مفتی نعیم نے ایسی بات کہہ دی کہ جان کر عمران خان کی خوشی کی انتہا نہیں رہے گی، تحریک انصاف والوں کیلئے بڑی خوشخبری آگئی

شیخ رشید نے عمران خان نا اہلی کیس کا فیصلہ آنے کے بعد عمران خان کو جمائما سے شادی کا مشورہ دیتے ہوئے نئی بحث چھیڑ دی ہے ۔ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ عمران خان نے شادی کرنی ہی ہے تو اگر کوئی مذہبی رکاوٹ موجود نہیں تو عمران خان جمائما سے دوبارہ شادی کر لیں۔ جمائما کی وجہ انہیں نا اہلی کیس میں کلین چٹ مل سکی۔ شیخ رشید کا بیان سامنے آتے ہیسوشل میڈیا سمیت سنجیدہ حلقوں میں عمران خان اور جمائما کی شادی کو لیکر نئی بحث چھڑ چکی ہے مگر سوالیہ ہے کہ کیا مران خان جمائمہ خان سے دوبارہ شادی کرنا چاہیں تو کیا شرعی طور پر وہ ایسا کر سکتے ہیں؟جب نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں یہی سوال پاکستان کے نامور اسلامی سکالر مفتی نعیم سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ”عمران خان نے جو طلاق دی، وہ ایک مرتبہ دی، دو مرتبہ دی یا پھر تین مرتبہ دی، یہ بات تو خود عمران خان ہی بتائیں گے۔ لیکن عام طور پر مغربی ممالک میں جو طلاق دی جاتی ہے تو وہاں’’Divorce‘‘ کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ اور یہ لفظ استعمال کرنے سے ایک طلاق ہوتی ہے اور شرعی اعتبار سے گنجائش ہوتی ہے کہ دوبارہ نکاح کر کے بیوی بنا سکتے ہیں۔ اگر عمران خان نے دو مرتبہ بھی طلاق کا لفظ استعمال کیا تو بھی گنجائش ہے اور اگر تین مرتبہ طلاق دی ہے تو پھر اس میں یہ دیکھنا ہو گا کہ تین طلاقیں ایک ہی مرتبہ کہی ہیں یا الگ الگ کہی ہیں۔ عمران خان نے اگر ایک ہی مرتبہ تین طلاقیں کہی ہیں تو اس میں بھی بعض اماموں نے گنجائش رکھی ہے کہ جمائمہ نکاح کر کے دوبارہ ان کی بیوی بن سکتی ہیں۔“ اس موقع پر پروگرام کی میزبان نے دوبارہ سوال پوچھا کہ ”اگر عمران خان نے زبانی طلاق نہیں کہا اور صرف لکھ کر دیا ہے، چاہے وہ ایک مرتبہ لکھا ہے یا تین مرتبہ تو پھر کیا حیثیت ہو گی ؟“ مفتی نعیم نے جواب دیا کہ” تو پھر یہ دیکھنا ہو گا کہ ایک مرتبہ لکھا ہے، دو مرتبہ لکھا ہے، یا تین مرتبہ لکھا ہے۔“میزبان نے سوال کیا کہ ”اگر بالفرض ایک یا دو طلاقیں دی ہیں تو گنجائش ہیں اور اگر تین طلاقیں دی ہیں تو کیا پھر بھی گنجائش ہے؟ “ مفتی نعیم نے واضح کیا کہ ”تین طلاقیں اگر ایک ساتھ دی ہیں اور الگ الگ نہیں دی تو اس میں بھی بعض آئمہ کہتے ہیں کہ بغیر حلالہ کے ہی ہو جاتا ہے، لیکن اس معاملےمیں عمران خان جب خود اپنا بیان دیں گے اور حقیقت بتائیں تو ہی مسئلے کی اصل نوعیت سامنے آنے پر اس کی تشریح کی جا سکتی ہے ‘‘۔

Author: News Editor

تبصرہ جات بذریعہ فیس بک

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply