تحریک آزادی کشمیر فیصلہ کن موڑ میں داخل ہو چکی ہے بیرسٹر سلطان محمود چوہدری

آزاد کشمیر کے سابق وزیر اعظم و پی ٹی آئی کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا ہے کہ تحریک آزاد کشمیر فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ پاکستان کے عوام اور مسلح افواج پر ہمیں پورا یقین ہے کہ وہ کشمیر کی آزادی کے لئے اتنے ہی مخلص اور سنجیدہ ہیں جتنے کہ کشمیری خود ہیں لیکن جب پاکستان کی حکمران جماعت کا لیڈر مودی اور جندال کے ساتھ ملکر سازشیں کررہا ہو تو ان حالات میں ہم کشمیریوں کو خود تحریک آزادی کو آگے بڑھانے کے لئے آگے بڑھنا ہو گا۔اسی لئے میں نے اس سال دونوں اطراف کشمیر سے سیئز فائر لائن توڑنے کا اعلان کر رکھا ہے۔۔ تحریک آزادیء کشمیر کا آغاز سدھنوتی سے ہوا تھا اورسدھنوتی جو کہ شہیدوں اور غازیوں کی دھرتی نے باقی لوگوں کے ساتھ ملکر کشمیر کی آزادیء کے لئے آگے کام کرنا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم پی ٹی آئی کشمیر کو منظم کریں۔ تب ہی آزاد کشمیر کا ریاستی تشخص بحال کراسکتے ہیں۔ کیونکہ آزاد کشمیر کے عوام کو آہستہ آہستہ بے اختیار کرکے رکھ دیا گیا ہے۔ اسکے لئے بھی آزاد کشمیر کے عوام کو وہ مقام حاصل کرنے کے لئے جدوجہد کرنا پڑے گی کیونکہ ہمارے آباؤ اجداد نے یہ خطہ اپنے زور بازو سے آزاد کرایا تھااوراس آزادی کے بیس کیمپ کا تحفظ اور وہ مقام بھی ہم ہی نے بحال کرانا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے آج یہاں راولاکوٹ میں پی ٹی آئی کشمیر کے کارکنوں اور ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر پی ٹی آئی کشمیر کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات سردار امتیاز خان، پی ٹی آئی کشمیر امریکہ کے صدر سردار عرفان تصدق کمال، سردار تسلیم، طاہر شاہین، سردار افتخار، سعود ایڈووکیٹ، سردار نثار اور دیگر بھی موجود تھے۔ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا کہ نواز شریف نے آزاد کشمیرکے الیکشن میں عوامی مینڈیٹ اسی لئے چرایا تاکہ تقسیم کشمیر کی راہ ہموار کی جا سکے اوراس سے مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر کے الیکشن میں فرق ختم ہو کر رہ گیا کیونکہ مقبوضہ کشمیر میں بھی دھاندلی اور فراڈ والے الیکشن ہوتے ہیں اور اس دفعہ آزاد کشمیر میں بھی دھاندلی کراکے یہ فرق ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔ اگرچہ میں دنیا بھر میں اس فرق کو واضح کرنے کی کوشش کرتا ہوں اگرچہ میں نے ان انتخابات کا دفاع تو نہیں کیا لیکن میں عالمی سطح پر آزاد کشمیر کے انتخابات میں دھاندلی کا ایشو نہیں اٹھایاا کیونکہ اس سے ہمارا کیس کمزور ہوتا ہے لیکن آزاد کشمیر کے غیرتمند اور غیور عوام نے ان انتخابات کو قبول نہیں کیا۔بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا کہ میں نے اپنے دور حکومت میں حکومت پاکستان سے یہ طے کیا تھا کہ وہاں کے لینٹ آفیسر اگر آزاد کشمیر میں ہیں تو آزاد کشمیر کے سینئر افسران کو بھی پاکستان میں برابری کی بنیاد پر لگایا جائے گا۔ اس طرح کچھ افسران کواسوقت پاکستان میں لگایا گیا تھا جبکہ بعد میں اس پر آنے والی حکمتوں نے توجہ نہیں دی۔بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا کہ چوہدری مجید اور راجہ فاروق حیدرقومی اسمبلی اسپیکر ایاز صادق کے سامنے آنسو بہاتے تھے مگر ریاستی تشخص مجروع ہونے پر آج خاموش ہیں اور آج اس ترمیم کی بھی بات نہیں کرتے جو میں نے منظور وٹو سے کہہ کر شامل کرائی تھی۔آج آزاد کشمیر حکومت نواز شریف کے کہنے پرٹس سے مس نہیں ہورہی۔میں ان حکمرانوں کو وارننگ دیتا ہوں کہ لوگ اپنا حق مانگنے کے لئے نکلنے والے ہیں۔اسکے بعد جو بھی صورتحال ہو گی اسکی ذمہ داری وزارت امور کشمیر اور کشمیر کونسل پر ہوگی۔ کیونکہ آزاد کشمیر کے عوام کو وزارت امور کشمیر اور کشمیر کونسل سے چڑ ہو کیونکہ ایک جوائنٹ سیکریٹری آزاد کشمیر کے معاملات کو دیکھتا ہے۔ اب آزاد کشمیر کے عوام وزارت امور کشمیر، کشمیر کونسل اور لینٹ افسران سے نجات چاہتے ہیں اور جس طرح ہمارے قائد عمران خان نے نعرہ دیا ہے کہ کشمیر کشمیریوں کا ہے اور آزاد کشمیر کے فیصلے آزاد کشمیر میں ہونے پر عملدرآمد کرتے ہوئے ہم کٹھ پتلی حکومت کو چیلنج کرنے کے لئے تیار ہیں۔***

تبصرہ جات بذریعہ فیس بک

اپنا تبصرہ لکھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں