اگر فائرنگ ہو تو ۔۔۔۔۔!

جواد احمد پارس

جس زمانے میں میں نے آنکھ کھولی زندگی نیلم ویلی میں عجیب سے ناامیدی کا شکار تھی۔ ہمارے گھر کے بالکل سامنے انڈین آرمی کی پوسٹیں ہیں نوے کی دہائی میں وہاں اکا دکا ہی مورچے نظر آتے تھے مگر اب یوں لگتا ہے جیسے پورا قلعہ تعمیر کیا گیا ہے اور اس پر جگہ جگہ مورچے بنائے گئے ہیں جب ہوش سنبھالا تو نیلم ویلی مظفرآباد کا حصہ تھا اور اس دور میں دراوہ کہلاتا تھا۔ دراوے کے لوگوں کو مظفرآباد میں ’’ پینڈو‘‘ سمجھا جاتا تھا اور سمجھا بھی کیوں نہ جائے یہ لوگ زندگی کے ہر میدان میں بہت پیچھے بلکہ پتھر کے دور میں رہ رہے تھے میرا بچپن بلکہ مجھ جیسے ہزاروں بچوں کے اس خواب میں گزرا ہے کہ ہم بڑے ہو کر کسی آرمی کیمپ میں جائیں گے لشکر طیبہ، جیش محمد یا حرکت المجاہدین کی چک پر جا کر ٹریننگ کریں گے اور کمانڈر بن کر بھارتی فوجیوں کو جہنم واصل کرنے کشمیر جائیں گے اور ایسا لٹریچر بھی بیش بہا موجود تھا۔ میں نے جب اسکول میں داخلہ لیا تو میری امی مجھے چھوڑنے جاتیں اور واپس بھی خود لے کر آتی تھیں ہمارا اسکول تھوڑی محفوظ جگہ پر تھا مگر گولہ لگنے کی دیر ہوتی تھی ہمیں چھٹی دے دی جاتی اور گھر پہنچنے کی ترغیب دی جاتی ہم بھی خوشی سے بستے اٹھاتے اور گھر کا رخ کرتے ۔ جنگ و جدل اور نیابتی جنگ کے حقائق سے بالکل نا آشنا تھے،مجھے یاد ہے کہ ہم چار بہن بھائی تھے ابو گھر پر نہیں ہوتے تھے رات گئے تک گولہ باری ہوتی ہماری گھر میں کھڑکی کے سامنے کوئی روشنی نہیں جلتی تھی یا پھر اگر جلتی تھی تو کھڑکی پر پردہ ڈال دیا جاتا ہے اور باہر جا کر یہ اطمینان کر لیا جاتا تھا کہ کہیں روشنی باہر تو نہیں جا رہی ہے۔ رات گئے جب دونوں طرف سے گولہ باری تھمتی تو سکون کی نیند میسر ہوتی تھی مگر امی کے لئے وہ بھی حرام تھی وہ ہم بہن بھائیوں کو لے کر اسی فکر میں لگی رہتی تھیں کہ کس وقت گولہ باری شروع ہو اور کس وقت ہمیں جگاکر محفوظ اوٹ میں پہنچائیں، ڈر اور خوف کی وجہ سے ہم بچے ہر شام بخار میں مبتلا ہو جاتے تھے صبح کے وقت جونہی گولہ باری شروع ہوتی تھی امی ہمیں دیوار کے ساتھ لگی الماری کی اوٹ بھی لے کر دبک جاتیں جیسے مرغی اپنے بچوں کو وحشی باز کے ڈر سے اپنے پروں میں چھپا لیتی ہے اور سہہ پہر تک یا اس وقت تک دبکی رہتی جب تک کہ گولہ باری ختم نہ ہو جائے ۔ ہمیں گھر کی دوسری منزل پر نہیں جانے دیا جاتا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ گولا لگے اور وہ دوسری منزل کو ہی تباہ کرے گا اس لئے ہمارے گھر میں رہائش بھی پہلی منزل پر ہی تھی ۔ شام کے وقت ہم دنیا بھر کے بچوں کی طرح کھیتوں میں کھیلنے نہیں جا سکتے تھے کہ کہیں گولہ نہ لگ جائے اور ہم اس کا لقمہ نہ بن جائیں اور ابو بڑی سختی سے منع کر کے جاتے تھے۔ ہم اسکول نہیں جا سکتے تھے امی اسکول تیار کر کے بھیجتی اور گولہ لگتے ہی امی کو یہ فکر لاحق ہو جاتی کہ ہم کس وقت گھر واپس پہنچیں گے۔ اسکول کیا تھا جانا اور آنے کی ریہرسل تھی گولہ لگتے ہی چھٹی ہو جاتی اور ہم چھپتے چھپاتے گھر پہنچ جاتے ابو شام میں یا رات میں گھر واپس آتے تھے ان کی الگ سے فکر لگی رہتی تھی جب وہ گھر پہنچتے تو ہم سب سکون کا سانس لیتے مگر یہ فکر تو روز کی تھی کسی ایک دن کی نہیں تھی۔ ہمارا مورچہ بنا تو دن بھر مورچے میں پورے خاندان کے ساتھ دبکے رہتے تھے دن اور رات کا کھانا وہیں ہوتا تھا اس پر سانپوں کا خوف الگ ہوتا تھا والدین خواہ خود باہر جائیں مگر ہمیں سختی سے ممانعت تھی کہ مورچے سے باہر قدم بھی نہیں رکھنا۔ میرے تایا کے گھر میں مویشی خانہ تھا جو کہ بالکل زمین میں تھا ۔ وہ لوگ دن بھر وہاں دبکے رہتے تھے ایک طرف مویشی بندھے ہوتے تھے ایک طرف وہ سب چارپائیاں لگا کر باہر گولہ باری کی کمی کا انتظار کرتے تھے اسکول ہفتوں میں جانا ہوتا تھا اساتذہ جو دور دراز رہتے تھے وہ آتے نہیں تھے تو تعلیم کی جو بنیاد تب بننی تھی نہ بن سکی جس کا خمیازہ آج بھی بھگتنا پڑ رہا ہے۔ ہر دوسری خبر یہی ہوتی تھی کہ فلاں جگہ پر فلاں شخص کا بھائی بہن ، بیوی ، بیٹی ، خاوند بھارتی گولہ باری کی نذر ہو گیا ہے۔ میرے محلے میں کئی لوگ اس گولہ باری کی نذر ہو گئے ۔ ایک خاتون کو رات میں روٹی بناتے وقت گولہ لگا اور وہ شہید ہو گئی۔ اس کے خاوند پہلے ہی بستر پر تھا اور سسر موذن تھا جس کی آواز میں ایک مدت تک سوز محسوس کیا جاتا رہا ہے ۔ میرے رشتے کا ایک چچا فوج کی پوسٹ پر گولے لے جاتے ہوئے شہید ہو گیا۔ فوج بگار لیتی تھی رات کی تاریکی میں لوگوں کو ان کے گھروں سے اٹھاتی تھی اور ان کو رات کی تاریکی میں ایک ایک من وزنی بارود اٹھوا کر تین تین سو کلو میٹر پیدل چلواتی تھی اور جو نہیں جاتا تھا اس کے ساتھ زبردستی کی جاتی تھی ایسی کئی کہانیاں مشہور ہیں جن میں فوج نے جبری مشقت لی اور مشقت کرنے والوں کو ادائیگی بھی نہیں کی جاتی تھی۔
نیلم ویلی میں تین مقامات ایسے ہیں جہاں انڈین آرمی بالکل سامنے بیٹھی ہوئی ہے اور اگر وہاں سے پرندہ بھی پر مارتا ہے تو بھارتی فوج کی نظر پڑ جاتی ہے اور اس کو سز بھگتنی پڑتی ہے ۔پہلی مظفرآباد سے جاتے ہوئے ٹیٹوال پر آتی ہے جہاں پر ہزاروں لوگ لقمہ اجل بنے اور ان کے کوئی اعداد و شمار نہیں ہیں ۔ لوگ مظفرآباد آنے کے لئے تین گھنٹوں کے بجائے تین دن کا خطرناک سفر کرتے تھے دکانوں پر بروقت راشن نہیں ملتا تھا اور لوگ روکھی سوکھی کھانے پر مجبور تھے ۔ دوسری جگہ اٹھمقام بگنہ سے لے کر لوات تک ہے ستھریاں کے مقام پر ایسے ہی ہزاروں لوگ بھارتی بربریت کا نشانہ بنے۔ جن کا نام کسی تاریخ میں درج نہیں ہے۔ نیلم ویلی میں مقامی طور پر کوئی معیشت نہیں تھی تعلیم کا کوئی بندوبست نہیں تھا اگر کو ئی اسکول تھا تو وہ گولہ باری کی نظر ہو گیا تھا۔ سرکاری دفاتر تو موجود تھے مگر دو لاکھ کی آبادی کے لئے ان میں بیٹھنے والا کوئی نہیں تھا۔ ہماری دو نسلیں یا تو ڈرائیور اور کنڈیکٹر بنی ہیں یا پھر پانچویں آٹھویں اور دسویں تک پڑھ کر پنجاب اور سندھ کے ہوٹلوں میں برتن دھونے جھاڑو مارنے یا پھر بنگلوں پر چوکیداری کرنے کے لئے دستیاب تھیں۔ وہ نسل جو اس دور میں جوان ہوئی ہے آج بھی وہی کر رہی ہے۔ کوئی زیادہ خوش قسمت تھا تو وہ پلمبر یا الیکٹریشن بن گیا ۔ اور ہمارے معاشرے میں اس وقت اس کی کافی عزت ہوتی تھی۔ جس وقت دنیا گوگل دریافت کر چکی تھی انسان چاند کے بعد مریخ پر پہنچ چکا تھا۔ علم و منطق کے نئے مینار تعمیر ہو رہے تھے۔ ترقی اور ٹیکنالوجی کی نئی راہیں کھل رہی تھیں ہم اس وقت چوکیداری کے لئے تیار ہو رہے تھے ہم اس وقت ہوٹل پر برتن مانجھنے کو خوش قسمتی سمجھ رہے تھے۔ یا پھر کس کے ڈرائیور بننا اپنی مقدر سمجھ رہے تھے۔ نیلم ویلی والے پرویز مشرف کے ہمیشہ ممنون رہیں گے کہ اس کی وجہ سے نیلم میں امن قائم ہوا ہمارے نوجوان تعلیم میں آگے آنے لگے۔ مظفرآباد سے لے کر کراچی تک ہر جگہ انہوں نے پچھلے دس سالوں میں تعلیمی اور عملی میدان میں کامیابیوں کے جھنڈرے گاڑے لوگ یورپ تک پہنچ گئے عقل و شعور کی نئی جہتیں متعارف ہوئیں۔ تعمیر و ترقی شروع ہوئی جب 2003 میں جنگ بندی ہوئی تو 2005 میں نیلم کو ضلع کا درجہ مل گیا پرانی بوسیدہ عمارتیں جن میں جابجا گولیوں کے نشانات تھے جن کی دیواریں کسی بیوہ کی چادر کی طرح جگہ جگہ سے پھٹی ہوئی تھیں دوبارہ مرمت ہوئی اور تعمیر ہوئیں نیلم ویلی میں گزشتہ پانچ سال میں سیاحت کی بھر مار رہی اور لاکھوں سیاحوں نے نیلم ویلی کارخ کیا۔نیلم کے لوگوں نے کاروبار شروع کیا تو معاشی بالیدگی دیکھی گئی۔ وہ چولہے جن پر خشک روٹی چڑھتی تھی اب ہر وقت جلنے لگے۔ لوگ لاکھ سے کروڑ پتی ہونے لگے ۔ تعمیر و ترقی کی نئی راہیں کھلنے لگیں مگر ایک مرتبہ پھر امن کے دشمن اور موت کے سوداگر دونوں طرف سے نیلم ویلی کی عوام پر چڑھ دوڑ رہے ہیں اب اگر گولہ باری شروع ہوتی ہے تو کروڑوں کی انویسٹمنٹ صفر پر آ جائے گی تعمیر و ترقی میں ہم واپس 2002 میں پہنچ جائیں گے ۔ہماری معیشت، معاشرت، سیاست ، سماجیت، تعمیر و ترقی سب داؤ پر لگ جائے گی ہم اب اس کے مستعمل نہیں ہو سکتے ہم اپنی اگلی نسل اور موجودہ نسل کا مستقبل داؤ پر نہیں لگا سکتے ۔ ہم ایک مرتبہ پھر ناامیدی اور کشمکش کی زندگی کی طرف نہیں لوٹ سکتے ۔ ہم اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں سے برباد نہیں کر سکتے ۔اگر پاکستانی فوج کو 1800 کلو میٹر لمبی سرحد کو چھوڑ کر چند کلو میٹر ایل او سی پر جنگ کرنا ہے تو اپنے خاندان کو تمام فوجی اور جرنیل جو اس پٹی پر جنگ کر رہے ہیں ہمارے ساتھ نیلم ویلی میں چھوڑیں ان کے بچوں کو ہم اپنے گھروں میں جگہ دیں گے وہ ہمارے ساتھ رہیں کھائیں پئیں اور جنگ کو برداشت کریں تمام بیوریوکریسی کو بھی یہی کرنا ہو گا۔ ہم اپنے گھروں کا ایک حصہ ان کو دیں گے اور ایک حصے میں خود رہیں گے ، اور ان کے ساتھ اگلے مورچوں پر کھڑ ے ہو کر جنگ کریں گے اور ہندو دشمن کو صفحہ ہستی سے مٹائیں گے سرینگر تو اپنا ہے ہی لال قلعے پر بھی جھنڈرے لہرائیں گے اور اگر وہ ایسا نہیں کر سکتے تو خدا راہ ہمیں معاف کریں بین الاقوامی سرحد پر جنگ کریں ہمیں بچوں کا مستقبل برباد مت کریں ہمیں سکون سے جینے دیں ۔ ابھی تو ہم نے جینا سیکھا تھا ہمیں کیوں پھر مارنا چاہ رہے ہیں۔

Author: جواد احمد پارس

جواداحمدپارس کا تعلق پاکستانی زیر انتظام کشمیر سے ہے. آپ اقتصادیات کے طالب علم ہیں شاعر ، افسانہ نگار اور کالم نگار ہیں. کشمیری سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں

تبصرہ جات بذریعہ فیس بک

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply