تاریخ ریاست جموں کشمیر و تبت ہا (ثمینہ راجہ جموں کشمیر )

میں بچپن سے سنتی آئی ھوں کہ 1832ء میں مہاراجہ گلاب سنگھ نے منگ کے مقام پر سردار سبز علی خان اور سردار ملھی خان کو ایک درخت کے ساتھ الٹا لٹکا کر انکی زندہ کھالیں ادھیڑ دی تھیں اور پھر اسی پر بس نھیں کیا گیا تھا بلکہ ان کھالوں میں بھوسہ بھر کے انھیں بازار میں لٹکا دیا گیا تھا –

میں نے منگ کے واقعے کی حقیقت پر حتمی رائے قائم کرنے کے لئیے 1819ء سے لے کر 1850ء تک کی تاریخ کا غیر جانبداری کے ساتھ تنقیدی تجزیہ کیا ھے اور نتائج اخذ کرنے کے لئیے معروضی واقعاتی شواھد کے تمام امکانی پہلوؤں کے تسلسل اور زمانی روایات کے پس منظر اور ظاھری وجود کا خاص خیال رکھا ھے –
میں توقع کرتی ھوں کہ میرے اس تحقیقی تجزیئے پر کوئی بھی اعتراض دلیل کے ساتھ کیا جائے گا اور محض اپنی علمی انا اور نظریاتی پس منظر کے خارجی وجود کو زندہ رکھنے کیلئے بحث برائے بحث کے غیر منطقی عمل سے اجتناب کیا جائے گا –

کہا یہ جاتا ھے کی 1832ء میں منگ کے مقام پر مہاراجہ (اس وقت گلاب سنگھ  صرف ایک راجہ تھا) گلاب سنگھ نے پونچھ کے عظیم سپوتوں سردار سبز علی خان اور سردار ملھی خان  (کچھ لوگ تو ان دو ناموں کے ساتھ اور بھی افراد کو شامل کر دیتے ھیں) کو ایک درخت کے ساتھ (واضح رھے کہ جس درخت کو اس تاریخی غلط کاری میں ملوث کیا جاتا ھے وہ درخت برگد کا نھیں بلکہ غالباً کہو کا ھے اور میں یہ فیصلہ ماھرین نباتات پر چھوڑتی ھوں کہ کیا کہو کا کوئی درخت 175 سال سے زیادہ عرصے تک تندرست و توانا رہ سکتا ھے؟ اس درخت کے شاھکار فوٹو آجکل سوشل میڈیا پر دستیاب ھیں) لٹکا کر انکی زندہ کھالیں ادھیڑ دی تھیں اور پھر ان میں بھوسہ بھر کے انھیں بازار میں لٹکا دیا گیا تھا –
کچھ مسلمان مورخین نے اس واقعے کا ذکر کیا ھے اور ثابت کرنے کی کوشش کی هے کہ گلاب سنگھ بڑا ظالم اور فاسق “حکمران” تھا مگر ایسے تاریخ دان یہ بتانے سے قاصر ھیں کہ سردار سبز علی خان اور سردار ملھی خان کو کیوں ایسی کربناک سزا دی گئی تھی اور جو کہانی بیان کی جاتی ھے وہ ذرا سا غیر جانبدارانہ تجزیہ کرنے کے بعد محض ایک افسانہ اور پروپیگنڈے کا ذریعہ معلوم ھوتی ھے –
کسی بھی غیر جانبدار تاریخ دان نے منگ کے اس تاریخی اہمیت کے حامل واقعے کا اپنی کسی کتاب میں ذکر نھیں کیا هے –
یہ کیسا تاریخی واقعہ ھے جو تمام کے تمام غیر جانبدار مصنفین اور محققین تاریخ کی نظروں سے اوجھل اور علم سے پوشیدہ رھا ھے؟
میں نے اس نازک اور حساس مسئلے پر قلم اٹھانے سے پہلے 1819 اور 1850 کے دوران مہاراجہ گلاب سنگھ  کی زندگی کے ھر اک پہلو کا تفصیلی مطالعہ کیا ھے اور اس ضمن میں تاریخ کی بیسیوں کتب کو کھنگالا ھے – مگر مجھے منگ کے اس بیانیہ تاریخی واقعے کا کہیں کوئی سراغ نھیں ملا ھے –
میں پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتی ھوں کہ یا تو ایسا کوئی واقعہ سرے سے ھوا ھی نھیں ھے یا پھر “چڑی سے کاں اور کاں سے ڈار” بنا دیا گیا ھے –
کلکتہ ریویو 1878، روٹس ان ویسٹرن ھمالیہ، ٹین مسٹرز، ٹرائیبز آف ھندوکش 1880، کیمبرج ھسٹری آف انڈیا، تذکرہ الواقعات، تاریخ کشمیر نادری کشمیری، دی میکنگ آف اے فرنٹیئر، تاریخ گلشن کشمیر، وئیر تھری ایمپائیرز میٹ، جیوگرافیکل میگزین، تاریخ راجگان سدھرون، دی جموں اینڈ کشمیر اینڈریو فیڈرک 1875، تاریخ کشتواڑ،  تاریخ ھندوستان پروفیسر تیج سنگھ،  تاریخ اقوام کشمیر 1976 محمد دین فوق، مکمل تاریخ کشمیر 1910، سفرنامہ بیری ھیوگل 1845، سفر نامہ جی ٹی وائن 1842، تاریخ جموں و اہسے ھائے ملحقہ جموں و کشمیر سٹیٹ پنڈت انند کول، تاریخ پنجاب مولوی فیروز دین، ویلی شف کشمیر والےر لارنس، پنجاب ھیسٹاریکل جنرل، روزنامچہ مہاراجہ رنجیت سنگھ  عمدت اتواریخ، تاریخ راجگان جموں و کشمیر،  سفر نامہ ولیم فورڈ 1859، تاریخ راجگان 1907 ظفر الله اور دیگر متعدد کتب جن کا ذکر یہاں ممکن نھیں منگ کے اس تاریخی واقعے سے بالکل نابلد ھیں –
تو پھر اصل حقیقت کیا ھے؟

سردار سبز علی خان اور سردار ملھی خان کے ضمن میں جو سزا مہاراجہ گلاب سنگھ کے کھاتے میں ڈالی جاتی ھے وہ یا اس سے ملتی جلتی ایسی واردات منگ کے اس زماں ومکاں کے علاوہ جموں کشمیر کیا برصغیر میں کہییں نھیں ملتی –
18 اپریل 1801 سے لے کر 30 جون 1857 تک مہاراجہ گلاب سنگھ، راجہ دھیان سنگھ اور مہاراجہ رنجیت سنگھ (وہ تینوں ممکنہ کردار جن کا منگ کے افسانے کے ساتھ کسی طرح سے بھی کوئی تعلق ھو سکتا ھے) نے مشترکہ طور پر جمرود سے لے کر ڈیرہ غازی خان تک اور بھکر سے لے کر تبت تک علاقوں کو اپنی سلطنت میں شامل کیا ھے – اس دوران لاکھوں مخالفین موت کے گھاٹ اتارے گئے، ھزاروں شورشوں کا قلع قمع کیا گیا اور سینکڑوں سرکشوں کو عبرتناک سزا دی گئی – مگر کہیں بھی کسی کی کھال اتارنے کا حکم نھیں دیا گیا –
1819-20 کے عرصے میں گلاب سنگھ کی قیادت میں جموں میں میاں دیدو کی بغاوت، سرکشی اور بھتہ خوری کو کچلنے کے لیے متعدد لوگوں کو عبرتناک سزا دی گئی – اکثر کو ٹکڑوں میں کاٹا گیا – مگر کہیں بھی ھمیں گلاب سنگھ خود یہ مظلم کرتا ھوا نظر نھیں آتا –
دیوان بھوانی داس نے ایک جموال راجپوت کو میاں دیدو کو پناہ دینے کے شبہے میں ٹکڑوں میں کاٹ دیا – جنرل عطار سنگھ کلہول نے میاں دیدو سنگھ کے 90 سالہ والد کو ٹکڑوں میں کاٹ کر اسی کے گھر کی ڈیوڑھی پر لٹکا دیا تھا –  مگر کبھی کسی کی کھال نھیں اتاری گئی –
گلاب سنگھ کے فوجی مزاج کو سمجھنے کی خاطر میاں دیدو سنگھ گلاب سنگھ کے ھاتھوں موت کا ذکر کافی ھو گا –

جب گلاب سنگھ نے میاں دیدو سنگھ کی سرکوبی کا کام شروع کیا تو میاں دیدو روپوش ھو گیا – گلاب سنگھ نے دیدو کا ھر ممکنہ ٹھکانے پر کھوج لگایا – جب  جنرل  عطار سنگھ کلہول نے میاں دیدو کے والد کو کاٹ کر اس کے ٹکڑوں کو ڈیوڑھی پر لٹکایا تو دیدو سنگھ نے تریکوٹی کی چوٹی کے مندر میں پناہ لے لی – گلاب سنگھ نے اس روپوشی کا سراغ لگا لیا اور پہاڑی کا محاصرہ کر لیا مگر مندر کے تقدس کو پامال نہ کیا – اس صورتحال میں دیدو سنگھ نے اپنے بیوی بچوں کو دیوی کے مندر کے پجاریوں کی پناہ میں دیا اور خود مندر سے باھر نکل کر گلاب سنگھ کے لشکر کو للکار کر کہا کہ اگر مرد کے بچے ھو تو میرا میدان میں مقابلہ کرو – اس للکار پر جنرل عطار سنگھ کلہول نے میاں دیدو کو دوبدو مقابلے کا کہا – دونوں جنگجوؤں کے درمیان سخت مقابلہ ھوا مگر بالآخر دیدو سنگھ نے جنرل عطار سنگھ کلہول کو مار دیا –  یہ سارا مقابلہ گلاب سنگھ کی آنکھوں کے سامنے ھوا اور گلاب سنگھ اپنے ایک اھم کمانڈر سے محروم بھی ھو گیا مگر گلاب سنگھ نے دیدو سنگھ کی نہ کھال کھینچی اور نہ ھی ادے کوئی ازیت ناک موت دی بلکہ فوجیوں کو حکم دیا کہ دیدو سنگھ کو گولی مار کر قتل کر دیا جائے –
اس واقعے سے یہ نتیجہ نکلتا ھے کہ گلاب سنگھ اپنے مخالفین اور مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث افراد کو قتل کرنے کے لئے کوئی عبرتناک سزا نہ دیتا تھا –
پھر یہ منگ کا واقعہ پتہ نھیں کیونکر گلاب سنگھ کے کھاتے میں ڈالا جاتا ھے –
پونچھ پر 1596 میں مغلوں نے قبضہ کیا اور راو جودھا کی نسل سے راو سورج سنگھ کے قبیلے کو گورنر بنایا – 1798 تک پونچھ پر سراج الدین راٹھور، راجہ شہباز خان راٹھور،  راجہ عبدالرزاق خان راٹھور،  رستم خان راٹھور اور راجہ بہادر خان راٹھور گورنر  رھے –
1819 میں مغلوں کی حکومت کمزور ھونے کے بعد سکھوں نے پونچھ پر قبضہ کر لیا – اور 1850 تک پونچھ لاھور دربار کے قبضے میں رھا –  لاھور دربار کا حکمران مہاراجہ رنجیت سنگھ تھا اور اس نے پونچھ کی ریاست جاگیر کے طور پر پونچھ پر قبضے کے بعد راجہ دھیان سنگھ کو عطا کر دی تھی اور یہ جاگیر 1843 میں دھیان سنگھ کی وفات تک اس کی کلی اور کامل ملکیت میں رھی ھے ایسے میں نہ جانے 1832 میں پیش آنے والے کسی غیر مصدقہ بیانی واقعے کو گلاب سنگھ کے کھاتے میں کسطرح ڈال دیا جاتا ھے –
گلاب سنگھ نے 1819 میں ملتان کو تسخیر کیا –
1819 میں ھی افغان سرحدی علاقوں میں قبائیلیوں نے بغاوت کر دی تھی اس بغاوت میں یوسفزئی قبائل پیش پیش تھے گلاب سنگھ نے اس شورش کو کچل کر پشاور پر قبضہ کر لیا –  1819 میں ھی کشمیر پر قبضے کے بعد کھکھہ بغاوت شروع ھو گئی تھی جسے گلاب سنگھ نے 1821 میں کچل دیا –
1821 میں گلاب سنگھ نے کشتواڑ پر قبضہ کیا  –
1822 میں راجوری پر قبضہ کیا اور راجہ اجر خان کو گرفتار کر کے لاھور دربار بھیج دیا – گلاب سنگھ نے اس مفتوح راجے کے ساتھ بھی حسن سلوک کیا – (منگ میں اس عمومی طرز عمل کے برعکس گلاب سنگھ کیسے رویہ اختیار کر سکتا تھا) –
1822 میں جدون اور سدوزئی قبائل کو جنگ مانکڑہ کے بعد مطیع بنایا گیا –
1823 میں ایک اور افغان شورش کو انجام تک پہنچایا گیا-

1825میں گلاب سنگھ نے سمراٹھ اور اسکے ملحقہ علاقوں پر قبضہ کیا – اور ایک طرف تو جموں کی مسلسل پھیلتی ھوئی ریاست کے انتظام و انصرام کو انتظامی اعتبار سے مکمل طور پر اپنی آھنی گرفت میں رکھنے کے امور کو یقینی بنایا تو دوسری طرف اپنے دائرہ اقتدار اور ریاست کی سرحدوں کو مزید وسعت دینے کا عمل بھی جاری رکھا – ظاھر ھے اس سارے کام کیلئے مسلسل سیاسی اور جنگی امور کو نمٹانے کا ایک لامتناہی سفر درپیش تھا – گلاب سنگھ نے اس سارے کام کو انتہائی احسن انداز میں پائیہ تکمیل تک پہنچایا – کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے مگر گلاب سنگھ کی مسلسل پھیلتی ھوئی سلطنت اور اس سلطنت کے اندر ایک کامل سیاسی اور انتظامی استحکام اس حقیقت کا آئینہ دار ھے کہ مہاراجہ گلاب سنگھ نے معروضی اور مروجہ سیاسی، فوجی اور انتظامی امور کو بغیر کسی قابل ذکر مزاحمت اور مخالفت کے جاری رکھا ھوا تھا اور یہ سارا عمل عوامی  پشت پناھی کے بغیر ممکن نہ تھا –
اس سارے عرصے میں اور عروج اور استحکام کے اس مثالی سفر میں گلاب سنگھ  کے دامن پر کسی غیر معمولی اور غیر روایتی ظلم و استبداد کا کوئی دھبہ نظر نھیں آتا – گلاب سنگھ بھی وھی کچھ کرتا نظر آتا ھے جو اس دور میں جنگجو حکمران اپنے اقتدار اور سلطنت کو وسعت دینے کے لئیے عمومی طور پر کرتے تھے اور اس سارے عمل اور رویے کو روایتی طور پر عوامی قبولیت حاصل تھی –  ساتھ ھی ساتھ یہ حقیقت بھی پیش نظر رھنی چاھئے کہ اس سارے عرصے میں گلاب سنگھ کوئ مطلق العنان  مقتدر اعلٰی نہ تھا بلکہ بہرصورت وہ لاھور دربار کا ابھی تک ماتحت تھا اور اسکے امور ریاست اور سیاست حتمی طور پر لاھور دربار کی منظوری اور خوشنودی کے مرھون منت تھے – کہنے کا مقصد یہ ھے کہ گلاب سنگھ کے کسی بھی عمل کی شکایت لاھور دربار میں کی جا سکتی تھی – مگر ھمیں اس سارے عرصے میں گلاب سنگھ کے لاکھوں دشمنوں اور مخالفین کی موجودگی کے باوجود کوئی ایسی صورت نظر نھیں آتی جس کا مطلب یہ ھے کہ گلاب سنگھ نے کبھی کوئی غیر معمولی رویہ اختیار نہ کیا –
اس ساری گفتگو کی روشنی میں ھمیں منگ کا بیانیہ واقعہ محض ایک افسانہ اور پروپگنڈہ ھی نظر آتا ھے –
کسی دوسرے کے علاقے میں (یہ حقیقت بیان کی جا چکی ھے کہ پونچھ 1820 سے لے کر 1843 تک دھیان سنگھ کی جاگیر تھی اور اس جاگیر کا سارا انتظام و انصرام خود دھیان سنگھ کے ھاتھوں میں تھا – تو پھر اچانک 1832 میں منگ میں گلاب سنگھ نے کس طرح ایک غیر روایتی طریقے سے لوگوں کو قتل کیا جبکہ اس علاقے اور اس کے امور کے ساتھ گلاب سنگھ کا کوئی تعلق بھی نہ تھا –
1827 تک مہارجہ گلاب سنگھ نے جموں اور کشمیر کے تمام درمیانی علاقے (ماسوائے پونچھ کے – کیونکہ پونچھ لاھور دربار کے وزیراعظم راجہ دھیان سنگھ کی جاگیر اور ملکیت تھی) اپنی سلطنت میں شامل کر لئیے تھے –
گلاب سنگھ کی ریاست اب جموں کے علاوہ ریاسی، کشتواڑ، راجوری، سمراٹھ بدرواہ، پدھر، چنئی، اکھنور، جسروٹہ، بےشولی، مکوٹ، بدھو، سامبا، بھمبھر اور کوٹلی تک پھیل چکی تھی –
1827 میں لاھور دربار نے پٹھان شورش کی سرکوبی کے لئیے گلاب سنگھ کو مامور کیا – گلاب سنگھ نے پٹھانوں کے خلاف ایک منظم اور مربوط جنگی حکمت عملی ترتیب دے کر اس شورش کو کچل دیا – سیدآحمد کے خلاف مانسہرہ کی فیصلہ کن  جنگ کے بعد یوسف زئی پٹھان پہاڑوں میں تتر بتر ھو گئے –
1827 کے بعد 1834 اور پھر 1837 میں پٹھان بغاوت کو گلاب سنگھ نے کچل دیا –
پٹھانوں کے خلاف گلاب سنگھ کی جنگ کئی سالوں پر محیط ھے اور اس جنگ کے دوران گلاب سنگھ نے ھزاروں لوگوں کو قتل کیا – گلاب سنگھ نے نہ صرف میدان جنگ میں دشمن کو مارا بلکہ جب وہ جنگ ھار کر دور دراز پہاڑوں میں روپوش ھو گئے تو گلاب سنگھ نے کہوٹہ کو اپنا ھیڈ کوارٹر بنا کر پہاڑوں میں بھی پٹھانوں کو تلاش کیا اور جہاں جہاں کوئی ملا اسے قتل کر دیا – اس دوران گلاب سنگھ نے ھر یوسفزئی کے سر کے قیمت ایک روپیہ مقرر کی اور عام اعلان کیا کہ جو شخص بھی کسی یوسف زئی کا سر لائے گا اسے ایک روپیہ دیا جائے گا – مگر یہ سارا سلسلہ محض قتل تک ھی محدود رھا اور کسی کی بھی جان عبرتناک  طریقے سے نھیں لی گئی – یہ سارے واقعات عرض کرنے کا مقصد یہ ھے کہ قارئین خود فیصلہ گر سکیں کہ گلاب سنگھ جیسے فوجی جرنیل  کو منگ جیسے واقعے کا ذمہ دار قرار دینا کہاں تک درست ھے –
1830 سے گلاب سنگھ نے اپنے انتہائی معتمد ڈوگرہ جرنیل زورآور سنگھ کو شمالی علاقوں (چلاس، لداخ، نگر، ھنزہ، بلتستان اور گلگت) کو تسخیر کرنے کی ذمہ داری سونپی –
خود گلاب سنگھ نے نواب احمد خان کے بیٹے نواب حافظ احمد کی سرکوبی کا بیڑا اٹھایا – حافظ احمد کی ریاست بارہ قلعوں (حیدرآباد، موجگڑھ، فتح پور، پیپل، دریا خان، خان پور، جھنڈولہ، کلر، دھلے والا، بھکر، ڈنگنا اور چوبارہ) کے حصار میں نہایت محفوظ اور مضبوط ریاست سمجھی جاتی تھی – مگر گلاب سنگھ نے اپنی روایتی ذاھانت اور حکمت عملی کے ساتھ حافظ احمد کو شکست دی اور جب آخری قلعہ فتح ھونے پر حافظ احمد نے ھتھیار پھینک دیے تو گلاب سنگھ نے اس کے ساتھ کوئی زیادتی کرنے کے بجائے اسے ڈیرہ اسماعیل خان کی جاگیر دے کر وھاں بھیج دیا –
ان سارے واقعات کے اجمالی جائزے کے بعد صرف یہی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ھے کہ منگ کے واقعے (اگر کچھ واقعہ ھوا بھی ھے) کا گلاب سنگھ کے ساتھ کوئی تعلق نھیں ھے –
گلاب سنگھ کی لا تعداد جنگی فتوحات اور وسیع و عریض ریاست کی تشکیل کے سارے عمل کے دوران ھمیں کسی مستند تاریخی کتاب میں نہ تو منگ کی طرف کوئی جنگی مہم نظر آتی ھے اور نہ ھی کہیں منگ جیسے کسی واقعے کا کوئی سراغ ملتا ھے –
میں آخر میں اس موضوع کو سمیٹنے کے لئیے گلاب سنگھ کے بڑے ناقدین انگریز مورخین کی اس کے بارے میں رائے کو بیان کروں گی تا کہ قارئین مستفید ھو سکیں –
سر ھنری لارنس جو گلاب سنگھ کو بہت قریب سے جانتا تھا وہ اپنی سوانح عمری
  Life of Sir Henry Lawrence, 3rd Edition   صفحہ 389
پر لکھتا ھے 
I have no doubt that Maharajah Gulab
Singh is a man of indifferent character; but
if we look for perfection from native chiefs we
shall look in vain. Very much but not all that
is said of him might, as far as my experience
goes, be so of any sovereign or chief in India.
He has many virtues that few of them possess
viz., courage, energy and personal purity.
. . . The way in which he has been doubted,
denounced, and vilified in anonymous journals is very disgraceful to us.

کیپٹن کنینگھم جو گلاب سنگھ کے نام سے بھی نفرت کرتا تھ اپنی کتاب
Cunningham; History of the Sitys
کے صفحہ 332 پر لکھتا ھے

In the course of this history there has, more
than once, been occasion to allude to the un-
scrupulous character of Rajah Gulab Singh;
but it must not, therefore, be supposed that he
is a man malevolently evil. He will, indeed,
deceive an enemy and take his life without
hesitation, and in the accumulation of money
he will exercise many oppressions; but he
must be judged with reference to the morality
of his age and race and to the necessities of
his own position. If these allowances be
made, Gulab Singh will be found an able and
moderate man, who does little in idle or
wanton spirit, and .who is not without some
traits both of good humour and of generosity
of temper.

یوں تو لکھنے کو بہت سے حوالے دیئے جا سکتے ھیں مگر میرے خیال میں گلاب سنگھ کی شخصیت کو سمجھنے کے لیے یہ دو حوالے ھی کافی ھیں –
اس ساری گفتگو کے بعد یہ امر ھر قسم کے شک وشبہے سے بالا قرار پاتا ھے کہ گلاب سنگھ امور ریاست کی انجام دھی کے دوران کوئی غیر معمولی اور غیر روایتی ظالمانہ طرز عمل اختیار کرے گا –

image

پس ثابت ھوتا ھے کہ منگ کا واقعہ محض گلاب سنگھ کو بدنام کرنے کے لیے اور مسلمان اور ھندو کے درمیان موجود خلیج کو مزید وسیع کرنے کی خاطر ایک سازش کے تحت گھڑا گیا ھے –
تاریخ گلاب سنگھ کے کھاتے میں ایسا کوئی وقوعہ نھیں ڈالتی –
اب فیصلہ قارئین پر چھوڑتی
ھوں

Author: Naseer Chohan

تبصرہ جات بذریعہ فیس بک

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply