سوال کس سے کریں

یہ بات باعث ندامت ہی نہیں باعث شرم اور ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ 1500میگا واٹ بجلی پیدا کرنے والا آزاد کشمیر صرف تین سو میگا واٹ کی ضرورت بھی نہیں پورا کر سکتا اور اس پر کمال یہ کہ یہی بجلی پندرہ پیسوں میں بیچ کر واپڈا سے ساڑھے پانچ روپے فی یونٹ میں لے رہا ہے ۔ پن بجلی پوری دنیا میں اس وقت سب سے سستا ذریعہ توانائی ہے۔ جو کہ ہمارے پاس موجود ہے۔ آزاد کشمیر میں اس وقت لگ بھگ پینتیس سو میگا واٹ بجلی کے پروجیکٹ چل رہے ہیں جو کہ 2025 تک مکمل ہو جائیں گے یوں آزاد کشمیر لگ بھگ پانچ ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنا شروع کر دے گا جبکہ اس وقت تک بھی آزاد کشمیر کی اپنی ضروریات پورا ہوتا کہیں بھی نظرنہیں آ رہی کیونکہ یہ سارا کام واپڈا کے ہاتھ میں ہے اور پاکستانی حکومت کروا رہی ہے۔ صرف چھوٹے موٹے چند پروجیکٹ ایسے ہیں جو براہ راست آزاد حکومت کے پاس ہیں مگر ان سے ضرورت پورا نہیں ہو سکے گی ان میں سے کچھ پروجیکٹ 2018 تک مکمل ہو جائیں گے۔ لیکن یہ مجموعی ضرورت کو پورا نہیں کر سکیں گے۔

آزادکشمیر میں موجودہ بجلی کی ضرورت کوئی بڑے استعمال یعنی انڈسٹری کے لیے نہیں ہے بلکہ بنیادی ضرورت کے لیے ہے یعنی گھروں میں کچھ بلب روشن کر لینا، ٹی وی ،فریج، پنکھے وغیرہ چلا لینا کیونکہ کہ ستر سال گزرنے کے باوجود بھی آزاد کشمیر میں کوئی بڑی انڈسٹری کا قیام عمل میں نہ آ سکا ۔ بھلا آئے بھی کیسے جب آپ کے پاس صرف بارہ ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ ہو اور اس سے آپ نے نالیوں سے لے کر تمام بڑے روڈ تعمیر کرنے ہوں صحت تعلیم پر استعمال کرنا ہو انفراسٹرکچر کو بہتر بنانا ہو اور پھر کرپشن بھی کرنی ہو تو بارہ ارب روپے کہنے میں ہی بڑے لگتے ہیں ۔ آزاد کشمیر میں کوئی بڑے شہر بھی نہیں ہیں جہاں کی مارکیٹ میں بجلی ہر وقت ضرورت رہتی ہے اور استعمال ہوتی ہے ۔ آزاد کشمیر کے بڑے شہروں میں میرپور، کوٹلی، باغ ، راولا کوٹ اور مظفرآباد ہیں جہاں کوئی بھی بڑی انڈسٹری یا مارکیٹ نہیں ہے یعنی وہاں بھی بجلی صرف روشنی کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ چھوٹی موٹی مارکیٹ کی بجلی اتنی ضرورت بھی نہیں پڑتی اور شام اترتے ہی کاروباری زندگی بھی معطل ہو جاتی ہے جبکہ دور دراز پہاڑی علاقوں میں کچھ تو ایسے بھی ہیں جہاں سرے سے بجلی موجودہی نہیں ہے کچھ علاقوں میں جہاں پانی کی سہولت موجود ہے وہاں لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت اپنے لیے بجلی پیدا کی ہوئی ہے۔

گزشتہ دنوں آزاد کشمیر حکومت کے خلاف ایک انوکھا احتجاد دیکھنے کو ملا جسے آزاد کشمیر میں ہرجگہ عوام نے نہ صرف خوش آمدید کہا بلکہ خوب پزیرائی دی۔ محمود کشمیری جن کا تعلق کوٹلی سے ہے اپنے دو گدھوں اور ایک اونٹ کے ساتھ آزاد کشمیر کے گورنمنٹ کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے کوٹلی سے نکلے ان کی منزل مظفرآبادہے۔ جہاں آزاد کشمیر کی نام نہاد حکومت سالانہ تنخواہیں لے کر حکومت پاکستان کی چاپلوسی کرتی ہے اور فنڈز کا رونا روتی رہتی ہے۔ محمود کشمیر ی کے دیگر مطالبات یعنی تعلیم ، صحت اور انفراسٹرکچر کے ساتھ ساتھ سب سے بڑا مطالبہ بجلی کا تھا کہ ریاست جموں کشمیر کا وہ حصہ جو پاکستان کی دسترس میں ہے اس کی اتنی پیداوار ہونے کے باوجود بھی اپنی ضروریات پوری نہیں ہو رہی ہے۔

یہاں سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ سوال کس سے کیا جائے مارچ مظفرآباد کی طرف کیا جائے یا اسلام آباد کی طرف؟ حقوق کہاں سے غضب ہو رہے ہیں مظفرآباد سے یا اسلام آبا د سے ؟ کیا مظفرآباد تک ایک ہفتہ خرچ کرکے پہنچنے سے مسائل کا حل نکل آئے گا؟ کیا تعلیم ، صحت، روزگار، انفراسٹرکچر اور بجلی کے مسائل حل ہو جائیں گے؟ نہیں ۔۔۔ یقیناًجواب کوئی بھی نہیں میں دے گا اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کو نظر آ رہا ہے مظفرآباد والے اتنے ہی اپاہج جتنے کہ ہم خود ہیں محمود کشمیری کا مقصد ان مسائل کا حل نہیں تھا بلکہ انتظامیہ کے منہ پر تمانچہ مارنا تھا جو نام نہاد آزادکشمیر کا ڈھونگ رچا کر اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں مجبور ہو رہی ہے جو ایک طرف تحریک آزادی کشمیر پر شب خون مار رہی ہے تو دوسری طرف اپنے ہی عوام کا استحصال کر رہی ہے محمود کشمیر ی کا مقصد ان بے حس عوام کو جگانا تھا جو برساہا برس مسلسل تھپڑ لاتیں ، گھونسے اور جوتے کھانے کے بعد پھر پانچ سال بعد ان حکمرانوں کے خلاف کھڑی ہونے کے بجائے ان کو ووٹ دیتی ہے کہ اب تو تبدیلی آئے گی اب تو کچھ نیا ہو گا اب تو حالات بدلیں گے ۔ افسوس نہ حالات بدلے نہ کچھ ہوا نہ تبدیلی آئی ہاں بس چہرے بدلے ، تعلیم مہنگی ہو گئی ، صحت مہنگی ہو گئی ، کھانے پینے اوڑھنے بچھونے کی اشیاء مہنگی ہو گئی ۔ نہ بدلی تو ہماری بے حسی نہ بدلی۔ جن کو ہماری عوام ووٹ دیتی ہے وہ ان کے آگے جوابدہ ہونے کے بجائے جب اسلام آباد کے آگے جواب دہ ہوں گے کیونکہ وہاں سے ان کو حیثٰت اورکرسیاں تفویض کی جاتی ہیں تو یہ مسائل کیسے حل ہوں گے ہو ہی نہیں سکتے۔

آزاد کشمیر کی عوام حکومت پاکستان سے سوال نہیں کر سکتی کیونکہ اگر وہاں سوال کیا جاتا ہے تو جواب آتا ہے کہ آپ ایک متنازعہ خطہ کے باسی ہیں اور ہم صرف آپ کو دفاع کرنسی اور خارجہ مہیا کر رہے ہیں اور کر سکتے ہیں آپ اپنے معاملات اپنی حکومت سے حل کروائیں جب اپنی حکومت کی طرف آنکھ اٹھا اور امید سے دیکھتے ہیں تو جواب آتا ہے کہ ہمارے پاس تو فنڈ ہی نہیں ہیں ۔ ہم کہاں سے آپ کی مدد کریں ؟ ہم ایک ایسی کشتی کے مسافر ہیں جس کی ناؤ نہ تو ڈوب رہی ہے اور نہ ہی ابھررہی ہے اور اس کی ذمہ داری بھی ہم سب پر عائد ہوتی ہے ۔ہماری سیاسی جماعتیں پاکستان سے امپورٹ (درآمد) کی ہوئی ہیں جن کے سیاسی سربراہ پاکستان میں بیٹھے ہوتے ہیں ہمارا سیاسی نظام اس قابل نہیں ہے کہ وہ پارٹی سیاست سے نکل کر قومی سیاست کو اپنا شعار بنائے یوں جو فیصلے لاڑکانہ، رائے ونڈ سے ہوتے ہیں وہی ہمارے لیے حرف آخر ہوتے ہیں کبھی ہمار ے حکمران اپنی کرسی کے لیے ایک کے آگے جھکتے ہیں تو کبھی کسی دوسرے کی منتیں کر رہے ہوتے ہیں ۔ بھلا اس سیاسی رسہ کشی میں عوام کے مسائل اور ان کا حل کہان سے نکلے اور عوام یہ سوچ رہے ہیں کہ وہ کس سے سوال کریں ؟ ان کا جواب کون دے گا؟

آزادکشمیر کے اندر جب تک ایسی حکومت کا قیام عمل میں نہیں آتا جو اندرونی طور پر مکمل خود مختار ہو اور اپنے فیصلے خود کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو اس وقت تک مارچ کرنے سے نعرے لگانے سے میڈیا کی توجہ تو مل سکتی ہے ، سوشل میڈیا پر تشہیر تو ہو سکتی ہے مگر با اختیاری حاصل نہیں ہو سکتی جب ہماری حکومت اسلام آباد کے بجائے ہمارے آگے جوابدہ ہو گی جب ا س کی نظر اسلام آباد پر نہیں ہو گی کہ وہاں کونسی سیاسی جماعت برسر روزگار ہوتی ہے تو یہاں اسی کی شاخ ہو گی اس وقت تک ہم یہی سوچتے رہیں گے کہ ہم کس سے سوال کریں ؟

Author: جواد احمد پارس

جواداحمدپارس کا تعلق پاکستانی زیر انتظام کشمیر سے ہے. آپ اقتصادیات کے طالب علم ہیں شاعر ، افسانہ نگار اور کالم نگار ہیں. کشمیری سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں

تبصرہ جات بذریعہ فیس بک

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply