سلمان خان کو ملنے والی لڑکی کون ہے؟

بولی وڈ سلطان سلمان خان نہ صرف اپنی فلموں کے ذریعے نئی لڑکیوں کو متعارف کرانے کے حوالے سے انڈسٹری میں شہرت رکھتے ہیں، بلکہ وہ تاحال شادی نہ کرنے کی وجہ سے بھی شہ سرخیوں میں رہتے ہیں۔ساتھ ہی وہ نئے اداکاروں و ڈائریکٹرز کو بھی انڈسٹری میں متعارف کراتے رہتے ہیں۔ گزشتہ چند ہفتوں سے سلمان خان کی شادی سے متعلق افواہیں ویسے بھی گرم تھی اور ایسے میں سلمان خان نے اچانک ادھوری ٹوئیٹ کی کہ انہیں لڑکی مل گئی ہے۔ سلو بھائی کی ٹوئیٹ کو اگرچہ زیادہ تر لوگوں نے سنجیدہ نہیں لیا، اور ان کے مداح سمجھ گئے کہ انہیں اپنی کسی آنے والی فلم کے لیے لڑکی مل گئی ہے، تاہم تمام لوگوں کے اندازے غلط نکلے۔ مداحوں نے سلمان خان کو مخاطب ہوتے ہوئے لکھا کہ کس فلم کے لیے کون سی لڑکی ملی ہے، کچھ لوگوں نے تو انہیں لڑکی ڈھونڈنے پر مبارکباد بھی پیش کی۔ تاہم جلد ہی سلو بھائی نے اپنے مداحوں کی کنفیوژن دور کرنے کے لیے ایک اور وضاحتی ٹوئیٹ کی اور ساتھ ہی لڑکی کی تصویر بھی شیئر کی۔ سلمان خان نے اپنی وضاحتی ٹوئیٹ میں بتایا کہ انہیں اپنی بہن ارپیتا خان شرما کے شوہر کی پہلی بولی وڈ فلم ’لو راتری‘ کی ہیروئن لڑکی ’ورینہ‘ مل گئی۔ لیکن زیادہ تر لوگ ورینہ کو نہیں جانتے۔ ورینہ حسین دراصل بھارت کی نئی ماڈل ہیں، جو اداکاری میں اپنی جگہ بنانےکے لیے کوشاں ہیں۔ ان کے آفیشل فیس بک پیج کے مطابق ’ورینہ حسین‘ 23 فروری کو عراقی والد اور افغانی والدہ کے ہاں پیدا ہوئی۔ ورینہ حسین نے 2013 میں ممبئی سے ماڈلنگ کی شروعات کی، اور اب تک وہ متعدد منصوبوں میں نظر آچکی ہیں، تاہم اب وہ پہلی بار بولی وڈ فلم میں نظر آئیں گی۔ ادب اور سوشل ورک میں دلچسپی رکھنے والی ورینہ حسین خود کو پیشے کے لحاظ سے اداکار مانتی ہیں۔ انسٹاگرام پر ان کی محض 5 پوسٹیں ہیں، اور ان کے فالوؤرز کی تعداد 20 ہزار ہے، تاہم بھارتی میڈیا میں یہ خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ انہوں نے سلمان خان کے اعلان سے قبل اپنی دیگر پوسٹیں ڈیلیٹ کردیں۔ ورینہ حسین جلد ہی سلمان خان کے بہنوئی آیش شرما کے ساتھ فلم ’لو راتری‘ میں رومانس کرتی نظر آئیں گی۔ اس فلم کی خاص بات یہ ہوگی کہ اس کی ہدایات ابھیراج منولہ دیں گے ، جن کی بطور ڈائریکٹر یہ پہلی فلم ہوگی، اس سے قبل وہ سلمان خان کی فلم ’سلطان‘ میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی ذمہ داریاں نبھا چکے ہیں۔ فلم کی شوٹنگ ریاست گجرات سمیت بھارت کی دیگر ریاستوں میں کی جائے گی۔

Author: News Editor

تبصرہ جات بذریعہ فیس بک

اپنا تبصرہ لکھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں