دو قومی نظریہ ) کی بنیاد پرتقسیم ہند کی آندھیوں میںریاست جموں کشمیر کی جغرافیائی تقسیم کیساتھ اس کا سارا نظام بھی دھرم بھرم ہو گیا تھا جس میں ریاست کی قومی شناختوں کو بھی معدوم کر دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ متنازعہ و منقسم ریاست کے تمام حصے اپنے ریاستی مرکز کی عدم موجودگی میں سیاسی و نظریاتی طور پر فکری انتشار کا شکار ہو چکے ہیں۔ تاریخ کے ہچکولے نے ایک بار پھر کچھ دھول اڑائی تو اسکے چہرے سے مسخ شدہ نقوش (مشترکہ ریاستی شناخت) تھوڑا ابھرے ہی ہیں کہ گروہی قوم پرستی کے کھونٹے سے بندھے چند نام نہاد ترقی پسند و آزادی پسند اپنی پھٹی ہوئی قباءسے ہی باہر نکلے جا رہے ہیں ، میں زاتی طور پر منقسم ریاست کی ایک مشترکہ قومی شناخت کا حامی ہوں اور1947 تک کے مروجہ ریاستی جھنڈے کو ریاستی وحدت کی علامت اور ریاستی شناخت ماننے میں بھی مجھے اعتراض نہیں ہے تاہم میں ریاست کے دونوں حصوں کے پرچموں کو یکسر رد بھی نہیں کرتا کیونکہ دونوں پرچم دونوں ہی ریاستی حصوں کی منفردخصوصی آئینی و سیاسی حیثیت کا واضح ثبوت بھی ہیں۔ متحدہ ریاست کے سابقہ جھنڈے پرسیاسی و معاشی نظام کے پردے میں مذہبی، علاقائی و قبیلائی تیراندازی کی بجائے اسے باقی ترقی یافتہ دنےا کی طرح کسی فرد یا نظام سے زیادہ کسی ملک و قوم کے اقتدار اعلیٰ، آئینی حیثیت اور وقار کا قومی نشان سمجھا جانا چاہئے۔ منقسم و متنازعہ ریاست کے تینوں ریاستی جھنڈوں میں سے آپ جس بھی پرچم کو اپنی قومی شناخت سمجھیں اسکے تقدس کا بھرم بھی رکھئے کیونکہ جن قوموں میں اپنی قومی شناخت(پرچم) اور قومی وقار کے تقدس کا ادراک اور سلیقہ نہیں وہ تاریخ کے کوڑہ دان میں گم ہو کر بھسم ہوجاتی ہیں جسے کوئی نظریہ، کوئی سیاسی و معاشی نظام یا تاریخی فلسفہ پھر ڈھونڈنے میں ناکام رہتا ہے ۔

شفقت راجہ کالم نگار اور تجزیہ نگار ہیں کشمیر کی تاریخ اور سیاست پر گہری نظر و بصیرت رکھتے ہیں۔
شفقت راجہ کالم نگار اور تجزیہ نگار ہیں کشمیر کی تاریخ اور سیاست پر گہری نظر و بصیرت رکھتے ہیں۔

Author: Shafqat Raja

تبصرہ جات بذریعہ فیس بک

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply