یوم یکجہتی کشمیر، کتنی حقیقت کتنا فسانہ

خوبصورت دھرتی پر جب زندگی نے زور پکڑا اور سماج کی ہیت دن بدن بدلنے لگی تب بہت سے مظاہر پھٹے جن میں ریاست بھی ایک مظہر کہ طور سامنے آئی۔انہی ریاستوں کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو ریاست جموں کشمیر کو ھم نظرانداز نہیں کر سکتے۔بلکہ یوں کہیے کہ ریاستوں کی تاریخ میں اس کو خاص اھمیت حاصل ھے۔ خاص کرکہ برصغیر میں ریاست جموں کشمیر باقی ریاستوں کے لیئے ماں کا درجہ رکھتی ہے۔ 1947 میں کشمیر کے بطن سے پیدا ھونے والے دو بچوں نے اس کی شناخت کو کچلنے کی کوشش کی۔ جنھیں آج دنیا پاکستان اور ھندوستان کے نام سے جانتی ھے۔
دونوں ممالک اپنے اپنے طور پر ریاست جموں کشمیر پر قابض ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ریاست کی سفارتی جنگ لڑنے کے دعوئے دار بھی ہیں۔ انہی دعوں میں سے ایک دعوہ سڑکوں پر اتر کر اسلامی جمہوریہ پاکستان پانچ فروری کو کرتا دیکھائی دیتا ہے۔ آئیں تاریخی بنیادوں پر تجزیہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ آیا یہ دعوہ حقیقت ہے یا افسانہ؟
پانچ فروری کشمیریوں سے اظھار یکجہتی کے لئیے حکومت پاکستان کی طرف سے مقرر کردہ دن ھے۔ یہ دن جماعت اسلامی کی تحریک کی بنیاد پر بنایا جاتا ہے۔ پاکستان وہ ملک ھے جو کشمیریوں کا سفارتی و اقتصادی وکیل ہونے کا دعوئے دار ہے۔ مگر حقیقی معنوں میں مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر سب سے زیادہ نقصان پہنچانے والا ہمارا پیارا وکیل ہی ہے۔
5 فروری کومنانے کا اصل مقصد حکومت پاکستان کا کشمیری عوام کو یہ یقین دلانے ہیکہ وہ مسئلہ کشمیر پر کشمیری عوام کے ساتھ کھڑے ھیں۔مگرریاست جموں کشمیر کی سر زمیں اور تاریخ اس بات کی گواہ ھیکہ پاکستان نے آج تک کشمیر کیلئیے تنکا بھر کام بھی نھیں کیا۔ بلکہ حقیقی نظر سے دیکھا جائے تو پاکستان خود بھی متنازعہ خطہ ریاست پر قابض ہے۔ جموں کشمیر کا کچھ حصہ جو پاکستان کے زیر کنٹرول ھے جسے آزاد کشمیر کے نام سے جانا جاتا ھے اس کو اس کے اصل حقوق دینے سے قاصر ھے۔ بلکہ اگریوں کہا جائے کہ کشمیر کو پاکستان نے حق دینے کے بجائے اس کی سرزمیں کو حتل وصہ لوٹنے کی کوشش کی ھے تو یہ غلط نہ ھو گا۔
جدید ریاست جموں کشمیر 16 مارچ 1846 کے بعد بننے والی جاگیردارانہ ریاست اپنے ارتقائی مراحل تہہ کرتی ہوئی عوامی جمہوریہ کشمیر کی طرف بڑھ ہی رہی تھی کہ پاکستان نے ایک سازش کے تحت اسکی تحریک کو غلط رخ دینے کی کوشش کی جسکو باضابطہ طور پر 24اکتوبر کو ریاست میں ایک سیٹ اپ بنا کر ہائی جیک کر دیا گیا۔ ساتھ ہی ساتھ 22اکتوبر کو قبائلی یلغار کے ذریعہ پوری ریاست کو فتح کرنے کا خواب سجایا گیا۔جسکو بنیاد بنا کر بھارت نے ریاست جموں کشمیر پر حملہ کیا اور اسکو اقوام متحدہ میں لے کر چلا گیا۔
24 اکتوبر کی حکومت بنوانے کے وقت بہت سی مراعات بخشی گئیں مگر رفتہ رفتہ پاکستان کی طرف سے شکنجا جکڑ دیا گیا۔ پہلے پہل آزاد کشمیر نامی ریاست سے وزیر خارجہ، وزیر داخلہ اور ٹیکسیشن کا محکمہ چھین کر یکجہتی کا عملی ثبوت دیا گیا، بعد میں 28اپریل 1948کو گلگت بلتستان کا کنٹرول بھی خود سنبھال لیا۔ پھر شملہ معائدہ، تاشقند معائدہ کی صورت میں بازو کاٹ لیے گئے۔ مگر تابوت میں آخری کیل 74 ایکٹ کی صورت ٹھونکی گئی۔ ۔ جنگ بندی لائن کو لائن آف کنٹرول میں بدل دیا گیا۔ اور مسئلہ کشمیر کو سرحدی تنازعہ کہ طور پر عالمی سطح پر پیش کیا گیا۔ اور یوں یکجہتی کی اعلی مثال قائم کردی گئی۔
آج آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی عوام ایک چیف سیکرٹری کے تابع ہیں بلکہ یوں کہیے کہ آزاد کشمیر کہ 49 اسمبلی ممبران پاکستانی وزارت امور کشمیر کہ ماتحت ہے جبکہ گلگت بلتستان کہ سات اضلاع کہ لوگ وزارت امور گلگت بلتستان کہ ماتحت ہیں اور دوںوں مجموعی طور پر ایک سیکرٹری کہ ماتحت۔
اور اختیارات اتنے کہ جو کبھی اپنا کلرک بھی بھرتی نہیں کر سکتے۔ جو کہ سردار قمرالزمان صاحب اپنے ایک انٹرویو میں اقرار کر چکے ہیں بلکہ سردار سکندر حیات صاحب برملا اقرار کر چکے ہیں کہ جے سی او مری کی سیڑھیاں چڑھ چڑھ کر میری ٹانگوں میں درد پیدا ہوچکا ہے۔
یکجھتی کا ایک دن منا لو ، ملک کے سرکاری اداروں میں چھٹی بھی کر لو تو کیا کشمیر آزاد ھو جائے گا؟
چند سوالات جوکہ مزید یکجہتی کہ ڈرامہ کو ننگا کرنے میں مدد گار ثابت ہوسکتے ہیں۔
کیا کشمیریوں کو ان کے حقوق مل پائے ہیں؟؟
پاکستان نے مسئلہ کشمیر پر کیا کام سرانجام دیا؟؟
کیا کشمیریوں کو ان کے اصل حقوق دئیے؟
تعلیم پر کتنا خرچ کیا جاتا ھے؟
زلزلے2005 کے نام پر پوری دنیا سے پیسے مانگ کر لائے گئے تو وہ اربوں ڈالرز کہاں گئے؟؟
ہم پوچھنا چاہتے ہیں حکومت پاکستان سے اور الحاق کے یاروں سے کہ کشمیر پراپرٹی کے ساتھ پاکستان میں کیا سلوک کیا جا رھا ھے؟؟
کیا کشمیر پراپرٹی سے جو آمدن آتی ھے وہ کشمیریوں پر خرچ کی جاتی ھے؟؟
پاکستان کی طرف سے کب اور کس پلیٹ فورم سے کشمیریوں کے لئیے بات کی گئی؟
گلگت بلتستان جو کہ ہر لحاظ اور ہر قانون کے اعتبار سے مسئلہ کشمیر کا حصہ ھے اس کے ساتھ کیا رویہ اختیار کیا گیا؟؟
مسئلہ کشمیر کو مزید الجھانے کے لیئے گلگت بلتستان کو کس بنیاد پر صوبہ بنانے کے وار کیے جارہے ہیں؟ اقصائی چن کو کس قانون کے تحت اور کس کی اجازت سے چین کو دیا گیا؟؟

مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کشمیریوں کو نمائندگی کیوں نہیں دی جاتی؟؟
مسئلہ کشمیر کہ حوالے سے بین القوامی سطح پر کشمیری نمائندگی کس نے ختم کی؟
کشمیر کے خون کے ساتھ سودا کر کہ جنگ بندی لائن کو لائن آف کنٹرول میں کیوں تبدیل کیا گیا؟؟ آخر اس میں کیا حکمت چھپی تھی ؟ کہیں ادھر ھم اؐدھر تم والی حکمت تو نہیں ، ہان یقیننا یہی ہے جو مشرف فارمولہ میں ثابت بھی ہو چکی؟؟
تاشقند اور شملہ معاھدوں میں کشمیریوں کو کتنی نمائندگی دی گئی؟؟ اقوام متحدہ کی طرف سے قرار داد 1948 میں حق حودارادیت کے حوالے سے جو پاس کی گئی تھی اس کو مشروط کیوں قرار دیا گیا؟
1947 میں بیس ھزاز قبائلی کس قانون کے تحت کشمیر میں بھیج کر قبضہ کیا گیا؟
کشمیریوں کو ان کی تاریخ سے دور کیوں رکھا جا رھا ھے؟
مطالعہ کشمیر کو نصاب میں شامل کرنے کےلئیے ہائی کورٹ نے فیصلہ بھی جاری کیا پھر بھی اس کو شامل کیوں نھیں کیا گیا؟؟
5فروری2011 کے 4دن بعد افضل گورو کو سزائے موت دی گئی اس پر کیا اقدامات کیا گئے؟
پاکستان اور ھندوستان نے کس قانون کے تحت اپنی فورسز کشمیر میں کشمیریوں پر مسلط کر رکھی ھیں؟؟
ہم اس نتیجے ہر پہنچ چکے ہیں کہ دوںوں ممالک آپسی سمجھوتے کہ تحت کشمیر پر اپنا تسلط قائم رکھے ہوئے ہیں۔ یکجہتی کشمیر کے نام پر برسوں سے کشمیریوں کو دھوکے میں رکھ کر غلام بنایا جا رھا ھے۔ بس اتنا کہوں گا کہ یکجہتی کا ڈرامہ بند کیا جائے۔ دو کروڑ عوام کی شناخت کا مسئلہ محض سرحدی مسئلہ بنا کر پیش نہیں کیا جاسکتا ہے۔ مسئلہ کشمیر کہ نام پر دوںوں قوتیں اپنی عوام اور متنازعہ خطہ کی عوام کے ساتھ دھوکہ کررہی ہیں۔ جسکو انجام تک پہنچانا دوںوں ممالک کی باشعور عوام کا کردار بھی بنتا ہے۔
جھوٹے اور کھوکھلے نعروں سے اب ھمیں مزید بیوقوف نہیں بنایا جاسکتا ہے۔ ریاست پاکستان اورریاست ھندوستان اپنا کنٹرول ریاست جموں کشمیر سے ختم کرئیں ورنہ وہ وقت دور نہیں جب متنازعہ خطہ کا بچہ بچہ بولے گا کہ اس دھرتی پر حق ھے یہاں کہ رہنے کے والوں کا.

تبصرہ جات بذریعہ فیس بک

اپنا تبصرہ لکھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں