محکمہ زراعت اور لائیوسٹاک خطہ کی تقدیر بدل سکتا ہے

آزاد کشمیر میں ڈیری پیداوار میں اضافےکے لیے186 ملین کا منصوبہ تاحال منظور نہ ہو سکا
وزیر حکومت چوہدری طارق فاروق بیورو کریسی پر برہم
آزاد کشمیر میں محکمہ لائیو ستاک ایک طاقتور وزیر کے باوجود زبوحالی کا شکار کیوں؟
وزیر اعظم اور سیکرٹری مالیات کیوں آنکھیں دکھانے لگے
چوہدری طارق فاروق سے ازاد کشمیر کے فارمرز کی کئی امیدیں وابستہ کیا فیصلہ کرتے ہیں اگلے ہفتے کی ڈیڈلائن دے دی
مقامی لوگوں کی ضرورت اور اس محکمے کے خدوخال پر ایک تفصیلی رپورٹ وزیر حکومت کے حوالہ
( ایس ایم خالد بیگ سے )آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) نے تاریخ ساز بھاری مینڈیٹ حاصل کر کے حکومت قائم کی ۔ راجہ فاروق حیدر خان کی قیادت میں تشکیل پانے والی حکومت سے عوام کی بڑی توقعات وابستہ تھیں ۔ چونکہ ان منتخب ممبران اسمبلی نے الیکشن کے دوران عوام سے اتنے وعدے کر لیے کہ راجہ جی اگر امریکہ کا بجٹ بھی اس چھوٹے سے خطے میں لے آتے تب بھی ان کے کیے گئے وعدوں کی تکیمل ادھوری ہی رہتی کیوں کہ محدود وسائل میں رہ کر یہ وعدے پورے کر نا کسی انسان کے بس میں نہیں بہرحال ہمیں تو یقین کامل تھا کہ کوئی خاطر خواہ تبدیلی آنے والی نہیں کیوں کہ مالی حالات مستقبل کی نشاندہی کر رہے تھے ۔ ایسے میں ہم اُمید لگا لیں کہ کسی پہاڑ سے کوئی چشمہ نکل پڑے اور سارے خطے کو سیراب کر جائے ، چرند پرند سب کی پیا س بجھ جائے یہ ممکن نہ تھا۔ وزیر اعظم کی طرف سے سب سے پہلے میرٹ کی بحالی ، مختصر کابینہ کی تشکیل یقیناًایک بڑی تبدیلی تھی ، پھر خود سے بہت سے محکمے اور فنڈز پر کٹ لگا کر بجٹ بنانا بھی خوش آئند پہلو تھے اس عمل پر اپنے بیگانے سبھی ناراض بھی ہیں لیکن مجموعی طور پر عوام خوش ہے ہیں۔
آزاد کشمیر ایک زرعی خطہ ہے یہاں کی زمین دُنیا کے ان ممالک کی زمینوں میں شامل ہے جو زراعت کے اعتبار سے انتہائی موزوں ہیں ۔ ہماری زمینوں کی پہلی تہہ تقریبا 6فٹ خالص مٹی پر مبنی ہے جب کہ زرعی اُصولوں کے مطابق 4فٹ تہہ والی زمین کو بھی پیداواری کہا جاتا ہے مگر حکومتی پالیسیوں کے فقدان کے پیش نظر ہماری زرعی زمینیں تیز ی سے بنجر ہو تی جا رہی ہیں ، سہولیات کے فقدان نے کسانوں کو یہ پیشہ چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہے، نتیجتاً وہ زمین جس کی ہریالی دیکھ کر آنکھوں کو ٹھنڈک نصیب ہوتی تھی آج صحرا کا روپ دھار چکی ہے ۔ محکمہ زراعت آزاد کشمیر اور خاص کر زرعی یونیورسٹی کوئی ایک قابل عمل اور ٹھوس لائحہ عمل نہیں اپنا سکی صدر ریاست جو کہ اس زرعی یونیورسٹی کے چانسلر ہیں تحقیقاتی رپورٹ اس ادارے سے لیں اور شائع کریں تاکہ ہمارے نواحی علاقوں کے کسان اس سے مستعفید ہو سکیں اگر آج تک یہ زرعی یونیورسٹی ریاست کے کسانوں کے لیے کوئی پلان یا حکومت کے لیے پالیسی تیار نہیں کر سکی تو اس کا ذمہ دار کون ہے ؟ یونیورسٹیاں صرف ڈگریاں تقسیم نہیں کرتیں بلکے وہ کسی بھی ریاست کے تھین ٹینک کہلاتی ہیں جن کی پالیسیاں کو حکومتیں آن کرتیں مگر ہماری بد قسمتی ہے یہاں گنگا الٹی بہتی ہے۔۔نہ ہی کوئی ایسی حکومتی پالیسی تیار ہو سکی جس کے باعث شعبہ زراعت صحیح معنوں میں ترقی کی پر گامزن ہو سکے ۔ تحقیقاتی عمل پر غور نہ کرنے کی وجہ سے سے محکمہ زراعت اورکسان دونوں تباہی کی طرف جا رہے ہیں ۔ ہمارے زرخیز خطے میں طرز طرز کے فروٹ ، سبزیات ، مکئی ، گندم اور دیگر اجناس کی کاشت کو یقینی بنا کر ملکی ترقی میں بقدر حصہ ڈال سکتے ہیں ۔ اسی طرح محکمہ لائیو سٹاک آزاد کشمیر میں بڑی حد تک گنجائش موجود ہے ۔امور حیوانات کی وزارت جناب چوہدری طارق فاروق کو ملنے پر عوام کو ڈھارس بندھی تھی کہ شاید اب کی بار اس وزارت پر ایک طاقتور وزیر آیا ہے اور وہ گلہ بانی کے فروغ کے لیے پالیساں مرتب کرے گا مگر تا حال یہ خیال محص خیال ہی ثابت ہوا ۔ سابق وزیر سردار اختر ربانی (مرحوم) نے اس محکمہ میں تھوڑی بہت دلچسپی لی تھی جس سے ضلع باغ میں تقریباً 15سے زائد ڈیری فارمز قائم ہوئے ۔ وزیر موصوف نے خود ان فارمز کا دورہ کیا لیکن نئی حکومت نے آتے ہی بلا سود قرضوں کی فراہمی کی پالیسی بند کر دی ۔ نئے فارم نہ بننے سے دودھ اور گوشت کی پیداوار نا پید ہو چکی کمسن بچے ڈبے کی زہر پی رہے ہیں۔؟ گوشت کے لیے جانور بھی پاکستان کی منڈیوں سے آ رہے ہیں بے روز گاری بڑھ رہی ہے۔ہمارے دیہاتی زمینداروں کے پاس بے شمار زمینیں ایسی ہیں جو فصلیں نہ ہونے کے باعث چراگاہوں میں تبدیل ہو چکی ہیں جن کی آباد کاری کے لیے صرف حکومت ہی کردار نبھا سکتی ہے۔ آزاد کشمیر میں بے روزگاری کے خاتمے کے لیے موجودہ حکومت کو اس جانب سوچنا ہو گا۔ پڑھے لکھے نوجوان ڈگریاں اٹھا کر بیرون ریاست بھاگ رہے ہیں ، بیرون ملک جا کر خاک چھان رہے ہیں ،مشقتیں اور مصبیتیں برداشت کر رہے ہیں ۔جناب وزیر اعظم خود بھی بیرون ممالک دیکھ کر آتے ہیں کہ اوورسیز کشمیری کس مشکل میں محنت و مشقت کرتے ہیں ، اپنے گھر اور اہل خانہ سے کوسوں دُور، گھر کی سب سہولتیں ترک کر کے دو دو تین تین سال تک بیرون ممالک میں صحراؤں کی خاک چھانتے پھرتے ہیں ۔ آخر کب تک ہم کشکول لیے دوسروں کے دروازوں پر ہوں گے ؟ ہمارے نوجوانوں کو اگر پنجاب طرز پر محکمہ زراعت اور لائیو سٹاک کی طرف سے سہولیات دی جائیں تو پنجاب کی طرح آزاد کشمیر بھی سبزیوں ، فروٹ ، غذائی اجناس، دودھ ، گوشت میں خود کفیل ہو سکتا ہے ۔ گو کہ ہماری حکومت کے پاس اس قدروسائل نہیں لیکن آزاد کشمیر میں درجنوں پرائیویٹ بینک جو سالانہ آزاد کشمیر سے اربوں روپوں کا منافع کماتے ہیں اور یہاں ایک پیسہ عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ نہیں کرتے ۔ ان بینکوں سے حکومت بِلا سود زرعی قرضہ جات آسان شرائط پر کسانوں کو فراہم کرنے کے لیے معاہدہ کر سکتی ہے ۔ قرضے کے حصول کے طریقہ کار کو بھی آسان اور عام فہم بنانے کی ضرورت ہے تا کہ سادہ لوح لوگ بینکوں کے چکر وں سے بچ سکیں ۔ حکومت کسانوں اور گلہ بانوں کے لیے آسانیاں پیدا کرے تو یہاں سے کوئی بھاگ کر ہوٹلوں میں ویٹر اور بیکریوں میں سیلز مین کی ملازمت کرنے نہ نکلے اور نہ ہی سمندر پار خاک چھان کا متلاشی رہے۔ سمندر پار اپنے گھر میں ڈیری فارم اور بنجز زمینوں کی آباد کاری سے بڑا انقلاب آ سکتا ہے ۔ گزشتہ روز جناب وزیر اعظم کا بیان نظر سے گزرا کہ شہباز شریف نے رقم دی جس سے زرعی شعبے اور لائیو سٹاک میں آسان شرائط پر قرض دیں گے ۔ یقیناًاس پالیسی سے بے روزگار ی میں کمی لائی جا سکتی ہے اور دودھ اور گوشت کی پیداوار میں خود کفالت میسر ہو سکتی ہے ۔ یہاں سے جانور اور دیگر زرعی اجناس پاکستان کی منڈیوں تک لے جائے جا سکتے ہیں مگر اس میں حکومت کی نیک نیتی کے بنیادی عنصر کی شمولیت نا گزیر ہے ۔ حکومت چاہے تو یہ انقلاب صرف دو سال کے مختصر عرصہ میں بر پا ہو سکتا ہے اور ہم ان دونوں چیزوں میں خود کفیل ہو نے کے ساتھ ساتھ بے روزگاری میں خاطر خواہ کمی کر سکتے ہیں ۔ وزیر حکومت اس شعبے میں نئی سکیمیں متعارف کروائیں، محکمہ جدید مشینری، بیجوں ، ادویات اورسائنسی بنیادوں پر کاشت کاری کے بارے میں کسانوں کو آگاہ کرے تو یقیناہم خود کفیل ہو سکتے ہیں ۔ اس ضمن میں صرف اور صرف حکومت کو کردار ادا کرنا ہو گا ۔ اس شعبہ میں بے پناہ ترقی کے مواقع ہیں اور یہ مواقع تبھی کارآمد ثابت ہوں گے جب حکومت نیک نیتی سے دلچسپی لے گی ۔ لوگ کام کرنا چاہتے ہیں مگر غربت نے لوگوں کو گھر بار چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہے ، ان کے پاس زرعی زمین تو ہے مگر سرمایے کی قلت نے اسے بنجر کر دیا ہے ۔ روپیہ پیسہ نہ ہو تو ان شعبہ جات میں صرف پسینہ ہی نکلتا ہے ۔ حکومت اگر کسی طرح ان کسانوں اور گلہ بانوں کے لیے روپے پیسے کا بندوبست کر دے تو یہ اپنے سمیت ریاست کے لیے بہت کچھ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ حکومت آزاد کشمیر انفراسٹرکچر پروگرام کے تحت فی حلقہ سالانہ ایک ارب روپے بھی دے دے تو ترقی کا خواب اُس وقت تک شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتے جب تک ہمیں اپنے ہاتھوں سے محنت نہیں کرتے اور اپنے پاؤں پر کھڑے نہیں ہوتے ۔ جب تک غربت کا خاتمہ نہ ہو ترقی کے خواب ادھورے رہتے ہیں ، گھر میں پیسے ہوں گے تو علاج بھی ممکن ہو گا۔ جدید سائنسی بنیادوں پر محنت کی جائے گی تو تب جا کر قوم اپنے پاؤں پر کھڑی ہو گی۔ اگر ہماری حکومت چاہتی ہے کہ ہم کشکول لیے دوسروں کی دہلیز پر نہ جائیں تو عوام کو بنیادی سطح پر مضبوط کرنا ہو گا۔ ریاست کے تمام افراد کو سرکاری ملازمتیں میسر ہوں ایسا ہر گز ممکن نہیں مگرتجارت، زراعت ، گلہ بانی ، پولٹری فارمنگ جیسے ہزاروں شعبہ جات ہیں جن میں صرف تھوڑی سے توجہ سے کئی افراد کو روزگار مہیا کیا جا سکتا ہے۔ وزیر حکومت چوہدری طارق فارق خود کو خوش قسمت سمجھیں جنھیں اتنی بڑی وزارت دی گئی بس وہ اس طرف توجہ دیں تو تایخ انھیں روشن باب کی طرح یاد رکھے گئی کیونکہ آزاد کشمیر میں ایجوکیشن کی کمی نہیں کمی ہے تو روزگار کی اس کے لیے اس محکمے میں جتنا سکوپ ہے وہ کسی اور میں نہیں ہو سکتا کھیت آباد ہوں گے تو ہسپتال ویران ہوں گے عوام کو خالص اشیاء خوردنوش میسر آئیں گئے بچے ڈبے کا دودھ نہیں بلکے گائے بھینس کا دودھ استعمال کریں گئے اور ایک صحت مند نسل تیار ہو گئی نہیں تو ڈبے کی پیداوار کا مستقبل تاریک ہی نظر آتا ہے اس وقت چوہدری صاحب اور راجہ صاحب پر منصر ہے کہ وہ صحت مند نسل کے لیے حکمت عملی اپناتے ہیں یا دعووں سے کام لیتے ہیں تاحال خیالات نیک لگتے ہیں اللہ پاک انھیں یہ نیک کام کرنے کی توفیق دے

تبصرہ جات بذریعہ فیس بک

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply