عارف شاہد شہید ۔ایک تحریک ۔ ایک نظریہ ۔ثمینہ راجہ ۔ جموں و کشمیر ۔

شہید عارف شاہد 1952 میں پاکستانی مقبوضہ جموں و کشمیر میں راولاکوٹ کے نزدیک ایک گاؤں کوئیاں میں ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے – آپ کی والدہ مخمل جان ایک گھریلو خاتون تھیں جبکہ آپ کے والد حاجی محمد یعقوب زمینداری کے پیشے سے وابستہ تھے – آپ چھ بھائیوں اور ایک بہن میں سب سے بڑے تھے – آپ نے ابتدائی تعلیم قریبی قصبے کھائیگلہ کے سکول سے حاصل کی اور میٹرک کا امتحان راولاکوٹ سے پاس کیا –
اس کے بعد آپ روزگار کی تلاش میں کراچی چلے گئے جہاں آپ نے نوکری کے ساتھ حصول علم کا کام بھی جاری رکھا –
1972 میں آپ کراچی سے سعودی عرب منتقل ھو گئے –
شہید عارف شاہد نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز 1981 میں لبریشن فرنٹ کے پلیٹ فارم سے کیا – اور سعودی عرب میں رہ کر مادر وطن کی آزادی کی تحریک میں اپنا فعال کردار ادا کرنے کی کوشش کی – سعودی عرب میں اپنے قیام کے دوران آپ نے ریاست جموں و کشمیر کی قومی آزادی کی تحریک کے ساتھ اپنی وابستگی کو پروان چڑہایا اور سعودی عرب میں مقیم کشمیری کمیونٹی کے اندر تحریک کو منظم کرنے میں ایک اہم کردار ادا کیا –
مگر لبریشن فرنٹ نے 1990 کی دہائی میں بھارتی مقبوضہ کشمیر کے اندر جو تحریک شروع کی آپ اس سے مطمئن نہیں تھے – آپ قائد کشمیر حضرت مقبول بٹ کے اس سیاسی فلسفے کے قائل تھے کہ ریاستی عوام کو اپنے اپنے خطوں میں رہ کر اپنی مقامی قابض قوتوں کے خلاف ایک مربوط اور منظم جدوجہد کو تشکیل دینا چاہئیے –
آپ سمجھتے تھے کہ ریاست کے منقسم حصوں میں مقامی سطح پر تحریک کو فعال بنا کر اسے باہمی ربط کے ذریعے منظم کر کے ہی ریاست کے اندر قابض قوتوں کے خلاف کوئی قابل  ذکر سیاسی تحریک تشکیل دی جا سکتی ہے – آپ سیاست میں تشدد اور انتہا پسندی کے خلاف تھے اور کسی ایک  قابض قوت کے ساتھ مل کر کسی دوسری قابض قوت کے خلاف کام کرنے کو ریاست کی آزادی کے لئیے زہر قاتل سمجھتے تھے –
آپ پرامن اور جمہوری سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتے تھے – چنانچہ آپ نے لبریشن فرنٹ کی پالیسیوں سے اختلاف کرتے ہوئے اسے خیر باد کہہ دیا اور 1998 میں سعودی عرب سے واپس آ کر ریاست جموں و کشمیر کی قومی آزادی اور خودمختاری کی تحریک کو سیاسی بنیادوں پر مستحکم کرنے کے لئیے 28 مئی 1998 کو نیشنل ریپبلکن پارٹی متحدہ ریاستہائے کشمیر کے نام سے اپنی سیاسی جماعت قائم کی – اور اس نئی سیاسی جماعت کے مرکزی چئیرمین منتخب ہوئے –

عارف شاھد سمجھتے تھے کہ منقسم جموں و کشمیر کو دوبارہ یکجا کرنے کے لئیے بلا لحاظ رنگ و نسل اور ذات و عقیدہ ریاست جموں و کشمیر کے تمام عوام کو مل کر قومی آزادی کے حصول کے لئیے جدوجہد کرنی ھو گی – اس عظیم قومی مقصد کو حاصل کرنے کے لئیے عارف شاھد نے پاکستانی مقبوضہ جموں کشمیر اور گلگت بلتستان کی قوم پرست سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے کے پرخطر کام پر اپنی تمام توانائیاں صرف کر دیں اور نتیجتاً 2000 میں پاکستانی مقبوضہ جموں کشمیر اور گلگت بلتستان کی 13 قوم پرست سیاسی جماعتوں کا اتحاد آل پارٹیز نیشنل الائنس (اپنا) کے نام سے قائم کیا – ریاست جموں کشمیر کی تقسیم سے لے کر ریاست کے پاکستانی مقبوضہ علاقوں میں یە اپنی نوعیت کا پہلا اتحاد تھا – عارف شاھد کو اس اتحاد کا پہلا سیکرٹری جنرل منتخب کیا گیا – فروری 2001 میں مشترکہ سیاسی سرگرمیوں کی پاداش میں اپنا کی ساری قیادت کو گرفتار کر لیا گیا – ان گرفتاریوں نے پاکستانی مقبوضہ گلگت بلتستان اور جموں کشمیر کے عوام کو ایک دوسرے کے مزید قریب کیا اور پچاس سال سے زائد عرصے کی دوریاں مشترکہ جدوجہد کی شکل میں ڈھلنے لگیں –
2001 کے انتخابات میں پاکستانی مقبوضہ جموں کشمیر کے قوم پرستوں نے الحاق پاکستان کی شق کاٹ کر انتخابات لڑنے کا فیصلە کیا مگر ان کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دئیے گئے – اس دھونس کے خلاف چلائی جانے والی تحریک کے دوران عارف شاھد کو پھر گرفتار کریا گیا –
عارف شاھد نے پاکستانی مقبوضہ جموں کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام اور سیاسی جماعتوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں بنیادی اور کلیدی کردار ادا کیا –
جون 2012 میں کیرن وادی نیلم کے مقام پر عارف شاھد نے ریاست جموں کشمیر کے تینوں منقسم حصوں کے عوام کا مشترکہ مارچ منعقد کروا کے ریاست کی قومی آزادی اور یکجہتی کی تحریک میں ایک نئی تاریخ رقم کی –
پاکستان کی خفیہ ایجنسئیوں کو منقسم ریاست جموں کشمیر کے عوام کو باھم متحد اور منظم کرنے کی عارف شاھد کی یە سرگرمیاں ایک آنکھ نہیں بھاتی تھیں –
چنانچە 13 مئی 2013 کی شام کو راولپنڈی میں عارف شاھد کو ان کے گھر کے گیٹ پر گولیوں سے بھون کر منقسم ریاست جموں کشمیر کی وحدت کی بحالی کی اس گرجدار اور سب سے زیادہ جاندار آواز کو ھمیشہ کے لئیے خاموش کر دیا گیا –
پاکستان نے آج تک عارف شاھد شہید کے قاتلوں کو گرفتار نہیں کیا –
ثمینہ راجہ – جموں و کشمیر –

Author: Naseer Chohan

تبصرہ جات بذریعہ فیس بک

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply