بیر سٹر سلطان محمود نے پی ٹی آئی کشمیر یوتھ ونگ کی ذیلی اور تمام تنظیمیں توڑ دیں ہیں

اسلام آباد( اپنے نمائندہ سے)آزاد کشمیر کے سابق وزیر اعظم و پی ٹی آئی کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے پی ٹی آئی کشمیر یوتھ ونگ کی ذیلی اور تمام تنظیمیں توڑ دیں ہیں اور اعلان کیا ہے کہ یوتھ ونگ کی از سر نو تنظیم کی جائے گی تاکہ اوپر سے نچلی سطح تک یوتھ ونگ کو متحرک کیا جائے کیونکہ عمران خان کے ویژن کو آگے بڑھانے میں یوتھ ونگ اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔پاکستان میں الیکشن کی آمد آمد ہے اور پاکستان و آزاد کشمیر میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں ہونے والی ہیں ایسے میں پی ٹی آئی کشمیر یوتھ ونگ کو مضبوط کیا جائے گا اور ایک ماہ تک یوتھ کی مرکزی و ذیلی تنظیمیں مکمل کرلی جائیں گی۔ اس بات کا فیصلہ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے آج یہاں پی ٹی آئی کشمیر کے مرکزی سیکریٹیریٹ میں پی ٹی آئی کشمیر یوتھ ونگ کے موجودہ صدر عباس رضا سے مشاورت کے بعد کیا۔ اس موقع پر پی ٹی آئی کشمیر کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات سردار امتیاز خان بھی موجود تھے۔اس سلسلے میں مشاورت شروع کر دی گئی ہے تاکہ جلد از جلد یوتھ ونگ کو متحرک کیا جا سکے۔اس طرح پی ٹی آئی کشمیر کی یوتھ اور ذیلی تمام تنظیموں کی جلد ازسر نو تنظیم نو کی جائے گی۔اسی طرح عنقریب پارٹی کی مرکزی سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی کا اجلاس بلا کر پارٹی کی تنظیم نو کے بارے میں بھی مشاورت کی جائے گی۔
آزاد کشمیر کے سابق وزیر اعظم و پی ٹی آئی کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری 17دسمبر بروز اتوار کو برنالہ میں پی ٹی آئی کشمیر کے ورکرز کنونشن کے موقع پر ایک جلسہ عام سے خطاب کریں گے ۔انکے دورے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ مختلف استقبالی، ٹرانسپورٹ اور انتظامی کمیٹیاں تشکیل دے دی گئی ہیں اور جگہ جگہ استقبالی بینرز، پوسٹرز اور پینا فلیکس آویزاں کر دئیے گئے ہیں۔ برنالہ میں بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی آمد کے سلسلے میں زبردست جو ش خروش پایا جاتا ہے۔ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کااتوار صبح 10:30 پرکدھیالہ میں پہلا استقبال کیا جائے گا۔جبکہ وہ 11:30 پر کوٹ جیمل میں ورکرز کنونشن سے خطاب کریں گے۔ اگرچہ برنالہ کے کارکنوں نے یہ ورکرز کنونشن رکھا ہے لیکن کارکن اتنے متحرک ہیں کہ یہ کنونشن ایک بڑے جلسہ عام کی صورت اختیار کر جائے گا۔***

آزاد کشمیر کے سابق وزیر اعظم و پی ٹی آئی کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا ہے کہ برطانوی پارلیمنٹ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ مسئلہ کشمیر پر سماعت ہوئی اس میں نہ صرف برطانوی ممبران پارلیمنٹ بلکہ مقبوضہ کشمیر کے لوگوں نے بھی بریفنگ دی اور وہاں پر ہونے والے مظالم پر شہادتیں دیں ۔ بھارتی ہائی کمشنر کو بھی اس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی لیکن وہ اس میں شریک نہیں ہوئے اور نہ ہی بھارت کا موقف پیش کیا گیا۔جبکہ پاکستان کے ہائی کمشنرکی بجائے پاکستان کے ڈپٹی ہائی کمشنر نے شرکت کی اور پاکستان کا موقف پیش کیا۔جبکہ مقبوضہ کشمیر سے آسیہ اندرابی کے بھائی معظم خان اور وہاں سے آئے ہوئے دیگر رہنماؤں نے مقبوضہ کشمیر کے عوام کا موقف پیش کیا۔اس موقع پر برطانوی پارلیمنٹ میں ہونے والی سماعت میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم، انسانی حقوق کی پامالی ، خواتین کی عصمت دری اور بالخصوص پیلٹ گن کے استعمال پر احتجاج کیا گیا اور اس سماعت میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ رپورٹ اقوام متحدہ، یورپی یونین اور انسانی حقوق کی علمبردار دیگر اداروں اور تنظیموں کو بھی بھیجی جائے گی
Barrister Sultan Mahmood Chaudhry
& President PTI Kashmir news Former Prime Minister of AJK

تبصرہ جات بذریعہ فیس بک

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply