یاسرخواجہ کا قتل اور انکویزیشن

جواداحمد پارس
آج مجرم یا جرم کی بحث نہیں کروں گا۔ کر بھی نہیں سکتا نہ تو میرے پاس ثبوت ہیں اور نہ ہی گواہ مگر گزشتہ دنوں فاروڈ کہوٹہ حویلی میں ہونے والے قتل کے لرزہ خیز واقعہ نے نہ صرف مجھے ایک مرتبہ پھر سے تاریخ کے اس مجرمانہ انصاف کی یاداشت دلا دی جو بارہویں صدی میں انکویزیشن کے بدنام زمانہ عدالتی نظام سے شروع ہوا تھا بلکہ مجھے یہ ادراک بھی ہوا کہ موجودہ دور کا انسان اس سے کہیں زیادہ ظالم ہے۔ انکویزیشن کا نظام بارہویں صدی میں فرانس میں شروع ہوا اور بعد میں صلیبی جنگوں کے اختتام تک چلتا رہا ۔ یہ دراصل کلیسا کا عدالتی نظام تھا جس کے ذریعے لاکھوں بے گناہ لوگوں کو سرعام سزائیں دی گئیں جس میں ان کے جسمانی اعضاء کاٹنا، مشینوں مین دال کر انہیں موت کی سزا دینا ، اورزندہ جلانے جیسی دردناک سزائیں دی گئیں۔ یہاں میرا مقصود انکویزیشن کو تاریخ کے کھنڈروں سے کھود کر اس کو تاریخ کو قارئین کے سامنے لا کر ان کے صبر کا امتحان لینا نہیں ہے بلکہ یہ کہنا ہے کہ انکویزیشن کہ وہ پادری آج ہمارے ہاں موجود ہیں۔ مگر یہ قتل انکویزیشن کو بھی مات دیتا ہے
بات صرف قتل کی ہی نہیں ہے بلکہ اس درندگی کی بھی ہے جو آٹھ دن تک ایک جیتا جاگتا انسان اپنے جسم پر سہتا رہا ہے۔ محسوس کریں کہ ایک مرد کے مردانہ حصوں کو پہلے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور پھر انہیں کاٹ کر الگ کر دیا جاتا ہے اس کے جسم پر سلاخیں گرم کر کے لگائیں جاتی ہیں اس کے سر میں سوراخ کیے جاتے ہیں اس کے جسم کے اعضاء کاٹ کر الگ کر دیے جاتے ہیں ۔ مگر کہیں زمین نہیں کانپتی ۔ مقتول یاسر کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔
اکتیس مارچ کی شب کو اس کے موبائل پر ایک فون کال آتی ہے وہ گھر میں کسی کو بتائے گھر سے جاتا ہے اور واپس نہیں آتا ۔ رات گزر جاتی ہے ایک ماں کے لیے یہ رات کتنی کربناک ہو سکتی ہے اس کا اندازہ ایک ماں ہی لگا سکتی ہے ۔ پانچ سو گھروں پر مشتمل یہ بستی ہے ۔ محلے کی مسجد سے اگر اذان دی جائے تو ہر گھر کے کونے کونے میں جائے گی۔ صبح ماں باپ اپنے بیٹے کو تلاش کرتے ہیں جو ان کے بڑھاپے کا سہارا بننے والا ہے مگر وہ کہیں نہیں ملتا تھک ہار کر پولیس سے رابطہ کرتے ہیں پولیس خانہ پری کر کے ایس سی او کو خط لکھتی ہے کہ گاؤں کا ایک شخص غائب ہے اس کا موبائل ڈیٹا مہیا کیا جائے ہونا تو یہ چاہیے کہ اگلے چند گھنٹوں میں یا جتنا جلدی ممکن ہوسکے یہ ڈیٹا پولیس کو فراہم کر دیا جائے تاکہ پولیس تفتیش کا آغاز کر سکے مگر یہ ایک تین یا پانچ گھنٹے پانچ دنوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ آزاد کشمیر کے ایک دیہاتی علاقے میں جہاں زندگی کی بنیادی سہولیات تو میسر ہیں ہی نہیں وہیں اوپر سے ایک مردہ نیٹ ورک جس کو پاکستان کی فوج چلا رہی ہے وبال جان بنا ہوا ہے دیگر کسی ادارے کو اس طرف جانے کی اجازت بھی نہیں ہے پانچ دنوں بعد ایس سی او صرف ایک نمبر دیتی ہے کہ اس نمبر سے کال وصول ہوئی ہے مگر اتنی دیر میں درندے اپنا کام کر چکے ہوتے ہیں ۔ فون نمبر سے ٹریکنگ کی جاتی ہے مگر اگلے دن یاسر کی نعش ایک نالے سے ملتی ہے ۔ نعش کی حالت یہ ہے کہ پہچانی نہیں جاتی ۔ جسمانی اعضاء الگ الگ ہیں۔ مردانہ اعضاء غائب ہیں۔ یہ سب ایک انسان کے ساتھ ہوتا رہا زمیں نہیں کانپی آسمان نہیں لرزا کوئی قیامت نہیں آئی۔
نو دن بعد کال ٹریک ہوتی ہے اب پولیس کچھ لوگوں کو گرفتار کرتی ہے مگر یہاں سیاست داخل ہو جاتی ہے متعلقہ حلقے کے ایم ایل اے صاحب ایک طرف ہیں ، یہاں جنگ برادری ازم کی شروع ہو جاتی ہے۔ یہاں انسان یا انسانی حقوق کی جنگ ختم ہو جاتی ہے ۔ یہ ظلم و جبر کے خلاف بڑی بڑی تقریرریں کرنے والے اسی ظلم و جبر کے طرفدار اور پردہ ڈالنے والے بن جاتے ہیں۔ یہاں انصاف کے رکھوالے انصاف کو اپنے پلو میں باندھ کر لمبی نیند سو جاتے ہیں۔ یہاں مظلوم کو دیئیت کے نام پر چند سکے پکڑا کر یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ مقتول کی زندگی کی اتنی تھی۔ یہاں مذہب کی آ ڑ میں مظلوم کو چپ کرا دیا جاتا ہے مگر وہی مذہب ظالم کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ یہاں کا ہر شخص انکویزیشن کا پادری ہے اور ہر شخص درندہ صفت ہے جس کا انسان یا انسانیت سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔
یاسر خواجہ مجرم تھا یا نہیں تھا، اگر تھا تو تھا اگر نہیں تھا تو بھی مجھے یقین ہے مجرم ثابت کیا جائے گا قاتل کچھ عرصہ بعد دندناتے پھریں گے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں ہمارے نظام انصاف پر ایک بار پھر زور کا تھپر پڑے گا مگر قیامت نہیں آئے گی۔ کیونکہ یہ سماج ازل سے ظالم کا ہے یہ ابد تک ظالم کا طرفدار رہے گا۔
میرا انسانی حقوق کی تنظیموں ، انصاف کی علمبرداروں، سماجی کارکنوں سے مطالبہ ہے کہ اس معاملے پر بھر پور آواز اٹھائی جائے اور ظالم کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کر کے جرم کے برابر سزا دی جائے وگرنہ کل کو اور بھی یاسر مریں گے۔ اور بھی قتل ہوں گے اور بھی زیادتیاں ہوں گی، اور بھی اعضاء کٹیں گے۔ آپ کی میری اور ہم سب کی نسلیں اسی ظلم کا شکار ہوں گی۔
قتیل اس سا منافق دنیا میں نہیں کوئی
جو ظلم تو سہتا ہے بغاوت نہیں کرتا
خدا راہ اس ظالم انکویزیشن کے نظام سے اس قوم کو پناہ دیجیے

Author: جواد احمد پارس

جواداحمدپارس کا تعلق پاکستانی زیر انتظام کشمیر سے ہے. آپ اقتصادیات کے طالب علم ہیں شاعر ، افسانہ نگار اور کالم نگار ہیں. کشمیری سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں

تبصرہ جات بذریعہ فیس بک

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply