ہانی بلوچ اور۔۔۔۔۔ پاکستان

جواد احمد پارسؔ

میں انگشت بدنداں تھا میرے سامنے ایک اٹھارہ انیس سال کی لڑکی بیٹھی تھی جس کی ویڈیوز اور تصویریں میں پچھلے دو ماہ سے سوشل میڈیا پر دیکھ رہا تھا۔ دسیوں لوگوں کی موجودگی میں وہ گم سم اور سہمی سہمی لگتی تھی بالکل اس بچے کی طرح جس سے اس کی سوتیلی ماں نے اس کے کھلونے چھین لیے ہوں اور سختی سے منع کیا ہو کہ اگر اس نے آواز نکالی یا کھلونے مانگنے کی کوشش کی تو وہ اس کا گلا دبا دے گی۔ اس کے ساتھ اس کی چھوٹی بہن تھی معصوم سی پری دبک کر بیٹھی ہوئی تھی جیسے کوئی خطرناک جن سامنے کی دیوار کے پیچھے چھپا ہوا ہے اور ابھی اس پر جھپٹنے والا ہے۔ سہمی لڑکی کو اسٹیج پر بلایا گیا اس کے قدم ڈگمگا نہیں رہے تھے کہیں سے بھی اس کی چال سے یہ نہیں لگ رہا تھا کہ وہ سہمی ہوئی ہے ، وہ پرجوش نہیں تھی پرسکون تھی بالکل ویسا ہی سکون جیسے سمندر میں ہوتا ہے ویسا ہی سکون جو طوفان سے قبل ہوتا ہے۔میں نے سوچا ابھی لاوا پھٹنے والا ہے طوفان اٹھنے والا ہے لیکن وہ سکوت قائم رہا۔

ہانی بلوچ مسنگ عبدالواحد بلوچ کی بیٹی ہے جن کو اڑھائی ماہ قبل حیدرآباد سے کراچی آتے ہوئے راستے سے اغواء کیا گیا اور تاحال ان کا کوئی پتا نہیں ہے۔ عبدالواحد بلوچ علمی و ادبی ، سیاسی و سماجی آدمی تھے۔ ان سے غلطی ہو گئی کہ انہوں نے بلوچستان کے حقوق کی بات کی ۔ میں نے سوچا کہ یہ لاوا پھٹے گا تو پاکستان کے خلاف پھٹے گا ۔ ان لوگوں کے خلاف پھٹے گا جنہوں نے عبدالواحد بلوچ کو اغواء کیا مگر وہاں صرف سوالات تھے سوالات ایسے کہ اندر تک مار دیتے تھے ۔ موت سے انسان بار بار مرتا ہے مگر ہانی بلوچ کو سننے والا ہر شخص ہر لمحہ مر رہا ہے اور یہ وہ مرگ تھی جس کا تعلق روح سے بتایا جاتا ہے ۔ ہانی بلوچ کے سوالات تھے میرے بابا کا جرم کیا ہے؟ ان کا گناہ کیا ہے؟ کیا وہ دہشت گرد ہیں؟ کیا وہ قاتل ہیں؟ کیا وہ غدار ہیں ؟ ان کا کوئی بھی جرم ہے تو ہمیں بتایا جائے۔ میرے بابا کے خلاف مقدمہ قائم کیا جائے انہیں عدالت میں پیش کیا جائے ۔ ان کا جو بھی جرم ہے اسے منظر عام پر لایا جائے ۔ ہمیں بتایا جائے کہ ہماری اس ملک میں کیا حیثیت ہے۔ ہم کس قانون کے تحت زندگی گزار رہے ہیں اور کس قانون کے تحت زندگی گزارنی ہے اگر ہم غلط طریقے سے زندگی گزار رہے ہیں تو ہمیں صحیح طریقہ بتایا جائے وہ اصول وہ قانون وہ طریقہ بتایا جائے جس کے تحت ہم زندگی گزاریں ۔ ہم پرامن رہ کر زندگی گزاریں ۔ آسودہ زندگی گزاریں ۔ کیا اس ملک میں کوئی قانون نہیں ہے؟ اس ملک کی عدالتیں کس لیے بنائی گئی ہیں؟ انہوں نے تاریخی حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 2016 میں ہمیں کیا یہ حق حاصل نہیں ہے کہ ہمیں ڈیموکریٹک رائٹس مل سکیں ہمیں انصاف مل سکے؟ کیا میں یہ سوال پوچھ سکتی ہوں کہ تین مہینے ہو گئے ہیں میرے بابا کو ان کو کیوں اٹھایا گیا؟ وہ جرم بتایا جائے اگر انہوں نے جرم کیا ہے تو وہ قبول ہو گا انہیں عدالت میں سزا دی جائے۔میرے بابا پڑھے لکھے اور ادبی انسان تھے وہ انسانیت سے محبت کرتے تھے۔ ہانیہ بلوچ نے نام نہاد مفکرین سیاست دانوں اور ملک کی سلامتی کے چمپیئنز سے سوال کیا کہ مجھے اپنی بیٹی کی جگہ رکھ کر دیکھو اگر کسی کا باپ گھر دیر سے آتا ہے تو اس کے بچوں کی حالت کیا ہو گی ۔ ہمارے بابا کو تو تین ماہ ہو گئے ہیں اور کوئی ہمیں یہ بتانے والے نہیں ہے کہ ہمارے بابا کہاں ہیں؟ کیا ہمیں اتنا حق نہیں ہے کہ ہم اپنے حق کی بات کریں۔میں انصاف مانگ رہی ہوں مجھے انصاف کیوں نہیں مل رہا؟؟

ہانیہ کے سوالات ٹھوس اور سنجیدہ تھے یہ صرف ہانیہ کے نہیں ہزاروں بیٹیوں کے سوالات تھے جو لبوں تک آ کر کسی انجانے اور ان دیکھے خوف کی وجہ سے رک جاتے ہیں وہ انجانہ خوف جان مال عزت آبرو کچھ بھی ہو سکتا ہے مگر ہانیہ نے ہمت کی ہے ہانیہ ظلم کا راستہ روک کر کھڑی ہو گئی ہے وہ بار بار سوالات کر رہی ہے۔ اس کے سوالات ایک ماں سے ،ایک بہن سے، ایک بیٹی سے، ایک باپ سے، ایک بھائی سے ، ایک بیٹے سے اور پوری قوم سے ہیں۔ اس قوم سے ہیں جو ہزار اختلاف کے باوجود ہندوستان کے ساتھ ہمہ وقت جنگ لڑنے کے لیے تیار ہے،جس کی قومی سلامتی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے جس کو اپنے اندر ہزاروں غدار اور دشمن پھرتے نظر آتے ہیں ہانیہ نے خبردار کیا ہے کہ آج میرے بابا تھے کل تمہارے ہوں گے ۔ آج میں اپنے بابا کی تلاش میں بھٹک رہی ہوں کل تم بھی ایسے بھٹک سکتے ہو۔ ہانیہ اپنی ماں اور دادی کا ذکر کرتے ہوئے رنجیدہ ہو گئیں ۔ ایک بیٹی اپنے باپ کے گھر لوٹنے کا پچھلے تین ماہ سے انتظار کر رہی ہے۔ وہ صبح شام اس کی راہ تک رہی ہے جس راہ پر وہ گھر سے نکلا تھا ، جس راہ پر ہزاروں بلوچ گھر سے نکلے مگر واپس نہیں آ سکے مگر ہانیہ پر امید ہے اسے اپنے بابا کی واپسی کی امید ہے میری دعا ہے کہ ہانیہ جلد اپنے بابا سے اسی حالت میں مل سکے جس حالت میں اسکے بابا گھر سے نکلے تھے اگر ایسا نہ ہوا تو یہ سوال کئی لبوں پر رہے گا کیا ہانیہ کبھی پاکستان سے محبت کر سکے گی؟ مجھے امید ہے کہ ہانی کی آواز کل پورے پاکستان کی آواز بنے گی۔

Author: جواد احمد پارس

جواداحمدپارس کا تعلق پاکستانی زیر انتظام کشمیر سے ہے. آپ اقتصادیات کے طالب علم ہیں شاعر ، افسانہ نگار اور کالم نگار ہیں. کشمیری سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں

تبصرہ جات بذریعہ فیس بک

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply