عاصمہ جہانگیر اور نظریاتی بونے تحریر: جواد احمد پارس

عاصمہ جہانگیر کی وفات کے ساتھ ہی پاکستان میں ایک بے ہودہ طبقہ متحرک ہو گیا اس طبقے نے ان کی کچھ تصایر سوشل میڈیا اور گوگل سے اٹھائیں اور ان پر اپنی نحوست جہالت اور گھٹیا پن جھاڑنے لگے۔ کسی نے جہنم میں جانے کا اعلان کر دیا اور سرٹیفیکیٹ دینے بیٹھ گئے ایک شخص نے تو یہ سوال بھی کیا کہ اب اس کا جنازہ کسی لبرل سے پڑھایا جائے اور کسی لبرل قبرستان میں دفن کیا جائے، کسی نے انہیں انڈیا کا ایجنٹ قرار دے دیا اور وطن دشمنی کی سندیں تیار کرنے لگ گئے کسی نے انہیں انسانی حقوق کی بات کرتے ہوئے کشمیر کا ذکر نہ کرنے کی بات کی تو کسی نے ان کے ذاتی کردار پر انگلی اٹھانا شروع کر دی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ ہیں کون لوگ؟ اور اس قدر طوفان بدتمیزی کیوں کرتے ہیں؟

عاصمہ جہانگیر اب ہم میں نہیں رہیں قریبا پانچ دھاہئیوں پر محیط ان کی جدوجہد فقط انسانی بنیادوں پر رہی اور گھسے پٹے رلتے ہوئے طبقے کے لیے رہی کئی دفعہ انہیں عہدوں کی پیشکش کی گئی جو انہوں نے ٹھکرا دی ہر سال غریب طبقے کے پچاس سے زیادہ کیسز مفت لڑتی رہیں۔ بات کشمیر کی ہو یا فلسطین کی ہو، بلوچستان کی ہو یا فاٹا کی ہو افغانستان کی ہو یا روہنگیا کی ہو وہ ہر جرم اور ہر ظلم کے خلاف بولتی رہیں۔ اور آمریت اور آمروں کے خلاف ڈٹی رہیں اور جمہور پسندوں کے ظلم کو للکارتی رہیں۔ پاکستان میں ان کے قد کاٹھ کا شاید ہی کوئی شخص پیدا ہوا ہو جو ذاتی مقاصد کو الگ رکھ کر صرف انسانی حقوق کے لیے لڑتا رہا ہو بلکہ اس کی زندگی کا مقصد ہی انسانی حقوق ہوں اور کہیں بھی مفاد کا ذرا سا دھبہ بھی نہ ہو۔

وہ ایک جانب کشمیر میں ہندوستانی جرائم کو تنقید کا نشانہ بناتی ہیں تو دوسری جانب ہندوستان سے امن اور محبت سے رہنے کا درس بھی دیتی ہوئی نظر آتی ہیں اور واہگہ پر ہندوستانی صحافیوں اور سول رائٹس کی تنظمیوں کے ساتھ موم بتیاں جلا کر امن کا پیغام بھی دینا چاہتی ہیں۔ ان کا فلسفہ عدم تشدد مساوات اور محبت کا فلسفہ تھا ظاہر ہے گاندھی ، باچا خان اور بہت سارے مفکرین کا یہی فلسفہ تھا جو تشدد پسند اس ہجوم کو کب منظور ہو سکتا ہے جو صرف پانچ روپے اور گاڑی کو اوور ٹیک پر لڑ پڑتے ہیں۔ ایسے میں عاصمہ جہانگیر بھلا کیسے ان عناصر کو قبول ہو سکتی تھیں۔

آخر وہ کون لوگ تھے جس کے لیے یہ نڈر اور بے باک خاتون ساری زندگی لڑتی رہی۔ بدقسمتی سے وہی یہی کمبخت طبقہ ہے جو کہیں مڈل کلاس، کہیں لوئر مڈل کلاس اور کہیں غربت میں زندگی بسر کر رہا ہے شہریوں آزادیوں کا سب سے بڑا فائدہ کون سے سرمایہ دار، جاگیر دار، وڈیرے، بیوروکریٹ، جج، وکیل یا ڈکٹیٹر کو ہونا تھا، ان میں سے کس کے بنیادی انسانی حقوق صلب ہو رہے تھے؟ کس کے بچے بھلا چائلڈ لیبر کے زمرے میں آ رہے تھے؟ کس کی خواتین کو زندگی گھٹ گھٹ کر جینا پڑتی تھی؟ یہ وہی لوگ ہیں جنہیں عرف عام میں عوام کہا جاتا ہے

ایک سرمایہ دار کے لیے آمریت ہو یا جمہوریت فرق نہیں پڑتا کیونکہ دونوں اسی کے مفاد میں ہوتے ہیں بالکل اسی طرح اس کا تعلق انسانی حقوق سے بھی نہیں ہوتا کیونکہ اس کے اوپر کوئی طاقت نہیں ہوتی ہے جو اس کے حقوق سلب کرے۔ سیاسی جدوجہد اور معاشتی تنگدستی اس کے لیے بڑا مسئلہ نہیں ہوتی ہے۔ تو پھر آمریت کا نقصان اور جمہوریت کا فائدہ کس کو ہے اسی عوام کو جس کے ووٹ سے کوئی شخص انہی میں سے بااختیار بنتا ہے اور اگر وہیں آمر ہو تو یہی عوام کوڑے کھانے، قید ہونے اور مرنے کے لیے بے قیمت ہو جاتے ہیں۔

عاصمہ جہانگیر کشمیر پر جتنا بولیں اس میں انہوں نے پاکستان کے بیانیے کو سپورٹ نہیں کیا بلکہ ہمیشہ یہ کہا کہ کشمیری اپنا فیصلہ خود کریں اور اگر وہ بات نہ بھی کرتیں تو کونسی قیامت آ جانی تھیں۔ ان کے اپنے ملک کے اتنے مسائل ہیں جن سے نبٹنا ان کے لیے مشکل تھا اور پھر کشمیر، ایک طرف تو ہم ریاست جموں کشمیر کی آزادی اور خود مختاری کی بات کرتے ہیں اور دوسری طرف ہم وہیں پاکستان اور اس کے لوگوں کو اپنے مامے بنانے کے چکر میں بھی ہیں۔ کبھی یہ کیوں نہیں سوچتے کہ کانگریسی لیڈر اور ہندوستانی سول سوسائٹی کے لوگوں نے کشمیر کی آواز بلند نہیں کی کیونکہ مامے نہ تو اس طرف والے لگتے ہیں نہ اس طرف والے۔

جہاں تک بات بھارت اور پاکستان کی ہے تو اس جنگ کافائدہ صرف ملاؤں کا وہے جو اپنا مذہبی چورن اس جنگ پر فروخت کر سکتے ہیں اور اپنی کم ہمتی، تشدد پسندی اور جاہلیت کو سکون دے سکتے ہیں اور دوسری طرف ملٹری بیوروکریسی ہے جس کا خرچ پانی اسی دشمنی پر چل رہا ہے ۔ یہ دونوں ضیاء الحق کی اولادیں ہیں۔ عام آدمی کو اس جنگ کا نہ اس طرف فائدہ ہے نہ اس طرف بلکہ نقصان ہے ۔ لاکھوں کے رشتے دار بارڈر کے اس پار رہتے ہیں۔ مذہب اور قومیت کے نام پر یہ دشمنی ستر سال سے برقرار ہے اس کا نقصان اقتصادی ، اخلاقی اور معاشرتی پہلوؤں پر صرف اسی عوام کو ہوا ہے جس کی آواز عاصمہ جہانگیر بلند کرتے کرتے فوت ہو گئیں مگر اس جاہل قوم اس کو سمجھ نہیں سکی۔

بھارت میں ہندو مذہب اور ریاستی قومیت پرستی کے جنگ ارون دھتی رائے لڑ رہی ہیں تو وہاں وہ غدار اور کافر ہیں پاکستان میں عاصمہ جہانگیر لڑی رہیں تو یہاں وہ اعزازات ان کے پاس ہیں۔ لیکن پستی ہوئے ان طبقات کی آواز بھی یہی لوگ ہیں۔ نہ مذہبی انتہا پسند نہ سیاسی اشرافیہ اور نہ ہی سرمایہ دار۔ بھارت اور پاکستان میں امن صرف انہی طبقات کی فتح ہو گی ورنہ یہ جنگ جاری رہے گی۔ اور یہ طبقات کشمکش کا شکار رہیں گے

عاصمہ جہانگیر پاکستانی معاشرے میں تمام مردوں عورتوں سے زیادہ قوی اور توانا تھیں کیونکہ وہ ایک جنگجو تھیں جو امن محبت انصاف اور برابری کے لیے ہمیشہ لڑتی رہیں

Author: جواد احمد پارس

جواداحمدپارس کا تعلق پاکستانی زیر انتظام کشمیر سے ہے. آپ نے کراچی یونیورسٹی سے اقتصادیات میں ماسٹرز جبکہ ماس کمیونیکیشنز میں ماسٹرز کر رہے ہیں شاعر ، افسانہ نگار اور کالم نگار ہیں. کشمیری سیاست، فلسفہ، تاریخ، بین القوامی تعلقات اور رائے عامہ پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ ریاست جموں کشمیر کی خود مختاری کے وکیل ہیں۔

تبصرہ جات بذریعہ فیس بک

اپنا تبصرہ لکھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں