نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے اے حویلی والو۔۔

نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے اے حویلی والو۔۔
تمہاری داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں!
بے شک آپ دنیا کے کسی بھی کونے میں ہوں، وہ جگہ جہاں سے آپ کا خمیر اٹھا ہو، جہاں آپ کے کچھ سال گزرے ہوں اس کے ساتھ ایک دلی لگاؤ ہمیشہ رہتا ہے ، اور یہ فطرتِ انسانی ہے۔ وہاں پہ ہونے والے اچھے کام آپ کو خوشیوں میں اضافہ کا سبب اور برے تکلیف کا سبب بنتے ہیں۔ کچھ لوگ وقت کے ساتھ بھول جاتے ہیں اور کسی کو کچھ کرنے کی مہمیز ملتی ہے۔
بچپن کے واقعات کی طرف نظر دوڑاتا ہوں تو ایک واقعہ بہت یاد آتا ہے۔ مرحوم ممتاز راٹھور بخیثیت وزیرِاعظم اپنی مادرِ عملی ہائیر سیکنڈری سکول سولی گئے تو پہلے پیغام بھیجا کہ اساتذہ میں سے کوئی بھی استقبال کرنے باہر نہیں آئے گا۔ سکول پہنچنے پہ سب سٹاف کے لوگ سٹاف روم میں تھے، عابد بخاری صاحب صدرِ معلم تھےان کو ان کے کرسی پہ جا کے ملے اور خود سٹاف کے ساتھ بیٹھے۔سب کے لئے انتہائی فخر کا وقت تھا کہ اس سکول سے پڑھ کے جانے والا آج ریاست کا وزیرِاعظم بھی ہے اور انسٹیٹیو شن کا وہی احترام بھی جو زمانہ طالب علمی میں تھا۔ یہ اس دور کی بات ہے جب استاد ماشٹر نہیں کہلاتے تھے استاد جی کہا جاتا تھا۔
تعلیم، باہمی عزت و احترام، ادبی ماحول، بہترین معاشرتی روایات یہ سب وہاں کی پہچان ہوتا تھا۔ جو کوئی بھی حویلی کے باہر سے وہاں گیا، اس کو حویلی سے واپسی پہ دکھ ضرور ہوتا تھا۔ اس سب کا کریڈٹ ایک عام فرد سے لے کے اس وقت کی سیاسی قیادت کو بھی جاتا ہے ،وہ مرحوم ممتاز راٹھور ہوں یا عبدالعزیز صاحب۔ دونوں نے انسٹیٹیوشنزاور اچھی روایات کے تقدس کا خیال رکھا۔ پھر حویلی سے نکلنے والے لوگ کسی نہ کسی شکل میں حویلی سے تعلق رکھے ہوئے تھے۔ ان کا آنا جانا، خوشی غمی میں شراکت، اہم سماجی معاملات میں شرکت یہ سب بہت ضروری سمجھا جاتا تھا۔
پھر ایک ایسی ہوا چلی کہ استاد ماشٹر بن کے پروٹوکول کی گاڑیوں کے آگے پیچھے دوڑتے بھی دیکھے گئے۔ واقفانِ حال نے ایک چپڑاسی کے آگے بھی ہاتھ باندھے بڑے پڑھے لکھے استادوں کو بھی دیکھا۔ تعلیمی بورڈ میرپور سے سالہاسال فیل ہونے والوں کو بھی اوپن یونیورسٹی کی جعلی ڈگریوں کے ساتھ منسبِ استاد پہ فائز ہوتے دیکھا، اپنا نام تک خود نہ لکھ سکنے والے لوگوں کوتعلیم دینے کے لئے میدان میں اترے۔ اور معاشرہ بڑی تیزی کے ساتھ رو بہ زوال ہونا شروع ہوگیا۔
اسی کے ساتھ ایک برین ڈرین(اچھے دماغوں کی نقل مکانی) کا سلسلہ بھی چل نکلا۔ جو اچھے دماغ تھے وہ آہستہ آہستہ وہاں سے بسلسلہ روزگار یا بچوں کی اچھی تعلیم(جو کبھی ہماری پہچان تھی) کے لئے ہجرت کرنے پہ مجبور ہو گئے اور شہروں کی تیز زندگی نے انہیں شہروں تک ہی محدود کر دیااور مصروفیت نے سماجی معاملات سے لاتعلق کر دیا۔بہت سے کہنہ مشق اور دردِ دل رکھنے والے بزرگوں کی وفات یا معاشرتی معاملات سے دل برداشتہ ہو کے لاتعلق ہونے کو بھی میں برین ڈرین کی ہی ایک قسم کہوں گا۔
ایسے میں مقامی سطح پہ ایک خود رو جھاڑیوں کی طرح ایک سطحی قیادت بھی ہر گھر کی سطح پہ نمودار ہونا شروع ہو گئی، جن کے پاس نہ تعلیم تھی، نہ تجربہ اور نہ باقی دنیا کا کوئی ایکسپویژر۔ انہوں نے بڑی چالاکی کے ساتھ کچھ شارٹ کٹس تلاش کئے، جس میں سب سے اہم یہ تھی کہ حویلی ضلع بن چکا تھا اور کچھ ریاستی مشنری کے پرزے شراب وکباب کے رسیاتھے اور کچھ اپنے آپ کو سیکنڈ لائن لیڈر کہلانے والے بھی اس بیماری کا شکار۔ کچھ راشی اور کچھ دیگر ایسی خباثتوں کا شکار۔ اس نئی نویلی قیادت نے اس سب کو یہ سہولیات بہم پہنچا کےاور اپنی چرپ زبانی کا خوب استعمال کرکے اپنے تعلقات کا دائرہ بڑا وسیع کر لیااور ظاہر ہے اس کے بدلہ میں کچھ لے دو کی پالیسی کے تحت مفادات کا حصول بھی ہوا۔اور لوگوں کو بھی یہ احساس دلایا گیا کہ ہمارے ساتھ چلنے میں ہی بقاء ہے اور ایسے کچھ لوگوں کو اکٹھا کر کے پریشر گروپس ٹائپ کی ایجادات بھی ہوئیں۔
قیادت کا فقدان بھی اس سب مسائل کی آبیاری میں بہت اہم رہا۔ اعلی قیادت، قیادت کی بنیادی تعریف پہ پورا اترنے سے بھی قاصر رہی۔ مرحوم ممتازراٹھور کی وفات، چوہدری عبدالعزیز کا حویلی کی سیاست سے کنارہ کشی نے ایک بہت بڑا قیادت کا خلا پیدا کر دیا۔ وہ خلا اتنا بڑا تھا کہ اس کو پر کرنے کے لئے درجن بھر نئے قائد ابھر آئے۔ ہر کسی نے اپنا راگ الاپنا شروع کر دیا۔ ہر خاندان کو اپنے مفادات کے تخفظ کی ضرورت تھی سو ادھر بھی کچھ نسبتا تیز دماغ لوگوں نے اپنے آپ کو کسی نہ کسی طرح برادری کا قائد ڈکلئیر کروا کا اپنی برادری کو ایک پریشر گروپ کے طور پہ استعمال کر کے ذاتی مفادات کی دوڑ میں حصہ لینا شروع کر دیا۔ اپنی برادری کے ساتھ کیا ہوا یہ الگ درد ناک داستان ہے۔ ہاں شادی بیاہ، جنازہ پہ یا ایسی تقریبات جہاں چار آدمی دستیاب ہوں اس تک بہت دوڑ دھوپ کی۔ لیکن جو اصل مسائل تھے ان پہ شائد ایک ادھ دہائی بعد کوئی کوشش ہوئی ہو لیکن سنجیدہ کوشش کم از کم میری نظر سے نہ گزری۔ اس کا مزید ذکر تجاویز میں آئے گا۔
اور پھر یوں ہوا کہ ہر باعزت آدمی کو اپنا دامن پسار کے وقت گزاری پہ مجبور ہونا پڑا اور انخطاطِ معاشرہ کا لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا جس کہ کچھ اثرات تو آنا شروع ہو چکے ہیں اور مزید لمبا سلسلہ ابھی قسطوں کی صورت آئے گا۔
یہ توتھاکچھ ان مسائل کا ذکر جو میری نظر میں پیدا ہوئے، اب آتے ہیں ان کے تدارک اور تجاویز کی طرف۔
1- پہلی تجویز یہ ہے کہ یہ جو کچھ ہو رہا ہے اس کو اسی طرح چلنے دیا جائے اور سوشل میڈیا پہ بس رولا رپا کی حد تک طنز و تشنیح کے نشتر برسائے جاتے رہیں۔ اور اخباری بیانات یا ماہانہ کالم لکھ کے رو پیٹ لیا جائے۔ ہر واقعہ کی مذمت کر کے اپنے اپنے کاموں کی طرف توجہ دی جائے۔
2- دوسری تجویز یہ ہے کہ سب پڑھے لکھے لوگ اپنے سیاسی نمائندوں اور ان کی سیکنڈ لائن سے پہلے اپنی اپنی برادری کی سطح پہ ان سے سوال پوچھیں کی انہوں نے برادر ی کے لئے کون سے کار ہائے نمایاں انجام دئیے ہیں۔ کیا وہ واقعی تسلی بخش ہیں۔ اگر نہیں تو کیوں اگر ہاں تو ذیلی تفصیلات کے ساتھ بتائیں۔
3- برادری ازم کو ختم کرنا میری سمجھ کے مطابق بہت لمبی اور صبرآزما جدوجہد ہے،جو ہم شائد اتنی مستقل مزاجی سے نہ کر سکیں جس کی ضرورت ہے۔ لیکن یہ ازم اتنا برا بھی نہیں کہ جان ہی چھڑائی جائے، ارتقائی مراحل خود فیصلہ کریں گے اس کے زندگی کا۔ اس کو ارتقاء کے حوالہ کر کےہم اس کی برائیوں کو ختم کرنے کی کوشش کریں اور اس کی خوبیوں سے استفادہ کریں۔ اس ضمن میں ذیلی تجویز یہ ہے کہ تمام برادریوں کی ایک ایجوکیشنل فاونڈیشن پہلے سے بنی ہوئی جو کہ زیادہ تر سیاسی مقاصد کے لئے ہی استعمال ہوتی رہی ہے۔ اس کو سیاست سے مکمل الگ کیا جائے، اور صحیح معنوں میں تعلیمی سرگرمیاں شروع کی جائیں۔ اس فاونڈیشن کے لوگ پہلے اپنے سیاسی رہنماؤں اور دیگر مقامی لیڈران سے سوال پوچھیں کہ انہوں نے آج تک اس کے لئے کیا کیا؟ اپنے بچوں کی تعلیم کے لئے کتنی سنجیدہ کوششیں کیں، یقین مانیں بہت سے چہرے ادھر ہی بے نقاب ہو جائیں گے۔ کیا ان کو پتہ ہے کہ ان کی برادری کے اندر پڑھے لکھے کتنے ہیں؟ سکلڈ لوگ کتنے ہیں، کس کس فیلڈ کے ماہر ہیں، ان پڑھ کتنے ہیں جو مزدوری کر سکتے ہیں وہ کتنے ہیں۔ جو لوگ پڑھنا چاہتے ہیں لیکن وسائل کی کمی کی وجہ سے نہیں پڑھ سکتے ان کے لئے کیا پلاننگ ہے۔ روزگار کے مواقع کدھر ہیں اور ان تک ان کی رسائی کیا ہے؟ کیا وہ کیرئیر پلاننگ کی بنیادی معلومات بھی رکھتے ہیں یا نہیں؟ یہاں سے بھی اصل چہرے سامنے آ جائیں گے کہ وہ جس برادری کا ڈھول سالوں سے بجا رہے ہیں اس کے لئے اصلا کتنے مخلص ہیں۔
جب ان سب کے جوابات مل جائیں تو جوان اور پڑھے لکھے لوگ ان باڈیز کو ری ایکٹیویٹ کریں۔ اور تمام برادریوں کی ایجوکیشنل فاونڈیشنز کے سالانہ اجلاس ایک جگہ پہ مشترکہ طور پہ ہوں۔ جس میں سب لوگ اپنی اپنی سالانہ پراگرس کو شئیر کریں۔ اس سے ایک تو بہترین مثبت مقابلہ کی فضا پیدا ہو گی اور دوسرا تعلیمی رجحانات میں خود بخود اضافہ شروع ہو جائے گا۔
اس کے علاوہ کتاب اور کتاب دوستی کے مختف مشترکہ ایونٹس، روزگار اور کیرئیر پلاننگ کی مشترکہ ورکشاپش، ایکسپیرینس شئیرنگ کے لئے رابطہ کاری کے علاوہ بھی بہت کچھ کیا جا سکتا ہے۔ ان سب سے باہمی پیار و محبت کے علاوہ بہت کچھ حاصل ہو گا۔ ایسے ہی ہم ایک مکمل منفی ذہنیت والے معاشرہ کو اور برادری ازم کے برے پہلووں کو ختم کر کے ایک بہترین تخلیقی انسٹیٹیوشن بنا سکتے ہیں۔
میرے ذہن میں فی الوقت یہی تجاویز ہیں۔ اگر اس کے علاوہ بھی کسی کے ذہن میں کچھ ہو توبرائے مہربانی شئیر کریں۔ تاکہ جہالت کی اس عفریت پہ قابو پایا جا سکے، بصورت دیگر اپنے آپ کو تیار رکھیں کہ کل کو آپ کو بھی کسی جگہ پہ ذبح کر دیا جائے۔حویلی کے ہر خاص و عام پہ اب یہ فرض ہو چکا ہے کہ وہ معاشرہ کی بہتری میں جتنی کوشش کر سکتا ہے وہ کرے۔ اور اس سب کو آرگنائز کر کے ایک ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے کیا جائے۔ ہر مسئلے کا حل انسان ہی کرتے ہیں بشرطیکہ ہم انسان بن جائیں۔
نوٹ:
برائے مہربانی اس پوسٹ میں حویلی ہے ہر پڑھے لکھے کو ضرور ٹیگ کریں۔ یہ پہلی اور آخری پوسٹ ہے جس میں ٹیگ کے لئے میں خود ریکوسٹ کررہا ہوں

تبصرہ جات بذریعہ فیس بک

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply